📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب التطبيق

کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل

کتاب #16 • کل احادیث: 150
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : التَّطْبِيقِ
باب: تطبیق یعنی رکوع میں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا کر دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قال: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، أَنَّهُمَا كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ: أَصَلَّى هَؤُلاءِ؟. قُلْنَا: نَعَمْ، فَأَمَّهُمَا وَقَامَ بَيْنَهُمَا بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ قَالَ: " إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا وَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَفْرِشْ كَفَّيْهِ عَلَى فَخْذَيْهِ فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ وہ دونوں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں تھے ، تو انہوں نے پوچھا : کیا ان لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا : ہاں ! تو انہوں نے بغیر اذان و اقامت کے دونوں کی امامت کی ، اور ان دونوں کے درمیان میں کھڑے ہوئے ، اور کہنے لگے : جب تم تین ہو تو ایسے ہی کرو ، اور جب تم اس سے زیادہ ہو تو تم میں کا ایک شخص تمہاری امامت کرے ، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے ، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1030]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں اختصار ہے، صحیح مسلم کی روایت میں ہے «واذا کنتم أکثر من ذلک، فلیؤمکم أحدکم، وإذا رکع أحدکم فلیفرش ذراعیہ علی فخذیہ، ولیجنأ ولیطبق بین کفیہ، فلَکَأَني أنظر إلی اختلاف أصابع رسول اللہ» یعنی جب تم تین سے زائد ہو تو تم میں سے ایک آگے بڑھ کر امامت کرے، اور جب رکوع کرے تو اپنے دونوں بازو اپنی دونوں رانوں پر بچھا لے، اور رکوع میں جائے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کرے، اور انہیں اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں رکھ لے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست دیکھ رہا ہوں، اس کو تطبیق کہتے ہیں اور یہ منسوخ ہے، دیکھئیے رقم: ۱۰۳۳۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 720 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرُّبَاطِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: صَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي بَيْتِهِ فَقَامَ بَيْنَنَا" فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَنَزَعَهَا فَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِنَا وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
اسود اور علقمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی ، وہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا ، تو انہوں نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور ہمارے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیں ، اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1031]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 721 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا أَرَادَ" أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ" وَرَكَعَ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا يَعْنِي الْإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی ، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا ، تو جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو ملا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیا ، اور رکوع کیا ، یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا : میرے بھائی نے سچ کہا ، ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے ، پھر ہمیں اس کا یعنی ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1032]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 118 (747)، (تحفة الأشراف: 9469)، مسند احمد 1/418 (صحیح)
1: بَابُ : نَسْخِ ذَلِكَ
باب: تطبیق کی منسوخی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قال: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ فَقَالَ: " اضْرِبْ بِكَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، قَالَ: ثُمَّ فَعَلْتُ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى فَضَرَبَ يَدِي وَقَالَ: إِنَّا قَدْ نُهِينَا عَنْ هَذَا وَأُمِرْنَا أَنْ نَضْرِبَ بِالْأَكُفِّ عَلَى الرُّكَبِ".
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے پہلو میں نماز پڑھی ، میں نے رکوع میں اپنے دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا ، تو انہوں نے مجھ سے کہا : اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھو ، پھر میں نے دوسری بار بھی ایسا ہی کیا ، تو انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور کہا : ہمیں اس سے روک دیا گیا ہے ، اور ہاتھوں کو گھٹنوں پہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1033]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 118 (790)، صحیح مسلم/المساجد 5 (535)، سنن ابی داود/الصلاة 150 (867)، سنن الترمذی/فیہ 77 (259) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 17 (873) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3929)، مسند احمد 1/181، 182، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1341، 1342) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قال: " رَكَعْتُ فَطَبَّقْتُ" فَقَالَ أَبِي: " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كُنَّا نَفْعَلُهُ، ثُمَّ ارْتَفَعْنَا إِلَى الرُّكَبِ".
مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے رکوع کیا ، تو اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اپنے دونوں گھٹنوں کے درمیان کر لیا ، تو میرے والد نے کہا : پہلے ہم ایسا ہی کرتے تھے ، پھر ہم اسے اٹھا کر گھٹنوں پر رکھنے لگے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1034]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
2: بَابُ : الإِمْسَاكِ بِالرُّكَبِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں گھٹنوں کو پکڑنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَرَ قال: " سُنَّتْ لَكُمُ الرُّكَبُ فَأَمْسِكُوا بِالرُّكَبِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہتھیلیوں سے گھٹنوں کو پکڑے رکھنا تمہارے لیے مسنون قرار دیا گیا ہے ، لہٰذا تم رکوع میں گھٹنوں کو پکڑے رہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1035]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 77 (258)، (تحفة الأشراف: 10482) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قال: قال عُمَرُ: " إِنَّمَا السُّنَّةُ الْأَخْذُ بِالرُّكَبِ".
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : سنت تو گھٹنوں کو پکڑنا ہی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1036]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1035 (صحیح الإسناد)
3: بَابُ : مَوَاضِعِ الرَّاحَتَيْنِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دونوں ہتھیلیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ، قال: أَتَيْنَا أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بِمِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ".
سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا : آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے ، اور اللہ اکبر کہا ، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا ، اور انگلیوں کو اس سے نیچے ، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی ، پھر انہوں نے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا ، اور کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1037]
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا جملة الأصابع
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (863) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9985)، مسند احمد 4/119، 120 و 5/274، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1343) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر ’’انگلیوں والا‘‘ ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس کے راوی ’’عطاء بن السائب‘‘ مختلط راوی ہیں، اور ’’ابو الاحوص‘‘ یا زائدہ یا ابن علیہ (جو اگلی روایتوں میں ان کے راوی ہیں) ان سے اختلاط کے بعد روایت کرنے والے ہیں، اور انگلیوں والے ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں پایا جاتا)
4: بَابُ : مَوَاضِعِ أَصَابِعِ الْيَدَيْنِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّهَاوِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَقُلْنَا: بَلَى" فَقَامَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ وَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَجَافَى إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهَكَذَا كَانَ يُصَلِّي بِنَا".
ابوعبداللہ سالم بن البرد سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہارے سامنے ایسی نماز نہ پڑھوں جیسی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے دیکھا ہے ؟ تو ہم نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور پڑھیئے ، تو وہ کھڑے ہوئے ، جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ ، اور اپنی انگلیوں کو گھٹنوں کے نیچے رکھا ، اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی ، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور کھڑے ہو گئے ، پھر سجدہ کیا اور اپنے بغلوں کو جدا رکھا یہاں تک ان کی ہر چیز اپنی جگہ جم گئی ، پھر وہ بیٹھے یہاں تک کہ جسم کا ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا ، پھر انہوں نے سجدہ کیا یہاں تک کہ جسم کا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر آ گیا ، چاروں رکعتیں اسی طرح ادا کیں ، پھر انہوں نے کہا : میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے ، اور آپ ہمیں اسی طرح پڑھاتے بھی تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1038]
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا جملة الأصابع
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح) (مگر انگلیوں والا ٹکڑا صحیح نہیں ہے)
5: بَابُ : التَّجَافِي فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں ہاتھ کو بغل سے جدا رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ الْبَرَّادِ، قال: قال أَبُو مَسْعُودٍ: " أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قُلْنَا: بَلَى" فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ جَافَى بَيْنَ إِبْطَيْهِ حَتَّى لَمَّا اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ رَفَعَ رَأْسَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَكَذَا وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي".
ابوعبداللہ سالم براد کہتے ہیں کہ ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں نہ دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے ؟ تو ہم نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور دکھایئے ، چنانچہ وہ کھڑے ہوئے ، اور اللہ اکبر کہا ، اور جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں بغلوں سے جدا رکھا ، یہاں تک کہ جب ان کی ہر چیز اپنی جگہ پر آ گئی تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا ، اسی طرح انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں ، اور کہا : میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1039]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1037 (صحیح لغیرہ)
6: بَابُ : الاِعْتِدَالِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں پیٹھ اور سر کے برابر ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قال: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَنْصِبْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو پیٹھ اور سر کو برابر رکھتے ، نہ تو سر کو بہت اونچا رکھتے اور نہ اسے جھکا کر رکھتے ، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1040]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 145 (828) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 117 (730، 731، 732)، 181 (963، 964، 965)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (304، 305) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 15 (862)، 72 (1061) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11897)، مسند احمد 5/424، سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1102، 1182، 1263 (صحیح)
7: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْقِرَاءَةِ، فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں قرآن پڑھنے سے ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْحَرِيرِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: وَأَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی ۱؎ اور حریر ۲؎ اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے روکا ہے ، اور اس بات سے بھی کہ میں رکوع کی حالت میں قرآن پڑھوں ۔ دوسری بار راوی نے «أن أقرأ وأنا راكع» کے بجائے «أن أقرأ راكعا» کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1041]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک ریشمی کپڑا ہے قس کی طرف منسوب ہے جو ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎: خالص ریشمی کپڑا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10238، 19001)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5186، 5187، 5188 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ رَاكِعًا وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے ، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1042]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 41 (480)، (تحفة الأشراف: 10194)، مسند احمد 1/81، 123، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1043، 1119، 5175، 5176، 5269 (حسن، صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَقُولُ نَهَاكُمْ عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْمُفَدَّمِ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے ، انتہائی سرخ کپڑے اور کسم میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1043]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، يَقُولُ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لَبُوسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَأَنَا رَاكِعٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی کے بنے ریشمی کپڑے ، کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے ، اور رکوع کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1044]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 41 (480)، اللباس 4 (2078)، سنن ابی داود/اللباس 11 (4044، 4045، 4046)، سنن الترمذی/الصلاة 80 (264)، اللباس 5 (1725)، 13 (1737)، سنن ابن ماجہ/اللباس 21 (3602)، 40 (3642)، موطا امام مالک/الصلاة 6 (28)، مسند احمد 1/92، 114، 126، 132، (تحفة الأشراف: 10179)، ویأتي عند المؤلف بالأرقام: 1045، 1120، 5177، 5178، 5180، 5181، 5182، 5183، 5184، 5185، 5270، 5271، 5272، 5273، 5274، 5320 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ریشمی کپڑے ، اور کسم میں رنگے کپڑے پہننے سے ، اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1045]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: أنظر ما قبلہ (صحیح)
8: بَابُ : تَعْظِيمِ الرَّبِّ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا ، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے “ ، پھر فرمایا : ” سنو ! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے ، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو ، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1046]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 41 (479)، سنن ابی داود/فیہ 152 (876)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 1 (3899)، (تحفة الأشراف: 5812)، مسند احمد 1/219، سنن الدارمی/الصلاة 77 (1364، 1365)، ویأتی عند المؤلف في باب62 (برقم: 1121) (صحیح)
9: بَابُ : الذِّكْرِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع کی دعا (ذکر) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے رکوع کیا تو اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1047]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1009 (صحیح)
10: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، وَيَزِيدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «‏سبحانك ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي‏» ” اے ہمارے رب تیری ذات پاک ہے ، اور تیری حمد کے ساتھ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، اے اللہ تو مجھے بخش دے “ کثرت سے پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1048]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 123 (794)، 139 (817)، المغازي 51 (4293)، تفسیر سورة النصر 1 (4967)، 2 (4968)، صحیح مسلم/الصلاة 42 (484)، سنن ابی داود/فیہ 152 (877)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 20 (889)، (تحفة الأشراف: 17635)، مسند احمد 6/43، 49، 100، 190، 230، 253، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1123، 1124 (صحیح)
11: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنْهُ
باب: رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قال: أَنْبَأَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» ” فرشتوں اور جبرائیل امین کا رب ہر نقص و عیب سے پاک اور تمام آلائشوں سے منزہ ہے “ ، پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1049]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 42 (487)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (872)، (تحفة الأشراف: 17664)، مسند احمد 6/34، 94، 115، 148، 149، 176، 193، 200، 244، 265، ویأتی عند المؤلف في باب 75 (برقم: 1135) (صحیح)
12: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي النَّسَائِيَّ، قال: حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ وَهُوَ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ قال: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: " قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( نماز کے لیے ) کھڑا ہوا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا ، تو سورۃ البقرہ پڑھنے کے بقدر رکوع میں ٹھہرے ، آپ اپنے رکوع میں «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» ” میں صاحب قدرت و بادشاہت اور صاحب بزرگی و عظمت کی پاکی بیان کرتا ہوں “ پڑھ رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1050]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 151 (873) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل 42 (296)، (تحفة الأشراف: 10912)، مسند احمد 6/24، ویأتی عند المؤلف برقم: 1133 مطولاً (صحیح)
13: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنْهُ
باب: رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَعِظَامِي وَمُخِّي وَعَصَبِي".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو «اللہم لك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت خشع لك سمعي وبصري وعظامي ومخي وعصبي» ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی ، اور اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ، اور میں تجھ پر ایمان لایا ، میرے کان ، میری آنکھیں ، میری ہڈیاں ، میرے بھیجے اور میرے پٹھوں نے تیرے لیے عاجزی کا اظہار کیا “ پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1051]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (744)، 121 (760، 761)، 360 (1509)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422، 3423)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 15 (864)، 70 (1054)، (تحفة الأشراف: 10228)، مسند احمد 1/93، 95، 102، 103، 119، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1274)، 71 (1353)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1127 (صحیح)
