سنن النسائي حدیث نمبر: 1079
Sunan an-Nasa'i 1079
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
31: بَابُ : لَعْنِ الْمُنَافِقِينَ فِي الْقُنُوتِ
باب: دعائے قنوت میں منافقین پر لعنت بھیجنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ: " اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا ، آپ کہہ رہے تھے : «اللہم العن فلانا وفلانا» ” اے اللہ ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر “ ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ليس لك من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون» ” اے محمد ! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں ، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے ، کیونکہ وہ ظالم ہیں “ ( آل عمران : ۱۲۸ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1079]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 21 (4069)، تفسیر آل عمران 9 (4559)، الاعتصام 17 (7346)، (تحفة الأشراف: 6940)، مسند احمد 2/93، 147 (صحیح)