جامع الترمذي حدیث نمبر: 2051
Jami at-Tirmidhi 2051
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
12: باب مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ
باب: پچھنا لگوانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ، وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب موجود دو پوشیدہ رگوں اور کندھے پر پچھنا لگواتے تھے ، اور آپ مہینہ کی سترہویں ، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگواتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس اور معقل بن یسار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2051]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3483)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2051) إسناده ضعيف / د 3860، جه 3483
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطب 4 (3860)، سنن ابن ماجہ/الطب 21 (3482) (تحفة الأشراف: 1147)، و مسند احمد (3/119) (صحیح)