كتاب الفرائض عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
|
1: باب مَا جَاءَ مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلِوَرَثَتِهِ
باب: ترکہ کے مستحق میت کے وارث ہیں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَنَسٍ، وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا وَأَتَمَّ مَعْنَى ضَيَاعًا ضَائِعًا لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ، فَأَنَا أَعُولُهُ وَأُنْفِقُ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ( مرنے کے بعد ) کوئی مال چھوڑا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ، اور جس نے ایسی اولاد چھوڑی جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اس کی کفالت میرے ذمہ ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- زہری نے یہ حدیث «عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے اور وہ حدیث اس سے طویل اور مکمل ہے ، ¤ ۳- اس باب میں جابر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۴- «ضياعا» کا معنی یہ ہے کہ ایسی اولاد جس کے پاس کچھ نہ ہو تو میں ان کی کفالت کروں گا اور ان پر خرچ کروں گا ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2090]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسے مسلمان یتیموں اور بیواؤں کی کفالت اس حدیث کی رُو سے مسلم حاکم کے ذمے ہے کہ جن کا مورث ان کے لیے کوئی وراثت چھوڑ کر نہ مرا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح وهو طرف من حديث تقدم بتمامه (1082)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1070 (تحفة الأشراف: 151080) (صحیح)
|
|
|
2: باب مَا جَاءَ فِي تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ
باب: علم فرائض سکھانے کا بیان۔
|
|
|
وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ بِهَذَا بِمَعْنَاهُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ قَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن اور علم فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ اس لیے کہ میں وفات پانے والا ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس حدیث میں اضطراب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2091]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (244)، الإرواء (1664) // ضعيف الجامع الصغير (2450) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2091) ضعيف ¤ محمد بن القاسم:كذبوه والفضل: ضعيف (تقدما:358) ولبعض الحديث شواھد ضعيفة عند ابن ماجه (2719) وغيره، وفي السند الآخر سليمان بن جابر: مجھول (تق:2541) وكذا تلميذه: مجھول
تخریج دارالدعوہ:
تفردبہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9235) وأخرجہ النسائی من طرق (6305، 6306 من الکبری) (ضعیف) (سند میں اضطراب ہے، جس کی طرف مؤلف نے اشارہ کیا اور اس کی تفصیل نسائی میں ہے، حافظ ابن حجر کے نزدیک سند میں اختلاف کا سبب عوف ہیں، النکت الظراف، الإرواء: 1664)
|
|
|
وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَوْفٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ بِهَذَا بِمَعْنَاهُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ قَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ.
ابواسامہ نے یہ حدیث «عن عوف عن رجل عن سليمان بن جابر عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ۔ اور اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے ۔ محمد بن قاسم اسدی کو احمد بن حنبل وغیرہ نے ضعیف کہا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2091M]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (244)، الإرواء (1664) // ضعيف الجامع الصغير (2450) //
تخریج دارالدعوہ:
تفردبہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9235) وأخرجہ النسائی من طرق (6305، 6306 من الکبری) (ضعیف) (سند میں اضطراب ہے، جس کی طرف مؤلف نے اشارہ کیا اور اس کی تفصیل نسائی میں ہے، حافظ ابن حجر کے نزدیک سند میں اختلاف کا سبب عوف ہیں، النکت الظراف، الإرواء: 1664)
|
|
|
3: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْبَنَاتِ
باب: لڑکیوں کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا، فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، قَالَ: " يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ "، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا، فَقَالَ: " أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَقَدْ رَوَاهُ شَرِيكٌ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کو جو سعد سے پیدا ہوئی تھیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دونوں سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں ، ان کے باپ آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے جنگ احد میں شہید ہو گئے ہیں ، ان کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے ، اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا ، اور بغیر مال کے ان کی شادی نہیں ہو گی ۔ آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا “ ، چنانچہ اس کے بعد آیت میراث نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( لڑکیوں ) کے چچا کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو مال کا دو تہائی حصہ دے دو اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ ، اور جو بچے وہ تمہارا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل سے شریک نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2092]
💡 وضاحت:
۱؎: کل ترکہ ۲۴ حصے فرض کریں گے جن میں سے: کل وراثت میں سے بیٹیوں کا ۲/۳ (دو تہائی) =۱۶ حصے، مرنے والے کی بیوی کا ۱/۸ (آٹھواں حصہ) = ۳ حصے اور باقی بھائی کا =۵ حصے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2720)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2092) إسناده ضعيف / د 2891، جه 2720
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الفرائض 4 (2891)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 2 (2720) (تحفة الأشراف: 2365) (حسن)
|
|
|
4: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ ابْنَةِ الاِبْنِ مَعَ ابْنَةِ الصُّلْبِ
باب: بیٹی کے ساتھ پوتی کی وراثت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَسَأَلَهُمَا عَنِ الِابْنَةِ، وَأُخْتٍ لأب، وأم، فقال: للابنة النصف، وللأخت من الأب والأم ما بقي، وقالا له: انطلق إلى عبد الله، فاسأله فإنه سيتابعنا، فأتى عبد الله فذكر ذلك له وأخبره بما وَابْنَةِ الِابْنِ قَالَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ، وَلَكِنْ أَقْضِي فِيهِمَا كَمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلْأُخْتِ مَا بَقِيَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو قَيْسٍ الْأَوْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ الْكُوفِيُّ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ.
ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے ان سے بیٹی ، پوتی اور حقیقی بہن کی میراث کے بارے میں پوچھا ، ان دونوں نے جواب دیا : بیٹی کو آدھی میراث اور حقیقی بہن کو باقی حصہ ملے گا ، انہوں نے اس آدمی سے یہ بھی کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو ، وہ بھی ہماری طرح جواب دیں گے ، وہ آدمی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے پاس آیا ، ان سے مسئلہ بیان کیا اور ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ نے جو کہا تھا اسے بھی بتایا ، عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا : اگر میں بھی ویسا ہی جواب دوں تب تو میں گمراہ ہو گیا اور ہدایت یافتہ نہ رہا ، میں اس سلسلے میں اسی طرح فیصلہ کروں گا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا : بیٹی کو آدھا ملے گا ، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا تاکہ ( بیٹیوں کا مکمل حصہ ) دو تہائی پورا ہو جائے اور باقی حصہ بہن کو ملے گا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- شعبہ نے بھی ابوقیس عبدالرحمٰن بن ثروان اودی کوفی سے یہ حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2093]
💡 وضاحت:
۱؎: کل ترکہ کے (۱۲) حصے فرض کریں گے جن میں سے: مرنے والے کی بیٹی کے لیے کل ترکہ کا آدھا =۶ حصے، پوتی کے لیے چھٹا حصہ =۲ حصے اور مرنے والے کی بہن کے لیے باقی ترکہ =۴ حصے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2721)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفرائض 8 (6736)، سنن ابی داود/ الفرائض 4 (2890)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 2 (2721) (تحفة الأشراف: 9594)، ودي الفرائض 7 (2932) (صحیح)
|
|
|
5: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الإِخْوَةِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ
باب: حقیقی بھائیوں کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو «من بعد وصية توصون بها أو دين» ” تم سے کی گئی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد ( میراث تقسیم کی جائے گی ۱؎ ) “ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا ۔ ( اگر حقیقی بھائی اور علاتی بھائی دونوں موجود ہوں تو ) حقیقی بھائی وارث ہوں گے ، علاتی بھائی ( جن کے باپ ایک اور ماں دوسری ہو ) وارث نہیں ہوں گے ، آدمی اپنے حقیقی بھائی کو وارث بناتا ہے علاتی بھائی کو نہیں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2094]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: آیت کے سیاق سے ایسا لگتا ہے کہ پہلے میت کی وصیت پوری کی جائے گی، پھر اس کا قرض ادا کیا جائے گا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق پہلے قرض ادا کیا جائے گا، پھر وصیت کا نفاذ ہو گا، یہی تمام علماء کا قول بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2715)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2094، 2095) إسناده ضعيف / جه 2715 ¤ الحارث الأعور ضعيف (تقدم: 272) ولمفھوم الحديث شاھد حسن عند ابن ماجه (2433) وھو يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2094M]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2715)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2094، 2095) إسناده ضعيف / جه 2715 ¤ الحارث الأعور ضعيف (تقدم: 272) ولمفھوم الحديث شاھد حسن عند ابن ماجه (2433) وھو يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْحَارِثِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا : ” حقیقی بھائی وارث ہوں گے نہ کہ علاتی بھائی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہم اس حدیث کو صرف ابواسحاق کی روایت سے جانتے ہیں ، ابواسحاق سبیعی روایت کرتے ہیں حارث سے اور حارث ، علی رضی الله عنہ سے ، ¤ ۲- بعض اہل علم نے حارث کے بارے میں کلام کیا ہے ، ¤ ۳- عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2095]
قال الشيخ الألباني:
حسن انظر ما قبله (2094)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2094، 2095) إسناده ضعيف / جه 2715 ¤ الحارث الأعور ضعيف (تقدم: 272) ولمفھوم الحديث شاھد حسن عند ابن ماجه (2433) وھو يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الوصایا 7 (2715) (زیادةً علی الحدیث المذکور) و في الفرائض 10 (2739) (حسن)
|
|
|
6: باب مِيرَاثِ الْبَنِينَ مَعَ الْبَنَاتِ
باب: لڑکیوں کی موجودگی میں لڑکوں کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْسِمُ مَالِي بَيْنَ وَلَدِي، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، فَنَزَلَتْ: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ سورة النساء آية 11 الْآيَةَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وغيره عَنْ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کی غرض سے تشریف لائے اس وقت میں بنی سلمہ کے محلے میں بیمار تھا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں اپنا مال اپنی اولاد ۱؎ کے درمیان کیسے تقسیم کروں ؟ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا : پھر یہ آیت نازل ہوئی : «يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين» ” اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے “ ( النساء : ۱۱ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- شعبہ ، سفیان بن عیینہ اور دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث محمد بن منکدر کے واسطہ سے جابر رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2096]
