جامع الترمذي حدیث نمبر: 2077
Jami at-Tirmidhi 2077
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
27: باب مَا جَاءَ فِي الْغِيلَةِ
باب: ایام رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الْأَسَدِيَّةِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيلَةِ حَتَّى ذَكَرْتُ أَنَّ الرُّومَ وَفَارِسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ فَلَا يَضُرُّ أَوْلَادَهُمْ "، قَالَ مَالِكٌ: وَالْغِيلَةُ، أَنْ يَمَسَّ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ، قَالَ عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میں نے ارادہ کیا تھا کہ ایام رضاعت میں جماع کرنے سے لوگوں کو منع کروں ، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے “ ۔ مالک کہتے ہیں : «غيلہ» یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے ۔ عیسیٰ بن احمد کہتے ہیں : ہم سے اسحاق بن عیسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں : مجھ سے مالک نے ابوالاسود کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2077]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (2076)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)