جامع الترمذي حدیث نمبر: 2069
Jami at-Tirmidhi 2069
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
22: باب مَا جَاءَ فِي الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: حُدِّثْتُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أَخَذْتُ ثَلَاثَةَ أَكْمُؤٍ، أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَعَصَرْتُهُنَّ فَجَعَلْتُ مَاءَهُنَّ فِي قَارُورَةٍ فَكَحَلْتُ بِهِ جَارِيَةً لِي فَبَرَأَتْ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تین ، پانچ یا سات کھنبی لی ، ان کو نچوڑا ، پھر اس کا عرق ایک شیشی میں رکھا اور اسے ایک لڑکی کی آنکھ میں ڈالا تو وہ صحت یاب ہو گئی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2069]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد مع وقفه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2069) إسناده ضعيف / السند منقطع
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (سند میں قتادہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ موقوف ہے، یعنی ابوہریرہ کا کلام ہے)