💡 وضاحت:
۱؎: اگلی روایت جو صحیحین کی ہے اس میں اولاد کی بجائے بہنوں کا تذکرہ ہے، اور صحیح واقعہ بھی یہی ہے کہ جابر رضی الله عنہ کی اس وقت تو اولاد تھی ہی نہیں، اس لیے یہ روایت صحیح ہونے کے باوجود ”شاذ“ کی قبیل سے ہوئی (دیکھئیے اگلی روایت)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف و أعادہ في تفسیر النساء (3015) (تحفة الأشراف: 3066) (صحیح)
|
|
|
7: باب مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ
باب: بہنوں کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: " مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَأَتَى وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَهُمَا مَاشِيَانِ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي، أَوْ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي، فَلَمْ يُجِبْنِي شَيْئًا، وَكَانَ لَهُ تِسْعُ أَخَوَاتٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176الْآيَةَ "، قَالَ جَابِرٌ: فِيَّ نَزَلَتْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے آئے ، آپ نے مجھے بیہوش پایا ، آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی تھے ، وہ پیدل چل کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی میرے اوپر ڈال دیا ، میں ہوش میں آ گیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اپنے مال کے بارے میں کیسے فیصلہ کروں ؟ یا میں اپنے مال ( کی تقسیم ) کیسے کروں ؟ ( یہ راوی کا شک ہے ) آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا - جابر رضی الله عنہ کے پاس نو بہنیں تھیں - یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی : «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ” لوگ آپ سے ( کلالہ ۱؎ کے بارے میں ) فتویٰ پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے : اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے “ ( النساء : ۱۷۶ ) ۔ جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں : یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2097]
💡 وضاحت:
۱؎: «کلالہ» وہ میت ہے جس کی اولاد نہ ہو اور نہ ہی والد، صرف بھائی بہن وارث بن رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2728)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر النساء 4 (4577)، والمرضی 5 (5651)، والفرائض 13 (6743)، صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616)، سنن ابی داود/ الفرائض 2 (2886)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 5 (2728) (تحفة الأشراف: 3028)، وسنن الدارمی/الطھارة 55 (739) (صحیح)
|
|
|
8: باب فِي مِيرَاثِ الْعَصَبَةِ
باب: عصبہ کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی جانب سے متعین میراث کے حصوں کو حصہ داروں تک پہنچا دو ، پھر اس کے بعد جو بچے وہ میت کے قریبی مرد رشتہ دار کا ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2098]
💡 وضاحت:
۱؎: «عصبہ» وہ رشتہ دار جو باپ کی جانب سے ہوں، شرعی اصطلاح میں «عصبہ» ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو میت کی میراث میں سے متعین حصہ کے بغیر وارث ہوں۔ یعنی: «ذوی الفروض» کو دینے کے بعد جو بچ جائے اس کے وہ وارث ہوتے ہیں، جیسے بیٹا، بیٹا نہ ہونے کی صورت میں کبھی باپ، کبھی پوتا، کبھی دادا، کبھی چچا اور بھتیجا وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2740)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُرْسَلًا.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن ابن طاووس عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2098M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2740)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
9: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ
باب: دادا کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي فِي مِيرَاثِهِ، قَالَ: " لَكَ السُّدُسُ " فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: " لَكَ سُدُسٌ آخَرُ " فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، قَالَ: " إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا : میرا پوتا مر گیا ہے ، مجھے اس کی میراث میں سے کتنا حصہ ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہیں چھٹا حصہ ملے گا ، جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلا کر کہا : ” تمہیں ایک اور چھٹا حصہ ملے گا “ ، پھر جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا کر فرمایا : ” دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں معقل بن یسار رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2099]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ضعيف أبي داود (500) // (619 / 2896)، المشكاة (3060) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2099) إسناده ضعيف / د 2896
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الفرائض 6 (2896) (تحفة الأشراف: 10801) (ضعیف) (سند میں قتادة اور حسن بصری دونوں مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حسن بصری کے عمران بن حصین رضی الله عنہ سے سماع میں بھی سخت اختلاف ہے)
|
|
|
10: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدَّةِ
