جامع الترمذي حدیث نمبر: 2067
Jami at-Tirmidhi 2067
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
22: باب مَا جَاءَ فِي الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صحرائے عرب کا فقعہ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے اور اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2067]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (444)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر البقرة 4 (4478)، وتفسیر الأعراف 2 (4639)، والطب 20 (5708)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 28 (2049)، سنن ابن ماجہ/الطب 8 (3454) (تحفة الأشراف: 4465)، و مسند احمد (1/187، 188) (صحیح)