جامع الترمذي حدیث نمبر: 2102
Jami at-Tirmidhi 2102
کتاب #30: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ فِي الْجَدَّةِ مَعَ ابْنِهَا: " إِنَّهَا أَوَّلُ جَدَّةٍ أَطْعَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُدُسًا مَعَ ابْنِهَا وَابْنُهَا حَيٌّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ وَرَّثَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّةَ مَعَ ابْنِهَا وَلَمْ يُوَرِّثْهَا بَعْضُهُمْ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( پوتے کے ترکہ میں ) دادی اور اس کے بیٹے کے حصہ کے بارے میں کہتے ہیں : وہ پہلی دادی تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹے کی موجودگی میں چھٹا حصہ دیا ، اس وقت اس کا بیٹا زندہ تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں ، ¤ ۲- بعض صحابہ نے بیٹے کی موجودگی میں دادی کو وارث ٹھہرایا ہے اور بعض نے وارث نہیں ٹھہرایا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2102]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (1687)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2102) إسناده ضعيف ¤ محمد بن سالم: ضعيف (تق: 5898)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9565) (ضعیف) (سند میں ”محمد بن سالم“ ضعیف ہیں)