باب: دادی اور نانی کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ مَرَّةً: قَالَ قَبِيصَةُ، وقَالَ مَرَّةً: رَجُلٌ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ أُمُّ الْأُمِّ وَأُمُّ الْأَبِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي أَوِ ابْنَ بِنْتِي مَاتَ، وَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنّ لِي فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقًّا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَجِدُ لَكِ فِي الْكِتَابِ مِنْ حَقٍّ، وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَكِ بِشَيْءٍ وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ، قَالَ: فَسَأَلَ النَّاسَ، فَشَهِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهَا السُّدُسَ " قَالَ: وَمَنْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: " فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ "، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى الَّتِي تُخَالِفُهَا إِلَى عُمَرَ، قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَنِي فِيهِ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ أَحْفَظْهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَكِنْ حَفِظْتُهُ مِنْ مَعْمَرٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ: إِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ لَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا انْفَرَدَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی نے آ کر کہا : میرا پوتا یا نواسہ مر گیا ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں میرے لیے متعین حصہ ہے ۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : میں اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں پاتا ہوں اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے تمہارے لیے کسی حصہ کا فیصلہ کیا ، البتہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھوں گا ۔ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھٹا حصہ دیا ، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : تمہارے ساتھ اس کو کس نے سنا ہے ؟ مغیرہ رضی الله عنہ نے کہا : محمد بن مسلمہ نے ۔ چنانچہ ابوبکر رضی الله عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا ، پھر عمر رضی الله عنہ کے پاس اس کے علاوہ دوسری دادی آئی ( اگر پہلے والی دادی تھی تو عمر کے پاس نانی آئی اور اگر پہلی والی نانی تھی تو عمر کے پاس دادی آئی ) سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : زہری کے واسطہ سے روایت کرتے ہوئے معمر نے اس حدیث میں مجھ سے کچھ زیادہ باتیں بیان کی ہیں ، لیکن زہری کے واسطہ سے مروی روایت مجھے یاد نہیں ، البتہ مجھے معمر کی روایت یاد ہے کہ عمر رضی الله عنہ نے کہا : اگر تم دونوں ( دادی اور نانی ) وارث ہو تو چھٹے حصے میں دونوں شریک ہوں گی ، اور جو منفرد ہو تو چھٹا حصہ اسے ملے گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2100]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (1680)، ضعيف أبي داود (497) // (617 / 2894)، ضعيف ابن ماجة (595 / 2724) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الفرائض 5 (2894)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 4 (2724) (تحفة الأشراف: 11232) (ضعیف) (سند میں قبیصہ اور مغیرہ و ابوبکر صدیق رضی الله عنہما وغیرہ کے درمیان انقطاع ہے، اور زہری کے تلامذہ کے درمیان اس حدیث کو زہری سے نقل کرنے میں اضطراب ہے، دیکھیے: ضعیف أبي داود رقم: 497، والإروائ: 1680)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: " جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَمَا لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ "، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَلَكِنْ هُوَ ذَاكَ السُّدُسُ فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَهَذَا أَحْسَنُ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
قبیصہ بن ذویب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس ایک دادی یا نانی میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی ، ابوبکر رضی الله عنہ نے اس سے کہا : تمہارے لیے اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں کچھ نہیں ہے اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی کچھ نہیں ہے ، تم لوٹ جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے اس بارے میں پوچھ لوں ، انہوں نے لوگوں سے اس بارے میں پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، آپ نے دادی یا نانی کو چھٹا حصہ دیا ، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : تمہارے ساتھ کوئی اور بھی تھا ؟ محمد بن مسلمہ انصاری رضی الله عنہ کھڑے ہوئے اور اسی طرح کی بات کہی جیسی مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ نے کہی تھی ۔ چنانچہ ابوبکر رضی الله عنہ نے اس کے لیے حکم جاری کر دیا ، پھر عمر رضی الله عنہ کے پاس دوسری دادی ( اگر پہلی دادی تھی تو دوسری نانی تھی اور اگر پہلی نانی تھی تو دوسری دادی تھی ) میراث سے اپنا حصہ پوچھنے آئی ۔ انہوں نے کہا : تمہارے لیے اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں کچھ نہیں ہے البتہ وہی چھٹا حصہ ہے ، اگر تم دونوں ( دادی اور نانی ) اجتماعی طور پر وارث ہو تو چھٹا حصہ تم دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا ، اور تم میں سے جو منفرد اور اکیلی ہو تو وہ اسی کو ملے گا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور یہ ( مالک کی ) روایت سفیان بن عیینہ کی روایت کی بنسبت زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2101]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف انظر ما قبله (2100)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (ضعیف)
