سنن النسائي حدیث نمبر: 1125
Sunan an-Nasa'i 1125
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قال: قالت عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ فَجَعَلْتُ أَلْتَمِسُهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ أَتَى بَعْضَ جَوَارِيهِ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی خواب گاہ میں نہیں ملے ، تو میں آپ کو تلاش کرنے لگی ، اور مجھے گمان ہوا کہ شاید آپ اپنی کسی لونڈی کے پاس چلے گئے ہیں کہ اچانک میرا ہاتھ آپ پر پڑا ، آپ سجدے میں تھے ، اور کہہ رہے تھے : «اللہم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت» ” اے اللہ ! بخش دے میرے ان گناہوں کو جنہیں میں نے چھپا کر کیا ہے اور جنہیں میں نے اعلانیہ کیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1125]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17678)، مسند احمد 6/147، وانظر حدیث رقم: 169 (صحیح)