14: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: رکوع کی ایک اور دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: " اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَدَمِي وَلَحْمِي وَعَظْمِي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالِمِينَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو اس میں «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ودمي ولحمي وعظمي وعصبي لله رب العالمين» ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے ہی اپنا سر جھکا دیا ، تیرے اوپر ہی ایمان لایا ، میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کر دیا ، تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا ، تو میرا رب ہے ، میرے کان ، میری آنکھ ، میرا خون ، میرا گوشت ، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے نے اللہ کے لیے جو سارے جہانوں کا رب ہے عاجزی کا اظہار کیا ہے “ پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1052]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3049) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا يَقُولُ: " إِذَا رَكَعَ اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَمُخِّي وَعَصَبِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل پڑھنے کھڑے ہوتے تو جب رکوع میں جاتے تو «اللہم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وعليك توكلت أنت ربي خشع سمعي وبصري ولحمي ودمي ومخي وعصبي لله رب العالمين» ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے اپنی پیٹھ جھکا دی ، تیرے اوپر ایمان لایا ، میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا ، اور تجھ پر بھروسہ کیا ، تو میرا رب ہے ، میرا کان ، میری آنکھ ، میرا گوشت ، میرا خون ، میرا دماغ اور میرے پٹھے نے اللہ رب العالمین کے لیے عاجزی کا اظہار کیا ہے “ پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1053]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11230)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1129 (صحیح)
15: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الذِّكْرِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دعا نہ پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ وَكَانَ بَدْرِيًّا، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ وَلَا يَشْعُرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ: لَا أَدْرِي فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ: وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدْ جَهِدْتُ فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي قَالَ: " إِذَا أَرَدْتَ الصَّلَاةَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قُمْ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا فَإِذَا صَنَعْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا ، اور اس نے نماز پڑھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے لیکن وہ جان نہیں رہا تھا ، وہ نماز سے فارغ ہوا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ کو سلام کیا ، تو آپ نے سلام کا جواب دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ تم پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ ، میں نہیں جان سکا کہ اس نے دوسری بار میں یا تیسری بار میں کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے ، میں اپنی کوشش کر چکا ، آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیں ، اور پڑھ کر دکھا دیں کہ کیسے پڑھوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح وضو کرو ، پھر قبلہ رخ کھڑے ہو ، پھر اللہ اکبر کہو ، پھر قرأت کرو ، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ ، پھر اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ ، پھر اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ ، جب تم ایسا کرو گے تو اپنی نماز پوری کر لو گے ، اور اس میں جو کمی کرو گے تو اپنی نماز ہی میں کمی کرو گے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1054]
💡 وضاحت:
۱؎: مؤلف نے اس سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح کا ذکر نہیں کیا ہے، آپ اس کو صلاۃ سکھا رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ رکوع (یا سجدہ) میں تسبیح ضروری نہیں ہے، لیکن یہ استدلال صحیح نہیں، اس میں بہت سے واجبات کا ذکر نہیں ہے، دراصل اس آدمی میں تعدیل ارکان کی کمی تھی، اسی پر توجہ دلانا مقصود تھا، اس لیے آپ نے اعتدال پر خاص زور دیا، اور بہت سے واجبات کا ذکر نہیں کیا، دیگر روایات میں تسبیحات کا حکم موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 668، (تحفة الأشراف: 3604)، ویأتي برقم: 1314، 1315 (حسن صحیح)
16: بَابُ : الأَمْرِ بِإِتْمَامِ الرُّكُوعِ
باب: رکوع اچھی طرح کرنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ إِذَا رَكَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم رکوع اور سجدہ کرو تو انہیں اچھی طرح کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1055]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1292) (صحیح)
17: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَأَيْتُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ هَكَذَا وَأَشَارَ قَيْسٌ إِلَى نَحْوِ الْأُذُنَيْنِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، تو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے ، اور جب رکوع کرتے ، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ۔ قیس بن سلیم ( راوی حدیث ) نے دونوں کانوں تک اشارہ کر کے دکھایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1056]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11779) (صحیح الإسناد)
18: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ فُرُوعِ الأُذُنَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کو کانوں کی لو کے برابر اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ" أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکوع کرتے ، اور رکوع سے سر اٹھاتے ، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے کانوں کی لو کے برابر کر لیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1057]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 881، (تحفة الأشراف: 11184) (صحیح)
19: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو کندھوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے ، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو «ربنا لك الحمد» کہتے ، اور دونوں سجدوں کے درمیان اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1058]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 879، (تحفة الأشراف: 6915) (صحیح)
20: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ ذَلِكَ
باب: رفع یدین نہ کرنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
قال الْبُخَارِي، أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں ؟ چنانچہ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی ، تو انہوں نے صرف ایک بار رفع یدین کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1059]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1027) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329 أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1027 (صحیح)
21: بَابُ : مَا يَقُوُلُ الإِمَامُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: جب امام رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تب بھی اسی طرح اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے ، اور سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1060]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 879 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «اللہم ربنا ولك الحمد» کہتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1061]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15295)، مسند احمد 2/270 (صحیح)
22: بَابُ : مَا يَقُولُ الْمَأْمُومُ
باب: مقتدی جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ يَعُودُونَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے ، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آپ کے پاس آئے کہ ( اسی دوران ) نماز کا وقت ہو گیا ، ( تو آپ نے انہیں نماز پڑھائی ) جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا : ” امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، تو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے ، تو تم «ربنا ولك الحمد» “ کہو ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1062]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی دلیل نہیں کہ مقتدی اور امام دونوں «سمع اللہ لمن حمدہ» نہ کہیں جیسا کہ اس میں اس بات کی دلیل نہیں کہ امام اور مقتدی دونوں «سمع اللہ لمن حمدہ» کہیں کیونکہ یہ حدیث اس بات کے بیان کے لیے نہیں آئی ہے کہ اس موقع پر امام یا مقتدی کیا کہیں بلکہ اس حدیث کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ مقتدی «ربنا لک الحمد» امام کی «سمع اللہ لمن حمدہ» کے بعد پڑھے، اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امام ہونے کے باوجود «ربنا لک الحمد» کہتے تھے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «صلّوا کما رأیتمونی اصلي» کا عموم بھی اس بات کا متقاضی ہے کہ مقتدی بھی امام کی طرح «سمع اللہ لمن حمدہ» کہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 795، (تحفة الأشراف: 1485) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قال: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ، جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده‏» کہا ، تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے «ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» ” اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں جو پاکیزہ و بابرکت ہیں “ کہا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” ابھی ابھی ( نماز میں ) کون بول رہا تھا ؟ ” تو اس شخص نے عرض کیا : میں تھا اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا ان میں سے ہر ایک سبقت لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے کون پہلے لکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1063]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 126 (799)، سنن ابی داود/الصلاة 121 (770)، (تحفة الأشراف: 3605)، موطا امام مالک/القرآن 7 (25)، مسند احمد 4/340، وانظر رقم: 932 (صحیح)
23: بَابُ : قَوْلِهِ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ
باب: «ربنا ولک الحمد» کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام «سمع اللہ لمن حمده» کہے ، تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو کیونکہ جس کا کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گا ، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1064]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 125 (796)، بدء الخلق 7 (3228)، صحیح مسلم/الصلاة 18 (409)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (848)، سنن الترمذی/الصلاة 83 (267)، (تحفة الأشراف: 12568)، موطا امام مالک/النداء للصلاة 11 (47)، مسند احمد 2/ 387، 417، 459، 467 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى، قَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَإِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ سَبْعُ كَلِمَاتٍ وَهِيَ تَحِيَّةُ الصَّلَاةِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اور ہمیں ہمارے طریقے بتائے ، اور ہماری نماز سکھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو ، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کرے ، اور جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو ، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے ، تو تم آمین کہو ، اللہ تمہاری دعا قبول کرے گا ، اور جب وہ اللہ اکبر کہے ، اور رکوع کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور رکوع کرو ، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا ، اور تم سے پہلے رکوع سے سر بھی اٹھائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی “ ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے ، تو تم «اللہم ربنا ولك الحمد» کہو ، اللہ تعالیٰ تمہاری پکار سن لے گا ؛ کیونکہ اللہ نے اپنے بنی کی زبان سے فرمایا ہے : اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی ، تو جب وہ اللہ اکبر کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی اللہ اکبر کہو اور سجدہ کرو ، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا ، اور تم سے پہلے سجدہ سے سر بھی اٹھائے گا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی ، جب وہ قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی پہلی دعا یہ ہو : «التحيات الطيبات الصلوات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” آداب بندگیاں ، پاکیزہ خیراتیں ، اور صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے رسول ! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “ یہ سات کلمے ۱؎ ہیں اور یہ نماز کا سلام ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1065]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلا «التحیات» ہے، دوسرا «الطیبات» ، تیسرا «الصلوات» ، چوتھا «سلام علیک» ، پانچواں «سلام علینا» ، چھٹا «أشہد أن لا إلہ إلا اللہ» ، اور ساتواں «أشہد أن محمداً عبدہ ورسولہ» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله سبع
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 831، (تحفة الأشراف: 8987) (صحیح)
24: بَابُ : قَدْرِ الْقِيَامِ بَيْنَ الرَّفْعِ مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع سے اٹھنے اور سجدہ کرنے کے درمیان قیام کی مقدار کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ رُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع کرنا ، اور رکوع سے سر اٹھانا اور سجدہ کرنا ، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا ، تقریباً برابر برابر ہوتا تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1066]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان ارکان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامل اعتدال (اطمینان) کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے، صحیحین کی انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں تو یہاں تک ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد یا دونوں سجدوں کے درمیان اتنا ٹھہرتے کہ کہنے والا یہ تک کہتا (یعنی سوچتا) کہ شاید آپ اگلے رکن میں جانا بھول گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 121 (792)، 127 (801)، 140 (820)، صحیح مسلم/الصلاة 38 (471) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 147 (852، 854)، سنن الترمذی/الصلاة 92 (279، 280)، (تحفة الأشراف: 1781)، مسند احمد 4/280، 285، 288، 294، 298، سنن الدارمی/الصلاة 80 (1372، 1373)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1194، 1333 (صحیح)
25: بَابُ : مَا يَقُولُ فِي قِيَامِهِ ذَلِكَ
باب: رکوع سے کھڑے ہونے کے بعد قیام میں کیا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده‏» کہتے ، تو «‏اللہم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» ” اے اللہ ! تیری تعریف ہے ، آسمانوں بھر ، زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے “ کہتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1067]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 40 (478)، (تحفة الأشراف: 5954)، مسند احمد 1/270، 276، 277، 333، 370 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مِينَاسٍ الْعَدَنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَرَادَ السُّجُودَ بَعْدَ الرَّكْعَةِ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کے بعد سجدے کا ارادہ کرتے تو «‏اللہم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد» ” اے ہمارے رب ! تیری تعریف ہے ، تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے “ کہتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1068]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5642، حم1/277، 333 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ أَبُو أُمَيَّةَ الْحَرَّانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقُولُ حِينَ يَقُولُ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ خَيْرُ مَا قَالَ: الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ لَا مَانِعَ لَمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے ، تو «ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شىء بعد أهل الثناء والمجد خير ما قال العبد وكلنا لك عبد لا مانع لما أعطيت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” اے اللہ ، ہمارے رب ! تیرا شکر ہے آسمان و زمین بھر ، اور اس کے بعد تو جس چیز بھر چاہے ، اے لائق تعریف و لائق مجد و شرف ! بہتر ہے جو بندے نے کہا ، اور ہم سب تیرے بندے ہیں ، کوئی روکنے والا نہیں جسے تو دیدے ، تیرے مقابلے میں مالداروں کی مالداری کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی “ کہتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1069]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 40 (477)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (847)، (تحفة الأشراف: 4281)، مسند احمد 3/87، 71 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَهُ حِينَ كَبَّرَ قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ ذَا الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّي اغْفِرْ لِي رَبِّي اغْفِرْ لِي وَكَانَ قِيَامُهُ وَرُكُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، جب آپ نے تکبیر کہی تو انہوں نے آپ کو کہتے سنا : «اللہ أكبر ذا الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة‏» ” اللہ سب سے بڑا صاحب قدرت و سطوت اور صاحب بزرگی و عظمت ہے “ ، اور آپ رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو : «لربي الحمد لربي الحمد» ، ” شکر میرے رب کے لیے ، شکر میرے رب کے لیے “ کہتے ، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے ، اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي» ” اے میرے رب ! میری مغفرت فرما ، اے میرے رب ! میری مغفرت فرما “ کہتے ، اور آپ کا قیام کرنا ، رکوع کرنا ، اور رکوع سے سر اٹھانا ، اور آپ کا سجدہ کرنا ، اور دونوں سجدوں کے درمیان ٹھہرنا ، تقریباً سب برابر برابر ہوتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1070]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 151 (874)، سنن الترمذی/الشمائل 39 (260)، (تحفة الأشراف: 3395)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 23 (897)، من قولہ: ’’کان یقول بین السجدتین‘‘ ویأتی عند المؤلف برقم: 1146 (صحیح) (سند میں ’’رجل‘‘ جو مبہم راوی ہے بقول شعبہ ’’صلہ بن زفر‘‘ ہے، نیز کئی اس کے متابعات بھی ہیں)
26: بَابُ : الْقُنُوتِ بَعْدَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی ، آپ اس میں رعل ، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ۱؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی ، بد دعا کرتے رہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1071]
💡 وضاحت:
۱؎: رعل، ذکوان اور عصیّہ تینوں قبائل کے نام ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قراء کو دھوکہ سے قتل کر دیا تھا، آپ نے ان پر ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی تھی، جو رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے، یہ وتر والی قنوت نہیں تھی، وتر والی قنوت میں تو افضل یہ ہے کہ رکوع سے پہلے پڑھی جائے، جائز رکوع کے بعد بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوتر 7 (1003)، المغازي 28 (4094)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، تحفة الأشراف: 1650)، مسند احمد 3/116، 204، والحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، الجنائز 40 (1300)، الجھاد 9 (2801)، 19 (2814)، 184 (3064)، الجزیة 8 (3170)، المغازي 28 (4088، 4092)، (4094، 4096)، الدعوات 58 (6394)، الاعتصام 16 (7341)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1443)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1184)، مسند احمد 3/113، 115، 166، 167، 180، 184، 191، 204، 217، 232، 249، 261، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1637) (صحیح)
27: بَابُ : الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ
باب: نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ سُئِلَ" هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ".
