📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

باب سجود القرآن

ابواب: قرآن میں سجدوں کا بیان

کتاب #15 • کل احادیث: 72
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
48: بَابُ : سُجُودِ الْقُرْآنِ السُّجُودِ فِي ص
باب: سورۃ «‏‏‏‏ص»‏‏‏‏ میں سجدوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَجَدَ فِي ص وَقَالَ: سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ «ص» میں سجدہ کیا ، اور فرمایا : ” داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا ، اور ہم یہ سجدہ ( توبہ کی قبولیت پر ) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 958]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5506) (صحیح)
49: بَابُ : السُّجُودِ فِي { وَالنَّجْمِ }
باب: سورۃ النجم میں سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حَنْبَلٍ قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قال: " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ، فَسَجَدَ وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ أَسْلَمَ الْمُطَّلِبُ".
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سورۃ النجم پڑھی ، تو آپ نے سجدہ کیا ، اور جو لوگ آپ کے پاس تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا ، لیکن میں نے اپنا سر اٹھائے رکھا ، اور سجدہ کرنے سے انکار کیا ، ( راوی کہتے ہیں ) ان دنوں مطلب نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 959]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، جعفر بن المطلب مجهول الحال،روي عنه جماعة ووثقه ابن حبان وحده وقال: ’’من متقني أهل مكة وكان فاضلاً‘‘ (مشاهير علماء الأمصار: 621). والحديث الآتي (960) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11287)، مسند احمد 3/420، 4/215، 6/400 (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ فِيهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی ، تو اس میں آپ نے سجدہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 960]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/سجود القرآن 4 (1067) مطولاً، مناقب الأنصار 29 (3853) مطولاً، المغازي 8 (3972) مطولاً، تفسیر ’’والنجم‘‘ 4 (4863)، صحیح مسلم/المساجد 20 (576)، سنن ابی داود/الصلاة 330 (1406) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9180)، مسند احمد 1/388، 401، 437، 443، 462، سنن الدارمی/الصلاة 160 (1506) (صحیح)
50: بَابُ : تَرْكِ السُّجُودِ فِي النَّجْمِ
باب: سورۃ النجم میں سجدہ نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ. فَقَالَ: " لَا قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَلَمْ يَسْجُدْ".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرآت کرنے کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : امام کے ساتھ قرآت نہیں ہے ۱؎ ، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والنجم اذا ھوی» پڑھ کر سنایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 961]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ان کی اپنی سمجھ کے مطابق ان کا فتویٰ ہے، جو مرفوع حدیث کے مخالف ہے، یا مطلب یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ قرات میں امام کے ساتھ قرات نہیں ہے۔ ۲؎: اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مفصل میں سجدہ نہیں ہے، اور سورۃ النجم کے سجدہ کے سلسلہ میں جو روایتیں وارد ہیں، انہیں یہ لوگ منسوخ کہتے ہیں، کیونکہ یہ مکہ کا واقعہ تھا، لیکن جمہور جو مفصل کے سجدوں کے قائل ہیں، اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قاری سامع کے لیے امام کا درجہ رکھتا ہے چونکہ زید قاری تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامع تھے، زید نے اپنی کمسنی کی وجہ سے سجدہ نہیں کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی اتباع میں سجدہ نہیں کیا، دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس وقت باوضو نہیں تھے اس لیے آپ نے بروقت سجدہ نہیں کیا جسے زید نے سمجھا کہ آپ نے سجدہ ہی نہیں کیا ہے، تیسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سجدہ واجب نہیں ہے، اس لیے آپ نے بیان جواز کے لیے کبھی کبھی انہیں ترک بھی کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/سجود القرآن 6 (1072، 1073) (بدون قولہ في القرأة)، صحیح مسلم/المساجد 20 (577)، سنن ابی داود/الصلاة 329 (1404) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 287 (576) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3733)، ح صحیح مسلم/5/183، 186، سنن الدارمی/الصلاة 164 (1513) (صحیح)
51: بَابُ : السُّجُودِ فِي { إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ }
باب: «اذا السماء انشقت» میں سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ بِهِمْ: " إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «إذا السماء انشقت» پڑھ کر سنایا تو انہوں نے اس میں سجدہ کیا ، جب وہ سجدہ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ کیا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 962]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: وقد اخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، (تحفة الأشراف: 14969)، موطا امام مالک/القرآن 5 (12)، مسند احمد 2/281، 413، 449، 451، 454، 466، 487، 529، سنن الدارمی/الصلاة 162 (1509) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ قَيْسٍ وَهُوَ مُحَمَّدٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 963]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14989)، مسند احمد 2/454 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 964]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 285 (574)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 71 (1059)، (تحفة الأشراف: 14865)، مسند احمد 2/247، سنن الدارمی/الصلاة 162 (1511) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 965]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " سَجَدَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ. وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا ، اور جو ان دونوں سے بہتر تھے انہوں نے بھی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 966]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14501) (صحیح)
52: بَابُ : السُّجُودِ فِي { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ }
