سنن النسائي حدیث نمبر: 1072
Sunan an-Nasa'i 1072
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
27: بَابُ : الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ
باب: نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ سُئِلَ" هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ".
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ! ( پڑھی ہے ) پھر ان سے پوچھا گیا ، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد ؟ رکوع کے بعد ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1072]
💡 وضاحت:
۱؎: اور رکوع سے پہلے کی بھی روایت موجود ہے جیسا کہ ابن ماجہ (حدیث رقم: ۱۱۸۳) میں «نقنت قبل الرکوع وبعدہ» کے الفاظ آئے ہیں اور اس کی سند قوی ہے۔ گویا دونوں طرح جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1444)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1184)، مسند احمد 3/113، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1640)، (تحفة الأشراف: 1453) (صحیح)