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! ( پڑھی ہے ) پھر ان سے پوچھا گیا ، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد ؟ رکوع کے بعد ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1072]
💡 وضاحت:
۱؎: اور رکوع سے پہلے کی بھی روایت موجود ہے جیسا کہ ابن ماجہ (حدیث رقم: ۱۱۸۳) میں «نقنت قبل الرکوع وبعدہ» کے الفاظ آئے ہیں اور اس کی سند قوی ہے۔ گویا دونوں طرح جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1444)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1184)، مسند احمد 3/113، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1640)، (تحفة الأشراف: 1453) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قال: حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ قَامَ هُنَيْهَةً".
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی تھی ، بیان کیا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں «سمع اللہ لمن حمده» کہا تو آپ تھوڑی دیر کھڑے رہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1073]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1446) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 345 (1446)، (تحفة الأشراف: 15667) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دوسری رکعت سے اپنا سر اٹھایا تو آپ نے دعا کی : ” اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور لوگوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے ، اے اللہ ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے ، اور ان کے اوپر یوسف علیہ السلام ( کی قوم ) جیسا سا قحط مسلط کر دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1074]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأدب 110 (6200)، صحیح مسلم/المساجد 54 (675)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 145 (1244)، مسند احمد 2/239، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1636)، (تحفة الأشراف: 13132)، والحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 128 (804)، الاستسقاء 2 (1006)، الجھاد 98 (2932)، الأنبیاء 19 (3386)، تفسیر آل عمران 9 (4506)، تفسیر النساء 21 (4598)، الدعوات 58 (6393)، الإکراہ 15 (6940)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1442)، مسند احمد 2/ 239، 255، 271، 418، 470، 507، 521، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1636) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ حِينَ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ: اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ كَسِنِي يُوسُفَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَيَسْجُدُ وَضَاحِيَةُ مُضَرَ يَوْمَئِذٍ مُخَالِفُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جس وقت «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے تو دعا کرتے ، سجدہ میں جانے سے پہلے کھڑے ہو کر ، کہتے : «اللہم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين من المؤمنين اللہم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم كسني يوسف» ” اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو دشمنوں کے چنگل سے نجات دے ، اے اللہ ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے ، اور ان پر یوسف سا قحط مسلط کر دے “ ، پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے ، ان دنوں قبیلہ مضر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1075]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث سعید بن المسیب أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 128 (803) مطولاً، (تحفة الأشراف: 13155)، وحدیث أبي سلمة أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 345 (1442)، (تحفة الأشراف: 15159) (صحیح)
28: بَابُ : الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ
باب: ظہر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " لَأُقَرِّبَنَّ لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ مَا يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَفَرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قریب تر کر کے دکھاؤں گا ، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ «سمع اللہ لمن حمده» کہنے کے بعد ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء میں ، اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے ، تو مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1076]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 126 (797)، صحیح مسلم/المساجد 54 (676)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1440)، (تحفة الأشراف: 15421)، مسند احمد 2/255، 337، 470 (صحیح)
29: بَابُ : الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: نماز مغرب میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ. ح، وأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ" وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے ۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں «أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1077]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 54 (678)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1441)، سنن الترمذی/الصلاة 178 (401)، (تحفة الأشراف: 1782)، مسند احمد 4/280، 285، 299، 300، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1638، 1639) (صحیح)
30: بَابُ : اللَّعْنِ فِي الْقُنُوتِ
باب: دعائے قنوت میں لعنت بھیجنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ. ح وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا" قَالَ شُعْبَةُ: لَعَنَ رِجَالًا وَقَالَ هِشَامٌ: يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ هَذَا قَوْلُ هِشَامٍ، وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَلِحْيَانَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی ۔ شعبہ کی روایت میں ہے آپ نے چند لوگوں پر لعنت بھیجی ، اور ہشام کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے کچھ قبیلوں پر رکوع کے بعد بد دعا فرماتے تھے ، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا ، یہ قول ہشام کا ہے ، اور شعبہ قتادہ سے اور قتادہ انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی ، آپ رعل ، ذکوان اور لحیان قبائل پر لعنت بھیج رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1078]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث شعبة عن قتادة عن أنس أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، مسند احمد 3/216، 259، 278، (تحفة الأشراف: 1273)، وحدیث ہشام عن قتادة عن أنس أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 28 (4089)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 145 (1243)، مسند احمد 3/115، 180، 217، 249، 261، (تحفة الأشراف: 1354) (صحیح)
31: بَابُ : لَعْنِ الْمُنَافِقِينَ فِي الْقُنُوتِ
باب: دعائے قنوت میں منافقین پر لعنت بھیجنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ: " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا ، آپ کہہ رہے تھے : «اللہم العن فلانا وفلانا» ” اے اللہ ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر “ ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «‏ليس لك من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون‏» ” اے محمد ! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں ، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے ، کیونکہ وہ ظالم ہیں “ ( آل عمران : ۱۲۸ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1079]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 21 (4069)، تفسیر آل عمران 9 (4559)، الاعتصام 17 (7346)، (تحفة الأشراف: 6940)، مسند احمد 2/93، 147 (صحیح)
32: بَابُ : تَرْكِ الْقُنُوتِ
باب: قنوت (قنوت نازلہ) چھوڑ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی ، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے ، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1080]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1078 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيٍّ فَلَمْ يَقْنُتْ، ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ إِنَّهَا بِدْعَةٌ".
ابو مالک اشجعی ( سعد ) اپنے والد ( طارق بن اشیم ) سے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے دعائے قنوت نہیں پڑھی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی ، عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی ، عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی ، اور علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی دعائے قنوت نہیں پڑھی ، پھر انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! یہ ( یعنی : مداومت ) بدعت ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1081]
💡 وضاحت:
۱؎: قنوت نازلہ فجر میں بوقت ضرورت پڑھی گئی تھی، پھر چھوڑ دی گئی، اس لیے مداومت (ہمیشہ پڑھنے) کو انہوں نے بدعت کہا، ضرورت پڑنے پر اب بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 179 (402)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 145 (1241)، (تحفة الأشراف: 4976)، مسند احمد 3/472، و 6/394 (صحیح)
33: بَابُ : تَبْرِيدِ الْحَصَى لِلسُّجُودِ عَلَيْهِ
باب: کنکریوں پر سجدہ کرنے کے لیے انہیں ٹھنڈا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي أُبَرِّدُهُ ثُمَّ أُحَوِّلُهُ فِي كَفِّي الْآخَرِ فَإِذَا سَجَدْتُ وَضَعْتُهُ لِجَبْهَتِي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم ظہر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے ، میں نماز میں ہی ایک مٹھی کنکری اپنے ہاتھ میں لے لیتا ، اسے ٹھنڈا کرتا ، پھر اسے دوسرے ہاتھ میں پلٹ دیتا ، تو جب سجدہ کرتا تو اسے اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1082]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 4 (399)، (تحفة الأشراف: 2252)، مسند احمد 3/327 (صحیح)
34: بَابُ : التَّكْبِيرِ لِلسُّجُودِ
باب: سجدہ کرنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قال: " صَلَّيْتُ أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ كَبَّرَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ كَبَّرَ وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَلَمَّا قَضَى أَخَذَ عِمْرَانُ بِيَدِي فَقَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنِي هَذَا قَالَ كَلِمَةً يَعْنِي صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مطرف کہتے ہیں کہ میں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہما دونوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے ، اور جب دو رکعتیں پڑھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے ، جب وہ نماز پڑھ چکے تو عمران رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا : انہوں نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1083]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 116 (786)، 144 (826)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (393)، سنن ابی داود/الصلاة 140 (835)، (تحفة الأشراف: 10848)، مسند احمد 4/400، 428، 429، 432، 440، 444، ویأتی عند المؤلف برقم: 1181 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، وَيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎ ، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے ، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1084]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد یہ ہے کہ اکثر جھکتے اور اٹھتے وقت «اللہ اکبر» کہتے، ورنہ رکوع سے اٹھتے وقت «اللہ اکبر» نہیں کہتے تھے، بلکہ اس کے بجائے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: حدیث أسود عن عبداللہ أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 74 (253)، (تحفة الأشراف: 9174)، مسند احمد 1/386، 394، 418، 427، 442، 443، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1248)، وحدیث علقمة کحدیث أسود، (تحفة الأشراف: 9470)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1143، 1150، 1320 (صحیح)
35: بَابُ : كَيْفَ يَخِرُّ لِلسُّجُودِ
باب: سجدہ کے لیے (زمین پر) کیسے جھکے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قال: سَمِعْتُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ مَاهَكَ يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمٍ قال: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا".
حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی کہ میں کھڑے کھڑے ہی سجدے میں گروں گا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1085]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی رکوع سے واپس قیام میں جاؤں گا، اور سیدھا کھڑا ہو جانے کے بعد سجدہ کے لیے جھکوں گا۔ (دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کے ذکر کے بغیر یہ حدیث رقم: ۸۸۱ میں گزر چکی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3437)، مسند احمد 3/402 (صحیح الإسناد)
36: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ لِلسُّجُودِ
باب: سجدہ کرتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي صَلَاتِهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں جب آپ رکوع کرتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے ، اور جب سجدہ کرتے ، اور جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے ۱؎ رفع یدین کرتے دیکھا ، یہاں تک کہ آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کی لو کے بالمقابل کر لیتے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1086]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کبھی کبھار سجدہ میں جاتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے۔ ۲؎: گرچہ بعض علماء نے دونوں سجدوں میں جاتے اور ان سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین والے اس ٹکڑے کی تصحیح کی ہے، مگر اکثر علماء اور رفع یدین کے قائل ائمہ نے اس ٹکڑے کی تضعیف کی ہے، اس کے راوی قتادہ مدلس ہیں، اور انہوں نے اسے عنعنہ سے روایت کیا ہے اس باب میں دیگر روایات بھی کلام سے خالی نہیں ہیں، جب کہ سجدہ میں رفع یدین کرنے والی ابن عمر رضی اللہ عنہم کی روایت صحیحین کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن وهو مدلس وتلميذه هو سعيد بن أبى عروبة كما فى السنن الكبري للنسائي (672). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11184)، وانظر حدیث رقم: 881 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّهُ" رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اسی کے مثل روایت ذکر کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1087]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1086) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، وانظر حدیث رقم: 881 (بدون ذکر الزیادة)، (تحفة الأشراف: 11184) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہو جاتے .... پھر آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ” جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1088]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديثين السابقين (1087،1086) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، انظر حدیث رقم: 881 (بدون ذکر الزیادة)، (تحفة الأشراف: 11184) (صحیح)
37: بَابُ : تَرْكِ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ السُّجُودِ
باب: سجدہ کرتے وقت رفع یدین نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ الْمُحَارِبِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے ، اور جب رکوع کرتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے ، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سجدہ کرنے میں ایسا نہیں کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1089]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6962)، مسند احمد 2/47، 147 (صحیح)
38: بَابُ : أَوَّلِ مَا يَصِلُ إِلَى الأَرْضِ مِنَ الإِنْسَانِ فِي سُجُودِهِ
باب: سجدے میں سب سے پہلے زمین پر پہنچنے والے انسانی عضو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْقًوْمَسِيُّ الْبَسْطَامِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے رکھتے ، اور جب اٹھتے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ اٹھاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1090]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (838) ترمذي (268) ابن ماجه (882) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 141 (838)، سنن الترمذی/الصلاة 84 (268)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (882)، (تحفة الأشراف: 11780)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1155 (ضعیف) (شریک القاضی جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جاتی، اور وہ یہاں اس روایت میں منفرد ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَبْرُكَ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی اپنی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1091]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد استفھام انکاری ہے، یعنی ایسا نہیں کرنا چاہیئے، یعنی اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نماز میں نہیں بیٹھنا چاہیئے، اور یہ واضح رہے کہ چوپایوں کے گھٹنے ان کے اگلے دونوں پاؤں میں ہوتے ہیں، اونٹ پہلے اپنے اگلے پاؤں رکھتا ہے یعنی گھٹنے پہلے رکھتا ہے، اور انسان کو نماز میں اونٹ کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے انسان اونٹ کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے اپنے ہاتھ رکھے پھر گھٹنے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 141 (840، 841)، سنن الترمذی/الصلاة 85 (269)، (تحفة الأشراف: 13866)، مسند احمد 2/381، سنن الدارمی/الصلاة 74 (1360) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ مِنْ كِتَابِهِ قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ وَلَا يَبْرُكْ بُرُوكَ الْبَعِيرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اپنے گھٹنوں سے پہلے اپنا ہاتھ زمین پر رکھے ، اور وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1092]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1091 (صحیح)
39: بَابُ : وَضْعِ الْيَدَيْنِ مَعَ الْوَجْهِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں ہاتھوں کو چہرہ کے ساتھ زمین پر رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ دَلُّوَيْهِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَفَعَهُ، قال: " إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَهُ فَلْيَرْفَعْهُمَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں ہاتھ سجدہ کرتے ہیں جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے ، لہٰذا جب تم میں کا کوئی اپنا چہرہ زمین پر رکھے تو اپنے دونوں ہاتھ بھی رکھے ، اور جب اسے اٹھائے تو ان دونوں کو بھی اٹھائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1093]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 155 (892)، (تحفة الأشراف: 7547)، مسند احمد 2/6 (صحیح)
40: بَابُ : عَلَى كَمِ السُّجُودُ
باب: کتنے اعضاء پر سجدہ کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرَهُ وَلَا ثِيَابَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء ۱؎ پر سجدہ کریں ، اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1094]
💡 وضاحت:
۱؎: سات اعضاء سے مراد پیشانی ناک کے ساتھ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں اس کی تفسیر آ رہی ہے۔ ۲؎: بالوں کو سمیٹنا یہ ہے کہ سب کو اکٹھا کر کے جوڑا باندھ لے، یا دستار میں رکھ لے، اور کپڑوں کا سمیٹنا یہ ہے کہ سجدے یا رکوع میں جاتے وقت کپڑوں کو اس خیال سے سمیٹے کہ کپڑوں میں گرد نہ لگے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 133 (809، 810)، 137 (815)، 138 (816)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (889، 890)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (273)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (883)، 67 (1040)، (تحفة الأشراف: 5734)، مسند احمد 1/221، 222، 255، 270، 279، 280، 285، 286، 290، 305، 324، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1357)، وأعادہ المؤلف بأرقام: 1114، 1116 (صحیح)
41: بَابُ : تَفْسِيرِ ذَلِكَ
باب: اعضائے سجود کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مِنْهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتوں اعضاء : اس کا چہرہ ، اس کے دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے ، اور دونوں پیر بھی سجدہ کرتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1095]
💡 وضاحت:
۱؎: ناک چہرہ کا ایک جزء ہے اس لیے پیشانی اور ناک دونوں سے سجدہ کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 44 (491)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (891)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (272)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (885)، (تحفة الأشراف: 5126)، مسند احمد 1/206، 208، ویأتی عند المؤلف في باب 46 (برقم: 1100) (صحیح)
42: بَابُ : السُّجُودِ عَلَى الْجَبِينِ
باب: پیشانی پر سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: " بَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبِينِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صُبْحِ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مُخْتَصَرٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ( رمضان کی ) اکیسویں رات کی صبح کو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کا نشان تھا ، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1096]
💡 وضاحت:
۱؎: تفصیل سے یہی حدیث باب السہو (۱۳۵۷) میں وارد ہوئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 41 (669)، 135 (813)، 151 (836)، لیلة القدر 2 (2016)، الاعتکاف 1 (2027)، 9 (2036)، 13 (2040)، صحیح مسلم/الصوم 40 (1167)، سنن ابی داود/الصلاة 157 (894، 895)، 166 (911)، 320 (1382)، سنن ابن ماجہ/الصیام 56 (1766)، 62 (1775)، (تحفة الأشراف: 4419)، موطا امام مالک/الاعتکاف 6 (9)، مسند احمد 3/7، 24، 60، 74، 94، ویأتی عند المؤلف في السھو 98 (برقم: 1357) مطولاً (صحیح)
43: بَابُ : السُّجُودِ عَلَى الأَنْفِ
باب: ناک پر سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ لَا أَكُفَّ الشَّعْرَ وَلَا الثِّيَابَ الْجَبْهَةِ وَالْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاء : پیشانی اور ناک ، دونوں ہتھیلی ، دونوں گھٹنے ، اور دونوں پیر پر سجدہ کروں ، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1097]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 134 (812)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (884)، (تحفة الأشراف: 5708)، مسند احمد 1/222، 292، 305، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1358)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1098، 1099 (صحیح)
44: بَابُ : السُّجُودِ عَلَى الْيَدَيْنِ
باب: دونوں ہاتھ پر سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ النَّسَائِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَنْفِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے : پیشانی پر ، اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ناک پر کا اشارہ کیا ، اور دونوں ہتھیلیوں ، دونوں گھٹنے ، اور دونوں پیر کے کناروں یعنی انگلیوں پر ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1098]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1097، (تحفة الأشراف: 5708) (صحیح)
45: بَابُ : السُّجُودِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ
باب: دونوں گھٹنوں پر سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ عَلَى يَدَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ" قَالَ سُفْيَانُ، قَالَ لَنَا ابْنُ طَاوُسٍ" وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَمَرَّهَا عَلَى أَنْفِهِ" قَالَ هَذَا وَاحِدٌ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ، اور بالوں اور کپڑوں کو سمیٹنے سے روکا گیا : اپنی دونوں ہتھیلیوں ، دونوں گھٹنے اور انگلیوں کے سروں پر ۔ سفیان کہتے ہیں : ابن طاؤس نے اپنے دونوں ہاتھ پیشانی پر رکھے ، اور انہیں اپنی ناک پر گزارا ، اور کہا : یہ سب ایک ہے ۔ امام نسائی کہتے ہیں : یہ الفاظ محمد بن منصور کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1099]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1097، (تحفة الأشراف: 5708) (صحیح)
46: بَابُ : السُّجُودِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ
باب: دونوں پیر پر سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے ساتوں اعضاء یعنی اس کا چہرہ ، دونوں ہتھیلی ، دونوں گھٹنے اور دونوں پیر سجدہ کرتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1100]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1095، (تحفة الأشراف: 5126) (صحیح)
47: بَابُ : نَصْبِ الْقَدَمَيْنِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدے میں دونوں پیر کھڑا رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: " فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَبِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پہ نہیں ملے تو میں تلاش کرتی ہوئی آپ تک پہنچی ، آپ سجدے میں تھے ، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے ، اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے : «اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وبك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے ، تیرے عفو و درگزر کی تیری سزا اور عقوبت سے ، اور تیری پناہ چاہتا ہوں تیرے غضب سے ، میں تیری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا ، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف بیان کی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1101]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 169، (تحفة الأشراف: 17807) (صحیح)
48: بَابُ : فَتْحِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قال: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَهْوَى إِلَى الْأَرْضِ سَاجِدًا جَافَى عَضُدَيْهِ عَنْ إِبِطَيْهِ وَفَتَخَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ مُخْتَصَرٌ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے تو اپنے بازوؤں کو اپنی بغل سے الگ رکھتے ، اور اپنے پیر کی انگلیوں کو کھلا رکھتے - یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1102]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1040، (تحفة الأشراف: 11897) (صحیح)
49: بَابُ : مَكَانِ الْيَدَيْنِ مِنَ السُّجُودِ
باب: سجدہ میں دونوں ہاتھ رکھنے کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال: " قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ فَكَانَتْ يَدَاهُ مِنْ أُذُنَيْهِ عَلَى الْمَوْضِعِ الَّذِي اسْتَقْبَلَ بِهِمَا الصَّلَاةَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا ( کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں تو میں نے دیکھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے دونوں انگوٹھوں کو آپ کی دونوں کانوں کے قریب دیکھا ، اور جب آپ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو ” اللہ اکبر “ کہا ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، پھر آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع اللہ لمن حمده» کہا ، پھر آپ نے ” اللہ اکبر “ کہا ، اور سجدہ کیا ، آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی دونوں کانوں کی اس جگہ تک اٹھے جہاں تک آپ نے شروع نماز میں انہیں اٹھایا تھا ( یعنی انہیں دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھایا ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1103]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 890، (تحفة الأشراف: 11781) (صحیح)
50: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ بَسْطِ الذِّرَاعَيْنِ، فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں بازووں کو زمین پر نہ بچھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ وَاسْمُهُ أَيُّوبُ بْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ فِي السُّجُودِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں کوئی شخص سجدے میں اپنے دونوں بازو ( زمین پر ) کتے کے بچھانے کی طرف نہ بچھائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1104]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1143)، مسند احمد 3/109، 202، 231، 279 (صحیح)
51: بَابُ : صِفَةِ السُّجُودِ
باب: سجدہ کرنے کا طریقہ۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: وَصَفَ لَنَا الْبَرَاءُ السُّجُودَ" فَوَضَعَ يَدَيْهِ بِالْأَرْضِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ براء رضی اللہ عنہ نے ہمیں سجدہ کر کے دکھایا تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ، اور اپنی سرین اٹھائے رکھی ، اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1105]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (896) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 158 (896)، مسند احمد 4/303، (تحفة الأشراف: 1864) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی حافظے کے کمزور راوی ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ هُوَ النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا صَلَّى جَخَّى".
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازو کھلا رکھتے ، اور انہیں اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے ، اور اپنا پیٹ زمین سے اٹھائے رکھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1106]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1902) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
عبداللہ بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے بیچ کشادگی رکھتے ، یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1107]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 27 (390)، الأذان 130 (807)، المناقب 23 (3564)، صحیح مسلم/الصلاة 46 (495)، (تحفة الأشراف: 9157)، مسند احمد 5/345 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " لَوْ كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبْصَرْتُ إِبْطَيْهِ" قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: كَأَنَّهُ قَالَ: ذَلِكَ لِأَنَّهُ فِي صَلَاةٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتا تو میں آپ کی دونوں بغل ضرور دیکھتا ہوتا ۱؎ ۔ ابومجلز کہتے ہیں کہ گویا انہوں نے یہ بات اس وجہ سے کہی ہے کیونکہ وہ نماز میں موجود تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1108]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں اپنے دونوں ہاتھ اس قدر کشادہ رکھتے کہ آپ کی دونوں بغل کی سفیدی دکھائی دیتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 118 (746)، (تحفة الأشراف: 12215) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَكُنْتُ أَرَى عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ".
عبداللہ بن اقرم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے آپ کی دونوں بغل کی سفیدی نظر آتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1109]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 89 (274)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (881)، (تحفة الأشراف: 5142)، مسند احمد 4/35 (صحیح)
52: بَابُ : التَّجَافِي فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں بازو کو پہلو سے الگ رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا سَجَدَ جَافَى يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ اگر کوئی بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1110]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 46 (496، 497)، سنن ابی داود/الصلاة 158 (898)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 19 (880)، (تحفة الأشراف: 18083)، مسند احمد 6/331، 332، 335، سنن الدارمی/الصلاة 79 (1369، 1370، 1371)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1148 (صحیح)
53: بَابُ : الاِعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں اپنی ہیئت درمیانی رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " واعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ" اللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو ۱؎ اور تم میں سے کوئی اپنے دونوں ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے “ - یہ الفاظ اسحاق بن راہویہ کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1111]
💡 وضاحت:
۱؎: سجدہ میں اپنی ہیئت درمیانی رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے، اور کہنیوں کو زمین سے اور پیٹ کو ران سے الگ رکھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: حدیث سعید عن قتادة عن أنس قد تقدم، انظر حدیث رقم: 1029، (تحفة الأشراف: 1197)، وحدیث شعبة عن قتادة عن أنس أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 141 (822)، صحیح مسلم/الصلاة 45 (493)، سنن ابی داود/الصلاة 158 (897)، سنن الترمذی/الصلاة 90 (276)، مسند احمد 3/115، 177، 179، 202، 274، 291، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1361)، (تحفة الأشراف: 1237) (صحیح)
54: بَابُ : إِقَامَةِ الصُّلْبِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدے میں پیٹھ سیدھی رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نماز کفایت نہیں کرتی جس میں آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1112]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1028، (تحفة الأشراف: 9995) (صحیح)
55: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ
باب: نماز میں جلدی میں کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ تَمِيمَ بْنَ مَحْمُودٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِبْلٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَقَامَ لِلصَّلَاةِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ".
