جامع الترمذي حدیث نمبر: 2110
Jami at-Tirmidhi 2110
کتاب #30: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا
باب: شوہر کی دیت میں سے بیوی کی وراثت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، فَأَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ: " أَنْ وَرِّثِ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دیت عاقلہ ۱؎ پر واجب ہے ، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت میں سے کسی چیز کا وارث نہیں ہو گی ، ( یہ سن کر ) ضحاک بن سفیان کلابی رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لکھا : ” اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2110]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ رشتہ دار جو باپ کی طرف سے ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2642)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1415 (صحیح)