جامع الترمذي حدیث نمبر: 2109
Jami at-Tirmidhi 2109
کتاب #30: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
17: باب مَا جَاءَ فِي إِبْطَالِ مِيرَاثِ الْقَاتِلِ
باب: قاتل کی میراث باطل ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْقَاتِلُ لَا يَرِثُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ قَدْ تَرَكَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، مِنْهُمْ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْقَاتِلَ لَا يَرِثُ كَانَ الْقَتْلُ عَمْدًا أَوْ خَطَأً وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ الْقَتْلُ خَطَأً فَإِنَّهُ يَرِثُ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قاتل ( مقتول کا ) وارث نہیں ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، یہ صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے ، ¤ ۲- اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ ( کی روایت ) کو بعض محدثین نے ترک کر دیا ہے ، احمد بن حنبل انہیں لوگوں میں سے ہیں ، ¤ ۳- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ہے کہ قاتل وارث نہیں ہو گا ، خواہ قتل قتل عمد ہو یا قتل خطا ، ¤ ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں : جب قتل قتل خطا ہو تو وہ وارث ہو گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2109]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2735)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدیات 14 (2645)، والفرائض 8 (2735) (تحفة الأشراف: 12286) (صحیح) (سند میں اسحاق بن ابی فروہ ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث عمر، عبداللہ بن عمرو بن العاص، اور ابن عباس کے شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 1670، 1671، 1672)