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع کیا ہے : ایک کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے ، دوسری درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے سے ، اور تیسری یہ کہ آدمی نماز کے لیے ایک جگہ خاص کر لے جیسے اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ کو خاص کر لیتا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1113]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (862) ابن ماجه (1429) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (862)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 204 (1429)، (تحفة الأشراف: 9701)، مسند احمد 3/428، 444، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1362) (حسن)
56: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ، فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں بال سمیٹنے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَرَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں ، اور بال اور کپڑے نہ سمیٹوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1114]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1094، (تحفة الأشراف: 5734) (صحیح)
57: بَابُ : مَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ
باب: سر میں جوڑا بندھے ہوئے نمازی کی مثال۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو السَّرْحِيُّ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قال: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے سر میں پیچھے جوڑا بندھا ہوا تھا ، تو وہ کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے ، جب عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سلام پھیر چکے تو ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے ، اور کہنے لگے : آپ کو میرے سر سے کیا مطلب تھا ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جو نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ بندھے ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1115]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 44 (492)، سنن ابی داود/الصلاة 88 (647)، (تحفة الأشراف: 6339)، مسند احمد 1/304، 316، سنن الدارمی/الصلاة 105 (1421) (صحیح)
58: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ كَفِّ الثِّيَابِ، فِي السُّجُودِ
باب: سجدے میں کپڑا نہ سمیٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور بال اور کپڑے سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1116]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1094، (تحفة الأشراف: 5734) (صحیح)
59: بَابُ : السُّجُودِ عَلَى الثِّيَابِ
باب: کپڑوں پر سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ السُّلَمِيُّ، قال: حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قال: " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ سَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1117]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 23 (385)، المواقیت 11 (542)، العمل في الصلاة 9 (1208)، صحیح مسلم/المساجد 33 (620)، سنن ابی داود/الصلاة 93 (660)، سنن الترمذی/الصلاة 294 (الجمعة 58) (584)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 64 (1033)، (تحفة الأشراف: 250)، مسند احمد 3/100، سنن الدارمی/الصلاة 82 (1376) (صحیح)
60: بَابُ : الأَمْرِ بِإِتْمَامِ السُّجُودِ
باب: پورے طور پر سجدہ کرنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِ ظَهْرِي فِي رُكُوعِكُمْ وَسُجُودِكُمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرو ، اللہ کی قسم ! میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تمہیں رکوع اور سجدہ کی حالت میں دیکھتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1118]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1029، 1111، (تحفة الأشراف: 1197) (صحیح)
61: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الْقِرَاءَةِ، فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں قرآن پڑھنے سے ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قال: أَبُو عَلِيٍّ حَدَّثَنَا، وَقَالَ عُثْمَانُ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: " نَهَانِي حِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ لَا أَقُولُ نَهَى النَّاسَ نَهَانِي عَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْمُعَصْفَرِ الْمُفَدَّمَةِ وَلَا أَقْرَأُ سَاجِدًا وَلَا رَاكِعًا".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے منع کیا ہے ، میں نہیں کہتا کہ لوگوں کو بھی منع کیا ہے ، مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے ، قسی کے بنے ہوئے ریشمی کپڑے پہننے سے ، اور کُسم میں رنگے ہوئے گہرے سرخ کپڑے پہننے سے منع کیا ہے ، اور میں رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1119]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1042، (تحفة الأشراف: 10194) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا قَالَ: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1120]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1044، (تحفة الأشراف: 10179) (صحیح)
62: بَابُ : الأَمْرِ بِالاِجْتِهَادِ فِي الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں دعا میں کوشش کرنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتْرَ وَرَأْسُهُ مَعْصُوبٌ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْعَبْدُ أَوْ تُرَى لَهُ أَلَا وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا رَبَّكُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَإِنَّهُ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا ، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” اے اللہ ! میں نے پہنچا دیا ( پھر فرمایا : ) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے ، سنو ! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو ، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1121]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1046، (تحفة الأشراف: 5812) (صحیح)
63: بَابُ : الدُّعَاءِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ کی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي رِشْدِينَ وَهُوَ كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا فَرَأَيْتُهُ قَامَ لِحَاجَتِهِ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَنَامَ، ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَى فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا هُوَ الْوُضُوءُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ تَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَأَيْقَظَهُ لِلصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات کو ان ہی کے پاس رہے ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنی حاجت کے لیے اٹھے ، مشک کے پاس آئے ، اور اس کا بندھن کھولا ، پھر وضو کیا جو دو وضوؤں کے درمیان تھا ، ( یعنی شرعی وضو نہیں تھا ) ، پھر آپ اپنے بستر پہ آئے ، اور سو گئے ، پھر دوسری بار اٹھے ، مشک کے پاس آئے ، اور اس کا بندھن کھولا ، پھر وضو کیا یہ ( شرعی ) وضو تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر نماز پڑھنے لگے ، آپ اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے : «اللہم اجعل في قلبي نورا واجعل في سمعي نورا واجعل في بصري نورا واجعل من تحتي نورا واجعل من فوقي نورا وعن يميني نورا وعن يساري نورا واجعل أمامي نورا واجعل خلفي نورا وأعظم لي نورا» ” اے اللہ ! میرے دل کو منور کر دے ، میرے کانوں کو نور ( روشنی ) سے بھر دے ، میری آنکھوں کو روشن کر دے ، میرے نیچے نور کر دے ، میرے اوپر نور کر دے ، میرے دائیں نور کر دے ، میرے بائیں نور کر دے ، میرے آگے نور کر دے ، میرے پیچھے نور کر دے ، اور میرے لیے نور کو عظیم کر دے “ ، پھر آپ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے ، پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے جگایا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1122]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعا آپ نے تہجد کے سجدے میں پڑھی تھی، اس لیے تہجد یا نوافل میں اس طرح کی لمبی دعائیں پڑھے، فرائض میں خصوصاً جب امام ہو تو مختصر دعائیں پڑھے جن میں سے بعض کا تذکرہ آگے آ رہا ہے، ان میں سے معروف دعا «سبحان ربي الأعلیٰ» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الدعوات 10 (6316)، صحیح مسلم/الحیض 5 (304)، المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الأدب 105 (5043)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 71 (508)، مسند احمد 1/234، 283، 284، 343، (تحفة الأشراف: 6352) (صحیح)
64: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدہ کی ایک اور دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي ” اے اللہ ! ہمارے رب ! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، اے اللہ تو مجھے بخش دے “ کہہ رہے تھے ، آپ قرآن کی عملی تفسیر فرما رہے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1123]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «فسبح بحمد ربک» آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے آپ اسی حکم کی تعمیل میں یہ دعا پڑھ رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1048، (تحفة الأشراف: 17635) (صحیح)
65: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: (مذکورہ دعا کی) ایک اور سند کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» ” اے اللہ ہمارے رب ! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، اے اللہ تو مجھے بخش دے “ کہہ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر فر مار ہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1124]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1048، (تحفة الأشراف: 17635) (صحیح)
66: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدہ کی ایک اور دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قال: قالت عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ فَجَعَلْتُ أَلْتَمِسُهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی خواب گاہ میں نہیں ملے ، تو میں آپ کو تلاش کرنے لگی ، اور مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں کہ اچانک میرا ہاتھ آپ پر پڑا ، آپ سجدے میں تھے ، اور کہہ رہے تھے : «اللہم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت» ” اے اللہ ! بخش دے میرے ان گناہوں کو جنہیں میں نے چھپا کر کیا ہے اور جنہیں میں نے اعلانیہ کیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1125]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17678)، مسند احمد 6/147، وانظر حدیث رقم: 169 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَطَلَبْتُهُ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ: " رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر موجود نہیں پایا ، میں نے گمان کیا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں ، چنانچہ میں نے آپ کو تلاش کیا ، تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ سجدہ میں ہیں اور کہہ رہے ہیں : «رب اغفر لي ما أسررت وما أعلنت» ” اے میرے رب ! میرے تمام گناہوں کو جو میں نے چھپے اور کھلے کئے ہیں بخش دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1126]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17678)، وانظر حدیث رقم: 169 (صحیح)
67: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدے کی ایک اور دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا سَجَدَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو کہتے : «اللہم لك سجدت ولك أسلمت وبك آمنت سجد وجهي للذي خلقه وصوره فأحسن صورته وشق سمعه وبصره تبارك اللہ أحسن الخالقين» ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے اپنی پیشانی زمین سے ٹیک دی ، اور تیرے ہی لیے میں اسلام لایا ، اور تجھی پر میں ایمان لایا ، میرے چہرے نے سجدہ کیا ، اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا ، اور اس کی صورت گری کی ، اور اچھی صورت گری کی ، اور جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں پھاڑیں ، اللہ بڑی برکت والا ہے ، اور سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1127]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 898 و 1051، (تحفة الأشراف: 10228) (صحیح)
68: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: مذکورہ دعا کی ایک اور سند کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو حَيْوَةَ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ".
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدے میں کہتے تھے : «اللہم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك اللہ أحسن الخالقين» ” اے اللہ ! میں نے تیرے لیے اپنی پیشانی زمین پر ٹیک دی ، تیرے ہی اوپر ایمان لایا ، تیرے ہی لیے میں مسلمان ہوا ، تو ہی میرا رب ہے ، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا ، اور اس کی صورت گری کی ، اور جس نے اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں ، بڑی برکتوں والا ہے ، اللہ سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1128]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3050) (صحیح)
69: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: مذکورہ دعا کی ایک اور سند کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ إِذَا سَجَدَ اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں اٹھتے تو نفل پڑھتے ، اور جب سجدہ کرتے تو کہتے : «اللہم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت اللہم أنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك اللہ أحسن الخالقين» ” اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا ، تجھی پر میں ایمان لایا ، تیرے لیے میں مسلمان ہوا ، اے اللہ ! تو ہی میرا رب ہے ، میرے چہرہ نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا ، اور اس کی صورت گری کی ، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں بنائیں ، اللہ بڑی برکتوں والا ، سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1129]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 899 و 1053، (تحفة الأشراف: 11230) (صحیح الإسناد)
70: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدے کی ایک اور دعا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَوَّار الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: " سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تلاوت قرآن کے سجدوں میں کہتے : «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» ” میرے چہرہ نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے اسے پیدا کیا ، اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں اپنی قوت و طاقت سے بنائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1130]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1414) ترمذي (580) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 334 (1414)، سنن الترمذی/الصلاة 290 (الجمعة 55)، (580)، الدعوات 33 (3425)، مسند احمد 6/30، 217، (تحفة الأشراف: 16083) (صحیح)
71: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدے کی ایک اور دعا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ. قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوَجَدْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ وَصُدُورُ قَدَمَيْهِ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنَتْ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بستر پر ) موجود نہیں پایا ، تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں ، اور آپ کے دونوں قدموں کے پنجے قبلہ رخ ہیں ، تو میں نے آپ کو سجدہ میں کہتے سنا : «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے ، میں پناہ مانگتا ہوں تیری معافی کی تیری سزا سے ، اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے ، میں تیری حمد و ثنا کا حق نہیں ادا کر سکتا ، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1131]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الدعوات 76 (3493)، (تحفة الأشراف: 17585)، موطا امام مالک/القرآن 8 (31) (صحیح)
72: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدہ کی ایک اور دعا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ الْمِقْسَمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُهُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ" فَقَالَتْ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات ( بستر پر ) موجود نہیں پایا ، تو میں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں ، پھر میں نے آپ کو تلاش کیا تو اچانک کیا دیکھتی ہوں کہ آپ رکوع یا سجدہ کی حالت میں کہہ رہے ہیں : «سبحانك اللہم وبحمدك لا إله إلا أنت» ” اے اللہ ! تو پاک ہے ، میں تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتا ہوں ، نہیں ہے کوئی معبود برحق مگر تو ہی “ ، تو وہ کہنے لگیں : میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! میں کس خیال میں تھی اور آپ کس حال میں ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1132]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 42 (485)، (تحفة الأشراف: 16256)، مسند احمد 6/151، ویأتی عند المؤلف في عشرة النساء 4 برقم: (3413) (صحیح)