|
|
|
11: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا
باب: پوتے کی میراث میں دادی اور اس کے بیٹے کے حصہ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا: " إِنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَيٌّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ وَرَّثَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّةَ مَعَ ابْنِهَا وَلَمْ يُوَرِّثْهَا بَعْضُهُمْ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( پوتے کے ترکہ میں ) دادی اور اس کے بیٹے کے حصہ کے بارے میں کہتے ہیں : وہ پہلی دادی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ دیا ، اس وقت اس کا بیٹا زندہ تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں ، ¤ ۲- بعض صحابہ نے بیٹے کی موجودگی میں دادی کو وارث ٹھہرایا ہے اور بعض نے وارث نہیں ٹھہرایا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2102]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (1687)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2102) إسناده ضعيف ¤ محمد بن سالم: ضعيف (تق: 5898)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9565) (ضعیف) (سند میں ”محمد بن سالم“ ضعیف ہیں)
|
|
|
12: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْخَالِ
باب: ماموں کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكَرِبَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوعبیدہ رضی الله عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” اللہ اور اس کے رسول ولی ( سر پرست ) ہیں جس کا کوئی ولی ( سر پرست ) نہیں ہے اور ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ اور مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2103]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2737)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2103) إسناده ضعيف / جه 2737 ¤ سفيان الثوري عنعن (تقدم: 746) والحديث الآتي (الأصل: 2104 بتحقيقي) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الفرائض 9 (2737) (تحفة الأشراف: 10384) (صحیح)
|
|
|
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ أَرْسَلَهُ بَعْضُهُمْ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، وَاخْتَلَفَ فِيهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَرَّثَ بَعْضُهُمُ الْخَالَ وَالْخَالَةَ وَالْعَمَّةَ، وَإِلَى هَذَا الْحَدِيثِ ذَهَبَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَوْرِيثِ ذَوِي الْأَرْحَامِ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَلَمْ يُوَرِّثْهُمْ، وَجَعَلَ الْمِيرَاثَ فِي بَيْتِ الْمَالِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ماموں اس آدمی کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- بعض لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ رضی الله عنہا کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ، ¤ ۳- اس مسئلہ میں صحابہ کرام کا اختلاف ہے ، بعض لوگوں نے ماموں ، خالہ اور پھوپھی کو وارث ٹھہرایا ہے ۔ ذوی الارحام ( قرابت داروں ) کو وارث بنانے کے بارے میں اکثر اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں ، ¤ ۴- لیکن زید بن ثابت رضی الله عنہ نے بھی انہیں وارث نہیں ٹھہرایا ہے یہ میراث کو بیت المال میں رکھنے کے قائل ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2104]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (2103)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 16159) (صحیح)
|
|
|
13: باب مَا جَاءَ فِي الَّذِي يَمُوتُ وَلَيْسَ لَهُ وَارِثٌ
باب: اس آدمی کا بیان جس کا موت کے بعد کوئی وارث نہ ہو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبِهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ابْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ عِذْقِ نَخْلَةٍ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ وَارِثٍ "، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَادْفَعُوهُ إِلَى بَعْضِ أَهْلِ الْقَرْيَةِ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک آزاد کردہ غلام کھجور کی ٹہنی سے گرا اور مر گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو ، کیا اس کا کوئی وارث ہے ؟ “ صحابہ نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” اس کا مال اس کے گاؤں کے کچھ لوگوں کو دے دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2105]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2733)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الفرائض 8 (2902)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 7 (2733) (تحفة الأشراف: 16381)، و مسند احمد (6/137، 181 (صحیح)
|
|
|
