جامع الترمذي حدیث نمبر: 2050
Jami at-Tirmidhi 2050
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
11: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: بدن داغنے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابی اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2050]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر بدن کو داغنا جائز ہے لیکن بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (5434 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1549) (صحیح)