73: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدہ کی ایک اور دعا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَأَ فَاسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَبَدَأَ فَاسْتَفْتَحَ مِنَ الْبَقَرَةِ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ يَتَعَوَّذُ، ثُمَّ رَكَعَ فَمَكَثَ رَاكِعًا بِقَدْرِ قِيَامِهِ يَقُولُ: فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ سَجَدَ بِقَدْرِ رُكُوعِهِ يَقُولُ: " فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ قَرَأَ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ سُورَةً ثُمَّ سُورَةً فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھا ، پہلے آپ نے مسواک کی ، پھر وضو کیا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے ، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کی ، آپ جب بھی کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے اس پر رحمت کا سوال کرتے ، اور جب بھی عذاب کی کسی آیت سے گزرتے تو ٹھہرتے ، اور اس کے عذاب سے اس کی پناہ مانگتے ، پھر آپ نے رکوع کیا ، تو رکوع میں اپنے قیام کے بقدر ٹھہرے رہے ، آپ اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے : «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» پھر آپ نے اپنے رکوع کے بقدر سجدہ کیا ، اور اپنے سجدے میں آپ کہہ رہے تھے : «سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة» ، پھر آپ نے دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی ، پھر ایک اور سورۃ پڑھی ، پھر ایک اور سورۃ پڑھی ، آپ نے اسی طرح کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1133]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1050 (صحیح)
74: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدہ کی ایک اور دعا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ لَمْ يَرْكَعْ فَمَضَى قُلْتُ يَخْتِمُهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَمَضَى قُلْتُ يَخْتِمُهَا، ثُمَّ يَرْكَعُ فَمَضَى حَتَّى قَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ، ثُمَّ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى لَا يَمُرُّ بِآيَةِ تَخْوِيفٍ أَوْ تَعْظِيمٍ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا ذَكَرَهُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی ، آپ نے سو آیتیں پڑھ لیں لیکن رکوع نہیں کیا ، اور آگے بڑھ گئے ، میں نے اپنے جی میں کہا : لگتا ہے کہ آپ اسے دونوں رکعتوں میں ختم کر دیں گے ، لیکن آپ برابر آگے بڑھتے رہے ، تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ اسے ختم کر کے ہی پھر رکوع کریں گے ، لیکن آپ سورت ختم کر کے آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ پوری سورۃ نساء آپ نے پڑھ ڈالی ، پھر سورۃ اٰل عمران بھی پڑھ ڈالی ، پھر تقریباً اپنے قیام ہی کے برابر رکوع میں رہے ، اپنے رکوع میں کہہ رہے تھے : «سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم» پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا ، اور دیر تک کھڑے رہے ، پھر آپ نے سجدہ کیا تو دیر تک سجدہ میں رہے ، آپ سجدے میں کہہ رہے تھے : «سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى» جب آپ کسی خوف کی یا اللہ تعالیٰ کی بڑائی کی آیت پر سے گزرتے ، تو اللہ کا ذکر کرتے یعنی اس کی حمد و ثنا کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1134]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم: 1009 (صحیح)
75: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدہ کی ایک اور دعا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبوح قدوس رب الملائكة والروح» ” تمام فرشتے اور جبرائیل کا رب ہر نقص و عیب سے پاک ہے “ کہتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1135]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1049 (صحیح)
76: بَابُ : عَدَدِ التَّسْبِيحِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں تسبیح پڑھنے کی تعداد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أخبرنا محمد بن رافع قال حدثنا عبد الله بن إبراهيم بن عمر بن كيسان قال حدثني أبي عن وهب بن مأنوس قال سمعت سعيد بن جبير قال سمعت أنس بن مالك يقول: ما رأيت أحدا أشبه صلاة بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم من هذا الفتى يعني عمر بن عبد العزيز فحزرنا في ركوعه عشر تسبيحات وفي سجوده عشر تسبيحات ‏.‏
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبدالعزیز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ نماز کسی کی نہیں دیکھی ، تو ہم نے ان کے رکوع میں دس تسبیحوں کا ، اور سجدے میں بھی دس تسبیحوں کا اندازہ لگایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1136]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد إن شاء الله
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 154 (888)، (تحفة الأشراف: 859)، مسند احمد 3/162، وانظر حدیث رقم: 982 (ضعیف) (اس کے راوی ’’وہب‘‘ مجہول الحال ہیں، لیکن ’’عمر بن عبدالعزیز‘‘ کی نماز کے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہونے کی تائید ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث ہے (رقم: 983) سے ہوتی ہے)
77: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الذِّكْرِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدہ میں دعا نہ پڑھنے کی رخصت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ أَبُو يَحْيَى بِمَكَّةَ وَهُوَ بَصْرِيٌّ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ مَالِكِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، قال: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَأَتَى الْقِبْلَةَ فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَذَهَبَ فَصَلَّى فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُ صَلَاتَهُ وَلَا يَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَيْكَ اذْهَبْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَأَعَادَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبْتَ مِنْ صَلَاتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّهَا لَمْ تَتِمَّ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَغْسِلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَيَمْسَحَ بِرَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُكَبِّرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدَهُ وَيُمَجِّدَهُ قَالَ هَمَّامٌ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَيَحْمَدَ اللَّهَ وَيُمَجِّدَهُ وَيُكَبِّرَهُ قَالَ فَكِلَاهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ وَيَقْرَأَ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَذِنَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَرْكَعَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يَقُولَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَسْتَوِيَ قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرَ وَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ جَبْهَتَهُ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ وَيُكَبِّرَ فَيَرْفَعَ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمَ صُلْبَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرَ فَيَسْجُدَ حَتَّى يُمَكِّنَ وَجْهَهُ وَيَسْتَرْخِيَ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلْ هَكَذَا لَمْ تَتِمَّ صَلَاتُهُ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے ، اور ہم لوگ آپ کے اردگرد تھے ، اتنے میں ایک شخص آیا اور وہ قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنے لگا ، جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” تم پر بھی سلامتی ہو ، جاؤ پھر سے نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ ، تو وہ گیا ، اور اس نے جا کر پھر سے نماز پڑھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے لیکن وہ یہ جان نہیں رہا تھا کہ اس میں وہ کیا غلطی کر رہا ہے ؟ تو جب وہ اپنی نماز پوری کر چکا تو آیا ، اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا : ” تم پر بھی سلامتی ہو ، جاؤ پھر سے نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ ، چنانچہ اس نے دو یا تین بار نماز دہرائی ، پھر اس شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میری نماز میں آپ نے کیا خامی پائی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کی نماز پوری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ اچھی طرح وضو نہ کر لے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے کرنے کا حکم دیا ہے ، وہ اپنا چہرہ دھوئے ، اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوئے ، اپنے سر کا مسح کرے ، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے ، پھر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کرے ( یعنی تکبیر تحریمہ کہے ) اور اس کی حمد و ثناء اور بزرگی بیان کرے “ ( یعنی دعائے ثناء پڑھے ) ۔ ہمام کہتے ہیں : میں نے اسحاق کو «ويحمد اللہ ويمجده ويكبره» بھی کہتے سنا ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے دونوں طرح سے انہیں کہتے سنا ہے ۔ آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور قرآن میں سے حسب توفیق اور مرضی الٰہی جو آسان ہو پڑھے ، پھر ” اللہ اکبر “ کہے ، اور رکوع کرے یہاں تک کہ اس کے تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں ، اور ڈھیلے پڑ جائیں ، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہے ، پھر سیدھا کھڑا ہو جائے یہاں تک اس کی پیٹھ برابر ہو جائے ، پھر ” اللہ اکبر “ کہے ، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین پر ٹکا دے “ ، ( میں نے اسحاق کو ” اپنی پیشانی بھی “ کہتے سنا ہے ) ، ” اور تمام جوڑ اپنی جگہ آ جائیں اور ڈھیلے پڑ جائیں ، پھر اللہ اکبر کہے ، اور اپنا سر اٹھائے یہاں تک کہ اپنی سرین پر سیدھا ہو کر بیٹھ جائے ، اور اپنی پیٹھ سیدھی کر لے ، پھر ” اللہ اکبر “ کہے ، اور سجدہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنا چہرہ زمین سے اچھی طرح ٹکا دے ، اور ڈھیلا پڑ جائے ، اگر اس نے اس طرح نہیں کیا تو اس کی نماز پوری نہیں ہوئی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1137]
💡 وضاحت:
۱؎: مؤلف نے اس سے سجدے میں تسبیحات نہ پڑھنے پر استدلال اس طرح کیا ہے کہ اس میں تسبیحات کا ذکر نہیں ہے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دیگر بہت سی واجبات کا بھی ذکر نہیں کیا ہے، یہاں صرف تعدیل ارکان پر توجہ دلانا مقصود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 668، ویأتي برقم: 1314 (صحیح)
78: بَابُ : أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ تعالیٰ سے بندہ سجدہ میں سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے ، لہٰذا ( سجدے میں ) تم لوگ بکثرت دعا کیا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1138]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 42 (482)، سنن ابی داود/فیہ 152 (785)، (تحفة الأشراف: 12565)، مسند احمد 2/421 (صحیح)
79: بَابُ : فَضْلِ السُّجُودِ
باب: سجدہ کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، قال: كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ فَقَالَ: سَلْنِي، قُلْتُ: مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ قَالَ: " فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ".
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا ، تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو “ ، میں نے کہا : میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے علاوہ اور بھی کچھ ؟ “ میں نے عرض کیا : بس یہی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1139]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کثرت سے سجدے کیا کرو اس لیے کہ نماز کی عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، شاید تمہاری کثرت سجود سے مجھے تمہارے لیے اپنی رفاقت کی سفارش کا موقع مل جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 43 (489)، سنن ابی داود/فیہ 312 (1320)، سنن الترمذی/الدعوات 27 (3416)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3879)، (تحفة الأشراف: 3603)، مسند احمد 4/57، 58، 59 (صحیح)
80: بَابُ : ثَوَابِ مَنْ سَجَدَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَجْدَةً
باب: خالص اللہ کے لیے صرف ایک سجدہ کے ثواب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، قال: حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ، قال: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي أَوْ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ فَسَكَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ ثَوْبَانَ فَقَالَ لِي: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً".
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، تو میں نے کہا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے فائدہ پہنچائے ، یا مجھے جنت میں داخل کرے ، وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر میری طرف متوجہ ہوئے ، اور کہنے لگے : تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے بدلے ، اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے ، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے “ ۔ معدان کہتے ہیں : پھر میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان سے وہی سوال کیا جو ثوبان رضی اللہ عنہ سے کر چکا تھا ، تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا : تم سجدوں کو لازم پکڑو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” جب بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے ، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1140]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 43 (488)، سنن الترمذی/الصلاة 170 (388، 389)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 201 (1423) مختصراً، (تحفة الأشراف: 10965، 2112)، مسند احمد 5/276، 280، 283 (صحیح)
81: بَابُ : مَوْضِعِ السُّجُودِ
باب: سجدہ میں اعضاء کا وہ حصہ جو زمین پر لگتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ بِالْمِصِّيصَةِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، فَحَدَّثَ: أَحَدُهُمَا حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ وَالْآخَرُ مُنْصِتٌ قال: فَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَتَشْفَعُ وَتَشْفَعُ الرُّسُلُ وَذَكَرَ الصِّرَاطَ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ خَلْقِهِ وَأَخْرَجَ مِنَ النَّارِ مَنْ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ أَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ وَالرُّسُلَ أَنْ تَشْفَعَ فَيُعْرَفُونَ بِعَلَامَاتِهِمْ إِنَّ النَّارَ تَأْكُلُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا مَوْضِعَ السُّجُودِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ".
عطاء بن یزید کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، تو ان دونوں میں سے ایک نے شفاعت کی حدیث بیان کی ، اور دوسرے خاموش رہے ، انہوں نے کہا : فرشتے آئیں گے ، شفاعت کریں گے ، اور انبیاء و رسل بھی شفاعت کریں گے ، نیز انہوں نے پل صراط کا ذکر کیا ، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” پل صراط پار کرنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا “ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلوں سے فارغ ہو گا ، اور جہنم سے جسے نکالنا چاہے گا نکال لے گا ، تو اللہ فرشتوں کو اور رسولوں کو حکم دے گا کہ وہ شفاعت کریں ، قابل شفاعت لوگ اپنی نشانیوں سے پہچان لیئے جائیں گے ، آگ ابن آدم کی ہر چیز کھا جائے گی سوائے سجدہ کی جگہ کے ، پھر ان پر چشمہ حیات کا پانی انڈیلا جائے گا ، تو وہ اگنے لگیں گے جیسے سیلاب کے خش و خاشاک میں دانہ اگتا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1141]
💡 وضاحت:
۱؎: جس طرح سیلاب کے کوڑا کرکٹ میں دانہ اُگ کر جلد ہی ترو تازہ ہو جاتا ہے، اسی طرح یہ لوگ بھی اس پانی کی برکت سے بھلے چنگے ہو جائیں گے، اور آگ کے نشانات مٹ جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 29 1 (806)، الرقاق 52 (6573)، التوحید 24 (7437)، صحیح مسلم/الإیمان 80 (182)، (تحفة الأشراف: 4156، 14213)، مسند احمد 2/275، 293، 533 و 3/94، سنن الدارمی/الرقاق 96 (2859) (صحیح)
82: بَابُ : هَلْ يَجُوزُ أَنْ تَكُونَ سَجْدَةٌ أَطْوَلَ مِنْ سَجْدَةٍ
باب: کیا یہ جائز ہے کہ ایک سجدہ دوسرے سجدہ سے لمبا ہو؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعِشَاءِ وَهُوَ حَامِلٌ حَسَنًا أَوْ حُسَيْنًا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا قَالَ: أَبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَجَعْتُ إِلَى سُجُودِي فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ سَجَدْتَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ صَلَاتِكَ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ قَالَ: " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ وَلَكِنَّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ".
شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی دونوں نمازوں میں سے کسی ایک نماز کے لیے نکلے ، اور حسن یا حسین کو اٹھائے ہوئے تھے ، جب آپ نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو انہیں ( زمین پر ) بٹھا دیا ، پھر آپ نے نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہی ، اور نماز شروع کر دی ، اور اپنی نماز کے دوران آپ نے ایک سجدہ لمبا کر دیا ، تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر ہے ، اور آپ سجدے میں ہیں ، پھر میں اپنے سجدے کی طرف دوبارہ پلٹ گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کر دیا کہ ہم نے سمجھا کوئی معاملہ پیش آ گیا ہے ، یا آپ پر وحی نازل ہونے لگی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی ، البتہ میرے بیٹے نے مجھے سواری بنا لی تھی تو مجھے ناگوار لگا کہ میں جلدی کروں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کر لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1142]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، حم3/493، 6/467، (تحفة الأشراف: 4832) (صحیح)
83: بَابُ : التَّكْبِيرِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ السُّجُودِ
باب: سجدہ سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ قَالَ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر جھکنے ، اٹھنے ، کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں ” اللہ اکبر “ کہتے دیکھا ، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں ” السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ “ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی ، اور میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1143]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1084 (صحیح)
84: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ السَّجْدَةِ الأُولَى
باب: پہلے سجدہ سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ كُلَّهُ يَعْنِي رَفْعَ يَدَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ، اور جب رکوع کرتے تو بھی ایسا ہی کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے ، اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے یعنی اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1144]
💡 وضاحت:
۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم: ۱۰۸۶۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1086) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: انظر الأرقام: 1086، 1088 (صحیح)
85: بَابُ : تَرْكِ ذَلِكَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَبَعْدَ الرُّكُوعِ وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ، اور جب رکوع کرتے تو بھی ، اور رکوع کے بعد بھی ، اور دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1145]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1026 (صحیح)
86: بَابُ : الدُّعَاءِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَى جَنْبِهِ فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ ذُو الْمَلَكُوتِ وَالْجَبَرُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ، ثُمَّ قَرَأَ بِالْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ فَقَالَ: فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَقَالَ: حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ لِرَبِّيَ الْحَمْدُ وَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى وَكَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ کے پہلو میں جا کر کھڑے ہو گئے ، آپ نے «اللہ أكبر ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة» کہا ، پھر آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی ، پھر رکوع کیا ، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر رہا ، اور آپ نے رکوع میں : «سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم‏» کہا ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو : «لربي الحمد لربي الحمد» کہا ، اور آپ اپنے سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى سبحان ربي الأعلى» اور دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي رب اغفر لي‏» کہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1146]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1070 (صحیح)
87: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ تِلْقَاءَ الْوَجْهِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان چہرہ کے سامنے رفع یدین کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو سَهْلٍ الْأَزْدِيُّ، قال: صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ بِمِنًى فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَ" إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الْأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ" فَأَنْكَرْتُ أَنَا ذَلِكَ فَقُلْتُ: لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ إِنَّ هَذَا يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ، فَقَالَ لَهُ: وَهَيْبٌ تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ نَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ: رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ وَقَالَ أَبِي: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ.
نضر بن کثیر ابوسہل ازدی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن طاؤس نے منیٰ میں مسجد خیف میں میرے پہلو میں نماز پڑھی ، تو انہوں نے جب پہلا سجدہ کیا ، اور سجدے سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے کے بالمقابل اٹھایا ، مجھے یہ بات عجیب لگی تو میں نے وہیب بن خالد سے کہا کہ یہ ایسا کام کر رہے ہیں جو میں نے کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا ؟ ، تو وہیب نے ان سے کہا : آپ ایسا کام کرتے ہیں جسے ہم نے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ؟ اس پر عبداللہ بن طاؤس نے کہا : میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے دیکھا ہے ، اور میرے والد نے کہا : میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کو ایسا کرتے دیکھا ہے ، اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1147]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (740) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 329
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 117 (740)، (تحفة الأشراف: 5719) (صحیح) (اس کے راوی ’’نضر بن کثیر‘‘ ضعیف ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح لغیرہ ہے)
88: بَابُ : كَيْفَ الْجُلُوسُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی کیفیت کا بیان؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قالت: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ خَوَّى بِيَدَيْهِ حَتَّى يُرَى وَضَحَ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ وَإِذَا قَعَدَ اطْمَأَنَّ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے پہلو سے جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ کے پیچھے آپ کے بغل کی سفیدی نظر آتی ، اور جب بیٹھتے تو اپنی بائیں ران زمین پر لگا کر بیٹھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1148]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1110 (صحیح)
89: بَابُ : قَدْرِ الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: " كَانَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكُوعُهُ وَسُجُودُهُ وَقِيَامُهُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یعنی آپ کا رکوع ، سجدہ ، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کا قیام اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً سب برابر برابر ہوتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1149]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1066 (صحیح)
90: بَابُ : التَّكْبِيرِ لِلسُّجُودِ
باب: سجدے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اٹھتے ، جھکتے ، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے ، اور ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1150]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1084 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأَسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اٹھتے تو جس وقت کھڑے ہوتے «اللہ اکبر» کہتے ، پھر جب رکوع کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے ، پھر جس وقت اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے ، پھر کھڑے ہو کر کہتے : «ربنا لك الحمد» پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «اللہ اکبر» کہتے ، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو «اللہ اکبر» کہتے ، پھر جب ( دوسرا ) سجدہ کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے ، پھر جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو «اللہ اکبر» کہتے ، پھر پوری نماز میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ آپ اسے پوری کر لیتے ، اور جس وقت دوسری رکعت سے بیٹھنے کے بعد اٹھتے تو ( بھی ) «اللہ اکبر» کہتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1151]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 117 (789)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (392)، سنن ابی داود/الصلاة 117 (738)، مسند احمد 2/270، 454، (تحفة الأشراف: 14862) (صحیح)
91: بَابُ : الاِسْتِوَاءِ لِلْجُلُوسِ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں سے اٹھتے وقت بیٹھنے کے لیے سیدھا ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: جَاءَنَا أَبُو سُلَيْمَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ إِلَى مَسْجِدِنَا فَقَالَ: " أُرِيدُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ: فَقَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الْآخِرَةِ".
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ ابوسلیمان مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے : میں تمہیں دکھانا چاہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے نماز پڑھتے دیکھا ہے ، تو وہ پہلی رکعت میں آخری سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے وقت بیٹھے ( جلسہ استراحت کرتے ) ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1152]
💡 وضاحت:
۱؎: اس بیٹھک کو جلسہ استراحت کہتے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ مسنون نہیں، اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آپ اسے بالقصد نہیں کرتے تھے بلکہ اخیر عمر میں کبر سنی کی وجہ سے ایسا کرتے تھے، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ صحیحین کی روایت میں اس کے کرنے کا حکم آیا ہے، اور جو روایتیں اس کے خلاف آئی ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا ترک تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ اس کے مسنون ہونے کے منافی نہیں، کیونکہ جو چیز واجب نہ ہو اسے کبھی کبھی ترک کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 45 (677)، 127 (802)، 140 (818)، سنن ابی داود/الصلاة 142 (842، 843)، (تحفة الأشراف: 11185)، مسند احمد 3/436، 5/53 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَإِذَا كَانَ فِي وَتْرٍ مِنْ صَلَاتِهِ لَمْ يَنْهَضْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا ، جب آپ اپنی نماز کی طاق رکعتوں میں ہوتے تو جب تک بیٹھ کر سیدھے نہیں ہو جاتے نہیں اٹھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1153]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 142 (823)، سنن ابی داود/الصلاة 142 (844)، سنن الترمذی/الصلاة 98 (287)، (تحفة الأشراف: 11183) (صحیح)
92: بَابُ : الاِعْتِمَادِ عَلَى الأَرْضِ عِنْدَ النُّهُوضِ
باب: اٹھتے وقت زمین پر ہاتھ ٹیکنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قال: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا فَيَقُولُ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَيُصَلِّي فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ الرَّكْعَةِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ فَاعْتَمَدَ عَلَى الْأَرْضِ".
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تو کہتے : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ تو وہ بغیر وقت کے نماز پڑھتے ، جب وہ پہلی رکعت میں دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر سیدھے ہو جاتے ، پھر کھڑے ہوتے تو زمین پر اپنا ہاتھ ٹیکتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1154]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1152، (تحفة الأشراف: 11185) (صحیح)
93: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ عَنِ الأَرْضِ، قَبْلَ الرُّكْبَتَيْنِ
باب: زمین سے ہاتھ کو گھٹنوں سے پہلے اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَمْ يَقُلْ هَذَا عَنْ شَرِيكٍ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو گھٹنوں کو ہاتھ سے پہلے زمین پر رکھتے ، اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اسے شریک سے یزید بن ہارون کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے ، واللہ تعالیٰ اعلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1155]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (1090) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1090 (ضعیف) (شریک القاضی حافظے کے کمزور راوی ہیں اس لیے جب کسی روایت میں منفرد ہوں تو ان کی روایت قبول نہیں کی جاتی)
94: بَابُ : التَّكْبِيرِ لِلنُّهُوضِ
باب: اٹھنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ" كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ فَيُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھاتے تھے ، تو جب جب جھکتے اور اٹھتے «اللہ اکبر» کہتے ، پھر جب وہ سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتے : قسم اللہ کی ، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1156]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 115 (785)، صحیح مسلم/الصلاة 10 (392)، (تحفة الأشراف: 15247)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (19)، مسند احمد 2/236، 502، 527 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا صَلَّيَا خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" فَلَمَّا رَكَعَ كَبَّرَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ وَرَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ حِينَ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَتْ هَذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا" وَاللَّفْظُ لِسَوَّارٍ.
ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، جب انہوں نے رکوع کیا تو اللہ اکبر کہا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہا ، پھر سجدہ کیا تو «اللہ اکبر» کہا ، اور سجدہ سے اپنا سر اٹھایا تو «اللہ اکبر» کہا ، پھر جس وقت رکعت پوری کر کے کھڑے ہوئے تو «اللہ اکبر» کہا ، پھر کہا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں نماز میں ازروئے مشابہت تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہوں ، برابر آپ کی نماز ایسے رہی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے ، یہ الفاظ «سّوار» کے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1157]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 128 (803)، سنن ابی داود/الصلاة 140 (836)، (تحفة الأشراف: 14864)، مسند احمد 2/270، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1283) (صحیح)
95: بَابُ : كَيْفَ الْجُلُوسُ لِلتَّشَهُّدِ الأَوَّلِ
باب: پہلے تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت کا بیان؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى وَتَنْصِبَ الْيُمْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز کی سنت میں سے یہ بات ہے کہ تم اپنے بائیں پیر کو بچھاؤ اور دائیں کو کھڑا رکھو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1158]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 145 (827) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 180 (958، 959، 960، 961) مختصراً، (تحفة الأشراف: 7269)، موطا امام مالک/الصلاة 12 (51) (صحیح)
96: بَابُ : الاِسْتِقْبَالِ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ الْقَدَمِ الْقِبْلَةَ عِنْدَ الْقُعُودِ لِلتَّشَهُّدِ
باب: تشہد میں بیٹھتے وقت پیر کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ رخ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى، أَنَّ الْقَاسِمَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: " مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ" أَنْ تَنْصِبَ الْقَدَمَ الْيُمْنَى وَاسْتِقْبَالُهُ بِأَصَابِعِهَا الْقِبْلَةَ وَالْجُلُوسُ عَلَى الْيُسْرَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز کی سنت میں سے دائیں پیر کو کھڑا رکھنا ، اور اس کی انگلیوں کو قبلہ رخ رکھنا اور بائیں پیر پر بیٹھنا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1159]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)
97: بَابُ : مَوْضِعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الْجُلُوسِ لِلتَّشَهُّدِ الأَوَّلِ
باب: پہلے تشہد کے لیے بیٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قال: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ أَضْجَعَ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَنَصَبَ أُصْبُعَهُ لِلدُّعَاءِ وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى" قَالَ، ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ مِنْ قَابِلٍ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الْبَرَانِسِ.