14: باب فِي مِيرَاثِ الْمَوْلَى الأَسْفَلِ
باب: غلام کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ رَجُلًا مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ، إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ، وَلَمْ يَتْرُكْ عَصَبَةً أَنَّ مِيرَاثَهُ يُجْعَلُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی مر گیا اور اپنے پیچھے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث دے دی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں اہل علم کا عمل ہے کہ جب کوئی آدمی مر جائے اور اپنے پیچھے کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو اس کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کیا جائے گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2106]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2741) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (599)، الإرواء (1669) //
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الفرائض 8 (2905)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 11 (2741) (تحفة الأشراف: 6326) (ضعیف) (سند میں عوسجہ مجہول راوی ہیں)
|
|
|
15: باب مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ الْمِيرَاثِ بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرِ
باب: مسلمان اور کافر کے درمیان وراثت باطل ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَحَدِيثُ مَالِكٍ وَهْمٌ، وَهِمَ فِيهِ مَالِكٌ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ، فَقَالَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ مَالِكٍ، قَالُوا: عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، وَلَدِ عُثْمَانَ، وَلَا يُعْرَفُ عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَاخْتَلَفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ فَجَعَلَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمُ الْمَالَ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَرِثُهُ وَرَثَتُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2107]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی مرنے والے کافر رشتہ دار کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کافر اپنے مسلمان رشتہ دار کا وارث ہو گا، جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2729)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَاهُ مَعْمَرٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَحَدِيثُ مَالِكٍ وَهْمٌ، وَهِمَ فِيهِ مَالِكٌ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مَالِكٍ، فَقَالَ: عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ مَالِكٍ، قَالُوا: عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، وَلَدِ عُثْمَانَ، وَلَا يُعْرَفُ عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَاخْتَلَفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ فَجَعَلَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَغَيْرِهِمُ الْمَالَ لِوَرَثَتِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَرِثُهُ وَرَثَتُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ " وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
اس سند سے بھی اسامہ رضی الله عنہ سے ایسی ہی روایت ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- معمر اور کئی لوگوں نے زہری سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، مالک نے اسے «عن الزهري عن علي بن حسين عن عمر بن عثمان عن أسامة بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، مالک کی روایت میں وہم ہے اور یہ وہم مالک سے سرزد ہوا ہے ، بعض لوگوں نے اس حدیث کی مالک سے روایت کرتے ہوئے «عن عمرو بن عثمان» کہا ہے ، جب کہ مالک کے اکثر شاگردوں نے «مالك عن عمر بن عثمان» کہا ہے ، ¤ ۳- اور عمرو بن عثمان بن عفان مشہور ہیں ، عثمان کے لڑکوں میں سے ہیں اور عمر بن عثمان معروف آدمی نہیں ہیں ، ¤ ۴- اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۵- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، ¤ ۶- بعض اہل علم نے مرتد کی میراث کے بارے میں اختلاف کیا ہے ، اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ اس کا مال اس کے مسلمان وارثوں کا ہو گا ، ¤ ۷- بعض لوگوں نے کہا ہے : اس کے مسلمان وارث اس کے مال کا وارث نہیں ہوں گے ، ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کی اسی حدیث ) «لا يرث المسلم الكافر» یعنی ” مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا ہے “ سے استدلال کیا ہے شافعی کا یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2107M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2729)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
16: باب لاَ يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ
باب: دو مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو مختلف مذہب کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ہم اس حدیث کو صرف ابن ابی لیلیٰ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ جابر رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2108]
💡 وضاحت:
