سنن النسائي حدیث نمبر: 1037
Sunan an-Nasa'i 1037
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
3: بَابُ : مَوَاضِعِ الرَّاحَتَيْنِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں دونوں ہتھیلیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمٍ، قال: أَتَيْنَا أَبَا مَسْعُودٍ فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَقَامَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَكَبَّرَ فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَجَعَلَ أَصَابِعَهُ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ وَجَافَى بِمِرْفَقَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ حَتَّى اسْتَوَى كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ".
سالم البراد کہتے ہیں کہ ہم ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا : آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بیان کیجئے تو وہ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے ، اور اللہ اکبر کہا ، اور جب انہوں نے رکوع کیا تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پہ رکھا ، اور انگلیوں کو اس سے نیچے ، اور اپنی دونوں کہنیوں کو پہلو سے جدا رکھا یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی ، پھر انہوں نے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہا ، اور کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ ان کی ہر چیز سیدھی ہو گئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1037]
قال الشيخ الألباني:
صحيح إلا جملة الأصابع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 148 (863) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9985)، مسند احمد 4/119، 120 و 5/274، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1343) (صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، مگر ’’انگلیوں والا‘‘ ٹکڑا صحیح نہیں ہے، کیوں کہ اس کے راوی ’’عطاء بن السائب‘‘ مختلط راوی ہیں، اور ’’ابو الاحوص‘‘ یا زائدہ یا ابن علیہ (جو اگلی روایتوں میں ان کے راوی ہیں) ان سے اختلاط کے بعد روایت کرنے والے ہیں، اور انگلیوں والے ٹکڑے میں ان کا کوئی متابع نہیں پایا جاتا)