جامع الترمذي حدیث نمبر: 2066
Jami at-Tirmidhi 2066
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
22: باب مَا جَاءَ فِي الْكَمْأَةِ وَالْعَجْوَةِ
باب: صحرائے عرب میں زیر زمین پائی جانے والی ایک ترکاری (فقعہ) اور عجوہ کھجور کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَبِي السَّفَرِ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ، وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عجوہ ( کھجور ) جنت کا پھل ہے ، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ۱؎ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے ، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے ، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں سعید بن زید ، ابوسعید اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2066]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں حدیث میں وارد لفظ «الکمأۃ» کا ترجمہ ”کھمبی“ قطعاً درست نہیں ہے «الکمأۃ» کو عربوں کی عامی زبان میں «فقعہ» کہا جاتا ہے، یہ «فقعہ» موسم سرما کی بارشوں کے بعد صحرائے نجد و نفود کبریٰ، مملکت سعودیہ کے شمال اور ملک عراق کے جنوب میں پھیلے ہوئے بہت بڑے صحراء میں زیر زمین پھیلتا ہے، اس کی رنگت اور شکل و صورت آلو جیسی ہوتی ہے، جب کہ کھمبی زمین سے باہر اور ہندوستان کے ریتلے علاقوں میں ہوتی ہے، ابن القیم، ابن حجر اور دیگر علماء امت نے «الکمأۃ» کی جو تعریف لکھی ہے اس کے مطابق بھی «الکمأۃ» درحقیقت «فقعہ» ہے کھمبی نہیں، (تفصیل کے لیے فتح الباری اور تحفۃ الأحوذی کا مطالعہ کر لیں، نیز اس پر تفصیلی کلام ابن ماجہ کے حدیث نمبر (۳۴۵۵) کے حاشیہ میں ملاحظہ کریں، اور جہاں بھی «کمأۃ» کا ترجمہ کھمبی لکھا ہے، اس کی جگہ «فقعہ» لکھ لیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، المشكاة (4235 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطب 8 (3455) (تحفة الأشراف: 15027) و مسند احمد (2/301، 305، 325، 356، 421، 488، 490، 511) (حسن صحیح)