۱؎: دو مختلف ملت و مذہب سے مراد بعض لوگوں نے کفر و اسلام کو لیا ہے، اور بعض نے اسے عام رکھا ہے، ایسی صورت میں عیسائی یہودی کا اور یہودی عیسائی کا وارث نہیں ہو گا، پہلا ہی قول راجح ہے کیونکہ کفر کی ساری ملتیں «ملة واحدة» ایک ہی ملت ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2731)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2938) (صحیح) (سند میں محمد بن أبی لیلیٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
|
|
|
17: باب مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ مِيرَاثِ الْقَاتِلِ
باب: قاتل کی میراث باطل ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ قَدْ تَرَكَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْقَاتِلَ لَا يَرِثُ كَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ الْقَتْلُ خَطَأً فَإِنَّهُ يَرِثُ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قاتل ( مقتول کا ) وارث نہیں ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، یہ صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے ، ¤ ۲- اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ ( کی روایت ) کو بعض محدثین نے ترک کر دیا ہے ، احمد بن حنبل انہیں لوگوں میں سے ہیں ، ¤ ۳- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہو گا ، خواہ قتل قتل عمد ہو یا قتل خطا ، ¤ ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں : جب قتل قتل خطا ہو تو وہ وارث ہو گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2109]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2735)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدیات 14 (2645)، والفرائض 8 (2735) (تحفة الأشراف: 12286) (صحیح) (سند میں اسحاق بن ابی فروہ ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اور ابن عباس کے شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 1670، 1671، 1672)
|
|
|
18: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا
باب: شوہر کی دیت میں سے بیوی کی وراثت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، فَأَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ: " أَنْ وَرِّثِ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے ، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہو گی ، ( یہ سن کر ) ضحاک بن سفیان کلابی رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا : ” اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2110]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ رشتہ دار جو باپ کی طرف سے ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2642)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1415 (صحیح)
|
|
|
19: باب مَا جَاءَ أَنَّ الأَمْوَالَ لِلْوَرَثَةِ وَالْعَقْلَ عَلَى الْعَصَبَةِ
باب: مال وارثوں کا ہے اور دیت عصبہ پر ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لِحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا، وَأَنَّ عَقْلَهَا عَلَى عَصَبَتِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے بارے میں جس کا حمل ساقط ہو کر بچہ مر گیا تھا ایک «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا ، ( حمل گرانے والی مجرمہ ایک عورت تھی ) پھر جس عورت کے بارے میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ ( بطور دیت ) غرہ ( غلام ) دے ، مر گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ ” اس کی میراث اس کے لڑکوں اور شوہر میں تقسیم ہو گی ، اور اس پر عائد ہونے والی دیت اس کے عصبہ کے ذمہ ہو گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یونس نے یہ حدیث «عن الزهري عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی روایت کی ہے ، ¤ ۲- مالک نے یہ حدیث «عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة» کی سند سے روایت کی ہے ، اور مالک نے «عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے جو حدیث روایت کی ہے وہ مرسل ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2111]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2205)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفرائض 11 (6740)، والدیات 26 (6909، 6910)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) 11 (1681)، سنن ابی داود/ الدیات 21 (4577)، سنن النسائی/القسامة 39 (4821) (تحفة الأشراف: 13225)، و مسند احمد (2/236، 539) (وانظر ماتقدم برقم 1410) (صحیح)
|
|
|
20: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الَّذِي يُسْلِمُ عَلَى يَدَىِ الرَّجُلِ
باب: اس آدمی کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، ووكيع، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهِبٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ مَوْهِبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَقَدْ أَدْخَلَ بَعْضُهُمْ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، وَبَيْنَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ وَلَا يَصِحُّ، رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، وَزَادَ فِيهِ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ وَهُوَ عِنْدِي لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يُجْعَلُ مِيرَاثُهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ، وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ ".
