جامع الترمذي حدیث نمبر: 2113
Jami at-Tirmidhi 2113
کتاب #30: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ عَاهَرَ بِحُرَّةٍ أَوْ أَمَةٍ، فَالْوَلَدُ وَلَدُ زِنَا لَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ وَلَدَ الزِّنَا لَا يَرِثُ مِنْ أَبِيهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی آزاد عورت یا کسی لونڈی کے ساتھ زنا کرے تو ( اس سے پیدا ہونے والا ) لڑکا ولد الزنا ہو گا ، نہ وہ ( اس زانی کا ) وارث ہو گا ۔ نہ زانی ( اس کا ) وارث ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن لہیعہ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے ، ¤ ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ولد الزنا اپنے باپ کا وارث نہیں ہو گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2113]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (3054 / التحقيق الثانى)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2113) إسناده ضعيف / جه 2745 ¤ عبدالله بن لھيعة ضعيف مدلس (تقدم: 10) ¤ وللحديث شاھد ضعيف عند ابن حبان فى صحيحه (5964)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8731) (حسن صحیح) (سند میں عبداللہ بن لھیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے)