سنن النسائي حدیث نمبر: 1084
Sunan an-Nasa'i 1084
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
34: بَابُ : التَّكْبِيرِ لِلسُّجُودِ
باب: سجدہ کرنے کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، وَيَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلَانِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے ۱؎ ، اور آپ اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرتے ، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1084]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد یہ ہے کہ اکثر جھکتے اور اٹھتے وقت «اللہ اکبر» کہتے، ورنہ رکوع سے اٹھتے وقت «اللہ اکبر» نہیں کہتے تھے، بلکہ اس کے بجائے «سمع اللہ لمن حمدہ» کہتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
حدیث أسود عن عبداللہ أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 74 (253)، (تحفة الأشراف: 9174)، مسند احمد 1/386، 394، 418، 427، 442، 443، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1248)، وحدیث علقمة کحدیث أسود، (تحفة الأشراف: 9470)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1143، 1150، 1320 (صحیح)