سنن النسائي حدیث نمبر: 1091
Sunan an-Nasa'i 1091
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
38: بَابُ : أَوَّلِ مَا يَصِلُ إِلَى الأَرْضِ مِنَ الإِنْسَانِ فِي سُجُودِهِ
باب: سجدے میں سب سے پہلے زمین پر پہنچنے والے انسانی عضو کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَبْرُكَ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی اپنی نماز کا قصد کرتا ہے تو وہ بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1091]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”استفھام انکاری“ ہے، یعنی ایسا نہیں کرنا چاہیئے، یعنی اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نماز میں نہیں بیٹھنا چاہیئے، اور یہ واضح رہے کہ چوپایوں کے گھٹنے ان کے اگلے دونوں پاؤں میں ہوتے ہیں، اونٹ پہلے اپنے اگلے پاؤں رکھتا ہے یعنی گھٹنے پہلے رکھتا ہے، اور انسان کو نماز میں اونٹ کی طرح بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے، اس لیے انسان اونٹ کی مخالفت کرتے ہوئے پہلے اپنے ہاتھ رکھے پھر گھٹنے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 141 (840، 841)، سنن الترمذی/الصلاة 85 (269)، (تحفة الأشراف: 13866)، مسند احمد 2/381، سنن الدارمی/الصلاة 74 (1360) (صحیح)