تمیم داری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اس مشرک کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ ( مسلمان ) اس ( نو مسلم ) کی زندگی اور موت کا میں تمام لوگوں سے زیادہ حقدار ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہم اس حدیث کو صرف عبداللہ بن وہب کی روایت سے جانتے ہیں ، ان کو ابن موہب بھی کہا جاتا ہے ، یہ تمیم داری سے روایت کرتے ہیں ۔ بعض لوگوں نے عبداللہ بن وہب اور تمیم داری کے درمیان قبیصہ بن ذویب کو داخل کیا ہے جو صحیح نہیں ، یحییٰ بن حمزہ نے عبدالعزیز بن عمر سے یہ حدیث روایت کی ہے اور اس کی سند میں قبیصہ بن ذویب کا اضافہ کیا ہے ، ¤ ۲- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے ، ¤ ۳- بعض لوگوں نے کہا ہے : اس کی میراث بیت المال میں رکھی جائے گی ، شافعی کا یہی قول ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( اس ) حدیث سے استدلال کیا ہے «أن الولاء لمن أعتق» ” حق ولاء ( میراث ) اس شخص کو حاصل ہے جو آزاد کرے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2112]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (2752)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفرائض 22 (تعلیقات في ترجمة الباب) سنن ابی داود/ الفرائض 13 (2918)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 18 (2752) (تحفة الأشراف: 2052)، و مسند احمد (4/102، 103)، وسنن الدارمی/الفرائض 34 (2076) (حسن صحیح)
|
|
|
21: باب مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ مِيرَاثِ وَلَدِ الزِّنَا
باب: ولد الزنا کی میراث باطل ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ، فَالْوَلَدُ وَلَدُ زِنَا لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ وَلَدَ الزِّنَا لَا يَرِثُ مِنْ أَبِيهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو ( اس سے پیدا ہونے والا ) لڑکا ولد الزنا ہو گا ، نہ وہ ( اس زانی کا ) وارث ہو گا ۔ نہ زانی ( اس کا ) وارث ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے ، ¤ ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ولد الزنا اپنے باپ کا وارث نہیں ہو گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2113]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (3054 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2113) إسناده ضعيف / جه 2745 ¤ عبدالله بن لھيعة ضعيف مدلس (تقدم: 10) ¤ وللحديث شاھد ضعيف عند ابن حبان فى صحيحه (5964)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8731) (حسن صحیح) (سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے)
|
|
|
22: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَرِثُ الْوَلاَءَ
باب: ولاء کا وارث کون ہو گا؟
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَرِثُ الْوَلَاءَ مَنْ يَرِثُ الْمَالَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولاء کا وارث وہی ہو گا جو مال کا وارث ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2114]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (3066 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6426) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2114) إسناده ضعيف ¤ عبدالله بن لھيعة ضعيف لاختلاطه (تقدم: 10) وله شاھد عند أحمد (22/1 ح147) وسنده معلل بالإنقطاع
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8732) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعة ضعیف ہیں، اور کوئی شاہد نہیں)
|
|
|
23: باب مَا جَاءَ مَا يَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلاَءِ
باب: ولاء میں سے عورتوں کی میراث کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ أَبُو مُوسَى الْمُسْتَمْلِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَةَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا، وَلَقِيطَهَا، وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ.
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت تین قسم کی میراث اکٹھا کرتی ہے : اپنے آزاد کیے ہوئے غلام کی میراث ، اس لڑکے کی میراث جسے راستے سے اٹھا کر اس کی پرورش کی ہو ، اور اس لڑکے کی میراث جس کو لعان کر کے اپنے ساتھ لے گئی ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اس سند سے صرف محمد بن حرب کی روایت سے معروف ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2115]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2742) // ضعيف سنن ابن ماجة (600)، ضعيف أبي داود (623 / 3906)، إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل (1576)، ضعيف الجامع الصغير وزيادته الفتح الكبير (5925)، المشكاة (3053) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2115) إسناده ضعيف / د 2906، جه 2742
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الفرائض 9 (2906)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 12 (2742) (تحفة الأشراف: 11744) (ضعیف) (سند میں ”عمر بن رؤبہ“ ضعیف ہںْ)
|
|