سنن النسائي حدیث نمبر: 1131
Sunan an-Nasa'i 1131
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
71: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: سجدے کی ایک اور دعا۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ. قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوَجَدْتُهُ وَهُوَ سَاجِدٌ وَصُدُورُ قَدَمَيْهِ نَحْوَ الْقِبْلَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنَتْ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بستر پر ) موجود نہیں پایا ، تو دیکھا کہ آپ سجدے کی حالت میں ہیں ، اور آپ کے دونوں قدموں کے پنجے قبلہ رخ ہیں ، تو میں نے آپ کو سجدہ میں کہتے سنا : «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے ، میں پناہ مانگتا ہوں تیری معافی کی تیری سزا سے ، اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری تجھ سے ، میں تیری حمد و ثنا کا حق نہیں ادا کر سکتا ، تو ایسے ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود کی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1131]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 76 (3493)، (تحفة الأشراف: 17585)، موطا امام مالک/القرآن 8 (31) (صحیح)