جامع الترمذي حدیث نمبر: 2087
Jami at-Tirmidhi 2087
کتاب #29: کتاب: طب (علاج و معالجہ) کے احکام و مسائل
35: باب
باب: مریض کی عیادت سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُّونِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ فَنَفِّسُوا لَهُ فِي أَجَلِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَيُطَيِّبُ نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ تو موت کے سلسلے میں اس کا غم دور کرو ۱؎ یہ تقدیر تو نہیں بدلتا ہے لیکن مریض کا دل خوش کر دیتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2087]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے لیے درازی عمر اور صحت یابی کی دعا کرو۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (1438) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (303)، المشكاة (1572)، ضعيف الجامع الصغير (488)، الضعيفة (184) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2087) إسناده ضعيف /جه 1438 ¤ موسي بن محمد: منكر الحديث (تقدم: 1823)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجنائز 1 (1438) (تحفة الأشراف: 4292) (ضعیف جداً) (سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمي منکر الحدیث راوی ہے)