جامع الترمذي حدیث نمبر: 2078
Jami at-Tirmidhi 2078
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
28: باب مَا جَاءَ فِي دَوَاءِ ذَاتِ الْجَنْبِ
باب: ذات الجنب (نمونیہ) کے علاج کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ "، قَالَ قَتَادَةُ: وَيَلُدُّهُ مِنَ الْجَانِبِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ اسْمُهُ مَيْمُونٌ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ.
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے ، قتادہ کہتے ہیں : اس کو منہ میں ڈالا جائے گا ، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوعبداللہ کا نام میمون ہے ، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2078]
💡 وضاحت:
۱؎: پسلی کا ورم جو اکثر مہلک ہوتا ہے۔ ۲؎: ایک زرد رنگ کی خوشبودار گھاس ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3467) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (761)، وفيه زيادة: القسط //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2078) إسناده ضعيف / جه 3467 ¤ ميمون أبو عبدالله: ضعيف (تق:7051)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطب 17 (3467) (تحفة الأشراف: 3684) (سند میں میمون ابوعبد اللہ ضعیف راوی ہیں)