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کر لیتے ، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو بھی ایسے ہی اٹھاتے ، اور جب دو رکعت پڑھ کر بیٹھتے تو بائیں پیر کو بچھا دیتے ، اور دائیں کو کھڑا رکھتے ، اور اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے ، اور ( شہادت کی ) انگلی دعا کے لیے کھڑی رکھتے ، اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھتے ۔ وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں آئندہ سال ان لوگوں کے پاس آیا ، تو میں نے لوگوں کو جبوں کے اندر اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1160]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (728)، (تحفة الأشراف: 11783)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1264 (حسن صحیح)
98: بَابُ : مَوْضِعِ الْبَصَرِ فِي التَّشَهُّدِ
باب: تشہد میں نگاہ رکھنے کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُحَرِّكُ الْحَصَى بِيَدِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ لَا تُحَرِّكِ الْحَصَى وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَلَكِنِ اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَالَ: وَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ قَالَ: " فَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَمَى بِبَصَرِهِ إِلَيْهَا أَوْ نَحْوِهَا ثُمَّ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ نماز کی حالت میں اپنے ہاتھ سے کنکریاں ہٹا رہا ہے ، تو جب وہ سلام پھیر چکا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے اس سے کہا : جب تم نماز میں رہو تو کنکریوں کو ادھر ادھر مت کرو کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہے ، البتہ اس طرح کرو جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ، اس نے پوچھا : آپ کیسے کرتے تھے ؟ تو انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا ، اور اپنی اس انگلی سے جو انگوٹھے سے متصل ہے قبلہ کی طرف اشارہ کیا ، اور اپنی نگاہ اسی انگلی پر رکھی ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1161]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے سلام پھیرنے تک برابر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، اشارہ کرنے کے بعد انگلی کے گرا لینے یا «لا الٰہ» پر اٹھانے اور «الا اللہ» پڑھ کر گرا لینے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 21 (580)، سنن ابی داود/الصلاة 186 (987)، (تحفة الأشراف: 7351)، موطا امام مالک/الصلاة 12 (98)، مسند احمد 2/10، 45، 65، 73، سنن الدارمی/الصلاة 83 (1378)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1267، 1268 (حسن صحیح)
99: بَابُ : الإِشَارَةِ بِالأُصْبُعِ فِي التَّشَهُّدِ الأَوَّلِ
باب: پہلے تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السِّجْزِيُّ يُعْرَفُ بِخَيَّاطِ السُّنَّةِ نَزَلَ بِدِمَشْقَ أَحَدُ الثِّقَاتِ قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا جَلَسَ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوْ فِي الْأَرْبَعِ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ أَشَارَ بِأُصْبُعِهِ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری یا چوتھی رکعت میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پہ رکھتے پھر اپنی ( شہادت کی ) انگلی سے اشارہ کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1162]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5265) (صحیح)
100: بَابُ : كَيْفَ التَّشَهُّدُ الأَوَّلُ
باب: پہلے تشہد کی کیفیت کا بیان؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنِ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقُولَ إِذَا جَلَسْنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دوسری رکعت میں بیٹھیں تو «‏التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” تمام بزرگیاں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ، تمام دعائیں اور صلاتیں اور تمام پاک چیزیں بھی ، اے نبی ! آپ پر سلامتی ہو ، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، اور سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ کہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1163]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 99 (289)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9181)، مسند احمد 1/413، 423، ویأتي عند المؤلف برقم: 1167 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ غَيْرَ أَنْ نُسَبِّحَ وَنُكَبِّرَ وَنَحْمَدَ رَبَّنَا وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ فَقَالَ: " إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَلْيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہر دو رکعت ( کے بعد قعدہ ) میں کیا کہیں ، سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کی پاکی بیان کریں ، اور اس کی بڑائی اور حمد و ثنا کریں ، حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کے فواتح اور خواتم سکھا دئیے ہیں ( یعنی وہ ساری باتیں سکھا دی ہیں جن میں خیر و بھلائی ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم ہر دو رکعت کے بعد بیٹھو تو کہو : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ اسے جو دعا بھی اچھی لگے اختیار کرے ، اور اللہ عزوجل سے دعا کرے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1164]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 182 (969)، سنن الترمذی/النکاح 17 (1105)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899)، مسند احمد 1/408، 413، 418، 423، 437، (تحفة الأشراف: 9505) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ فَأَمَّا التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَى آخِرِ التَّشَهُّدِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صلاۃ کا تشہد اور حاجت کا تشہد دونوں سکھایا ، رہا صلاۃ کا تشہد تو وہ «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1165]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1164 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ قال: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَتَشَهَّدُ بِهَذَا فِي الْمَكْتُوبَةِ وَالتَّطَوُّعِ، وَيَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، وَحَمَّادٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ میں نے سفیان ( سفیان ثوری ) کو یہی تشہد فرض اور نفل دونوں میں پڑھتے سنا ، اور وہ کہتے تھے کہ ہم سے اسحاق نے بیان کیا انہوں نے ابو احوص سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ، نیز اسے ہم سے منصور اور حماد نے بیان کیا اور ان دونوں نے ابووائل سے روایت کیا اور انہوں نے عبداللہ ابن مسعود سے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1166]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث أبو إسحاق عن أبي الأحوص، عن عبداللہ تقدم تخریجہ، أنظر حدیث رقم: 1164، ولکن حدیث منصور وحماد عن أبي وائل عن عبداللہ أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 17 (6328)، صحیح مسلم/الصلاة 16 (402)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899م1)، (تحفة الأشراف: 9242، 9296)، مسند احمد 1/413، 439، 440، 464، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1170، 1171، 1278 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ الْجَزَرِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ حَدَّثَهُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا فِي كُلِّ جَلْسَةٍ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم کچھ نہیں جانتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” تم ہر جلسہ میں «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» کہو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1167]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1163، (تحفة الأشراف: 9181، 9472) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ الرَّافِقِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ إِذَا صَلَّيْنَا فَعَلَّمَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ فَقَالَ لَنَا: " قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" قَالَ: عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: زَيْدٌ عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يُعَلِّمُنَا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے تھے کہ جب ہم صلاۃ پڑھیں تو کیا کہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جامع کلمات سکھائے ، آپ نے ہم سے فرمایا : کہو : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ہمیں یہ کلمات اسی طرح سکھاتے تھے جیسے وہ ہمیں قرآن سکھاتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1168]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9413) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَارِثُ بْنُ عَطِيَّةَ وَكَانَ مِنْ زُهَّادِ النَّاسِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قال: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقُولُ السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے : «السلام على اللہ السلام على جبريل السلام على ميكائيل» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «السلام على اللہ» نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سراپا سلام ہے بلکہ یوں کہو : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1169]
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة وحده لا شريك له
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 1168) (شاذ) (وحدہ لا شریک لہ…کا اضافہ شاذ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قال: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَقُولُ السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے : «السلام على اللہ السلام على جبريل السلام على ميكائيل» تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «السلام على اللہ» نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سراپا سلام ہے بلکہ یوں کہو : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1170]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 1166 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، وَحَمَّادٍ، وَمُغِيرَةَ، وأَبِي هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي التَّشَهُّدِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو هَاشِمٍ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» کہتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1171]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث منصور وحماد، عن أبي وائل، عن عبداللہ تقدم تخریجہ انظر حدیث رقم: 1166، ولکن حدیث سلیمان بن مہران، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن عبداللہ (صحیح) ٭ابو عبدالرحمن (نسائی) کہتے ہیں: ابو ہاشم غریب ہیں 1؎۔ وضاحت 1؎: یعنی اس روایت میں ان کا ذکر صرف اس سند میں ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قال: حَدَّثَنَا سَيْفٌ الْمَكِّيُّ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ وَكَفُّهُ بَيْنَ يَدَيْهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے اور میری ہتھیلی آپ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان ہوتی ( آپ فرماتے : کہو ) «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1172]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإستئذان 28 (6265) مطولاً، صحیح مسلم/الصلاة 16 (402)، مسند احمد 1/414، (تحفة الأشراف: 9338)، صحیح البخاری/الأذان 148 (831)، 150 (835)، الاستئذان 3 (6230)، صحیح مسلم/الصلاة 16 (402)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (968)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899)، (تحفة الأشراف: 9245)، مسند احمد 1/382، 413، 423، 427، 431، 440، سنن الدارمی/الصلاة 84 (1379)، وحدیث مغیرة بن مقسم، عن أبي وائل، عن عبداللہ أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 5 (7381)، مسند احمد 1/440، (تحفة الأشراف: 9293)، وحدیث یحیی بن دینار، وأبي ہاشم أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (899م1)، (تحفة الأشراف: 9314) (صحیح)
101: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کی ایک اور قسم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ السَّرْخَسِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قال: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ الْأَشْعَرِيّ قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ" قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا ، تو اس میں آپ نے ہمیں ہمارا طریقہ سکھایا ، اور ہم سے ہماری صلاۃ کی تشریح فرمائی ، اور فرمایا : ” اپنی صفیں درست کرو ، پھر تم میں کا کوئی امامت کرے ، تو جب وہ «اللہ اکبر» کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو ، اور وہ «ولا الضالين» کہے تو تم «آمین» کہو ، اللہ تعالیٰ تمہاری یہ دعا قبول کرے گا ، اور جب امام «اللہ اکبر» کہے ، اور رکوع کرے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور رکوع کرو ، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا ، اور تم سے پہلے رکوع سے اپنا سر اٹھائے گا ، ادھر کی تاخیر ادھر پوری ہو جائے گی ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو ، اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا ، اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر فرمایا ہے : اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی ، پھر جب امام «اللہ اکبر» کہے ، اور سجدہ کرے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور سجدہ کرو ، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا ، اور تم سے پہلے سجدے سے سر اٹھائے گا ، ادھر کی تاخیر ادھر پوری ہو جائے گی “ ۱؎ اور جب امام قاعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی زبان پہ پہلی دعا یہ ہو : «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1173]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی امام تم سے جتنا پہلے سجدہ میں گیا اتنا ہی پہلے وہ سجدہ سے اٹھ گیا، اس طرح تمہاری اور امام کی نماز برابر ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 831، ویأتي برقم: 1174 مختصراً، 1281 (صحیح)
102: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کی ایک اور قسم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ وَهُوَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمْ صَلَّوْا مَعَ أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
حطان بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ان لوگوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی ، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب امام قاعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی زبان پہ پہلی دعا یہ ہو : «التحيات لله الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1174]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ان دونوں تشہدوں میں فرق یہ ہے کہ اس دوسری میں «التحیات» کے بعد «للہ» کا اضافہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 831، 1173 (صحیح)
103: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ التَّشَهُّدِ
باب: ایک اور تشہد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ وَكَانَ يَقُولُ: " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جیسے ہمیں قرآن پڑھنا سکھاتے تھے ، آپ کہتے تھے : «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته سلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1175]
💡 وضاحت:
۱؎: تمام کلمات کے اندر واؤ پوشیدہ ہے، یعنی: «التحیات والمبارکات والصلوات والطیبات للہ» واؤ کو اختصاراً حذف کر دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 16 (403)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (974)، سنن الترمذی/الصلاة 101 (290)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (900)، (تحفة الأشراف: 5750)، مسند احمد 1/292 ویأتی عند المؤلف في السھو 42 (برقم: 1279) (صحیح)
104: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ التَّشَهُّدِ
باب: ایک اور طرح کے تشہد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قال: سَمِعْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ ابْنُ نَابِلٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا" يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد پڑھنا سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ پڑھنا سکھاتے ، فرماتے : «بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل اللہ الجنة وأعوذ باللہ من النار» ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1176]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (902) وانظر الحديث الآتي (1282) أبو الزبير مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (902)، (تحفة الأشراف: 2665)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1282 (ضعیف) (اس کے راوی ’’أیمن‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، اور کسی نے اس پر ان کی متابعت نہیں کی ہے، دیکھئے اس حدیث پر خود مؤلف کا کلام حدیث رقم: 1282)
105: بَابُ : التَّخْفِيفِ فِي التَّشَهُّدِ الأَوَّلِ
باب: پہلے قعدہ کو ہلکا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ أَيُّوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ" قُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ: قَالَ ذَلِكَ يُرِيدُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت میں ایسا بیٹھتے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں ، راوی نے کہا : میں نے کہا : اٹھنے تک ؟ تو انہوں نے ( استاد نے ) کہا : ہاں ! یہی مراد ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1177]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (995) ترمذي (366) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 330
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 188 (995)، سنن الترمذی/الصلاة 154 (366)، (تحفة الأشراف: 9609)، مسند احمد 1/386، 410، 428، 436، 460 (ضعیف) (ابو عبیدہ کا ان کے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
106: بَابُ : تَرْكِ التَّشَهُّدِ الأَوَّلِ
باب: پہلا تشہد بھول کر چھوڑ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فَقَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ سَلَّمَ".
ابن بحینہ ( عبداللہ بن مالک ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، تو دوسری رکعت میں جس میں آپ بیٹھنا چاہتے تھے کھڑے ہو گئے ، اور اپنی نماز جاری رکھی ، یہاں تک کہ نماز کے آخر میں سلام پھیرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدہ کیا ، پھر سلام پھیرا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1178]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 146 (829)، 147 (830)، السھو 1، 5 (1224، 1225 و 1230)، الأیمان 15 (6670)، صحیح مسلم/المساجد 19 (570)، سنن ابی داود/الصلاة 200 (1034، 1035)، سنن الترمذی/الصلاة 172 (391)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 131 (1206، 1207)، (تحفة الأشراف: 9154)، موطا امام مالک/الصلاة 17 (65)، مسند احمد 5/345، 346، سنن الدارمی/الصلاة 176 (1540، 1541)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1177، 1223، 1224، 1262 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا فَمَضَى فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، تو دوسری رکعت میں کھڑے ہو گئے ، لوگوں نے سبحان اللہ کہا ، لیکن آپ نے نماز جاری رکھی ، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو دو سجدہ کیا ، پھر سلام پھیرا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1179]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
← پچھلی کتاب #15 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #17 →