باب: «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " سَجَدَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے اور جو ان دونوں سے بہتر تھے ، انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 967]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " سَجَدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 968]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن ابی داود/الصلاة 331 (1407)، سنن الترمذی/الصلاة 285 (573)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 71 (1058)، (تحفة الأشراف: 14206)، مسند احمد 2/249، 461، سنن الدارمی/الصلاة 163 (1512) (صحیح)
53: بَابُ : السُّجُودِ فِي الْفَرِيضَةِ
باب: فرض نمازوں میں سجدہ تلاوت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُلَيْمٍ وَهُوَ ابْنُ أَخْضَرَ، عَنِ التَّيْمِيِّ، قال: حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قال: " صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ يَعْنِي الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ سُورَةَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا فَلَمَّا فَرَغَ قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَذِهِ يَعْنِي سَجْدَةً مَا كُنَّا نَسْجُدُهَا" قَالَ: سَجَدَ بِهَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَلْفَهُ فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء یعنی عتمہ کی نماز پڑھی ، تو انہوں نے سورۃ «إذا السماء انشقت» پڑھی ، اور اس میں سجدہ کیا ، تو میں نے کہا : ابوہریرہ ! اسے تو ہم کبھی نہیں کرتے تھے ، انہوں نے کہا : اسے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے ، اور میں آپ کے پیچھے تھا ، میں یہ سجدہ برابر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 969]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 100 (766)، 101 (768)، سجود القرآن 11 (1078)، صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن ابی داود/الصلاة 331 (1407، 1408)، (تحفة الأشراف: 14649)، مسند احمد 2/229، 456، 459 (صحیح)
54: بَابُ : قِرَاءَةِ النَّهَارِ
باب: دن کی نمازوں میں قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: قال أَبُو هُرَيْرَةَ: " كُلُّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فِيهَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ".
عطاء کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں ، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم بھی تم سے چھپا رہے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 970]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14177)، مسند احمد 2/258، 273، 285، 301، 343، 348، 411 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قال: " فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے ، تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں ، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم تم سے چھپا رہے ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 971]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جس میں آپ نے جہر سے قرات کی ہم بھی اس میں جہر سے قرات کرتے ہیں، اور جس میں آپ نے سرّی قرات کی اس میں ہم بھی سرّی قرات کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 104 (772)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (396)، (تحفة الأشراف: 14190)، مسند احمد 2/273، 285، 348، 487 (صحیح)
55: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ
باب: ظہر میں قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، قال: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ قال: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْبَرِيدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: " كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَنَسْمَعُ مِنْهُ الْآيَةَ بَعْدَ الْآيَاتِ مِنْ سُورَةِ لُقْمَانَ وَالذَّارِيَاتِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر پڑھتے تھے ، تو ہم آپ سے سورۃ لقمان اور سورۃ والذاریات کی ایک آدھ آیت کئی آیتوں کے بعد سن لیتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 972]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ سری قرات کرتے تھے لیکن کبھی کبھی کوئی آیت زور سے بھی پڑھ دیا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ سری نمازوں میں کبھی کبھی کوئی آیت جہر سے پڑھ دینے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (830) أبوإسحاق عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 8 (830)، (تحفة الأشراف: 1891) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو اسحاق‘‘ مختلط ہو گئے تھے، نیز مدلس بھی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کیے ہوئے ہیں)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ النَّضْرِ، قال: كُنَّا بِالطَّفِّ عِنْدَ أَنَسٍ فَصَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا فَرَغَ قال: " إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ لَنَا بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن نضر کو کہتے سنا کہ ہم طف میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے لوگوں کو ظہر پڑھائی ، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھی ، تو آپ نے ( ظہر کی ) دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں یعنی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 973]
💡 وضاحت:
۱؎: طف کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو بكر بن النضر بن أنس بن مالك: مستور،لم أجد من وثقه. ولبعض الحديث شاهد عند ابن خزيمة (بتحقيقي: 512 وسنده صحيح) وابن حبان (469). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1714) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو بکر بن نضر‘‘ مجہول الحال ہیں)
56: بَابُ : تَطْوِيلِ الْقِيَامِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ
باب: ظہر کی پہلی رکعت میں لمبا قیام کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قال: " لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يَجِيءُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى يُطَوِّلُهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز ظہر کھڑی کی جاتی تھی ، پھر جانے والا بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا ، پھر وضو کرتا اور واپس آتا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے ، ( کیونکہ ) آپ اسے خوب لمبی کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 974]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 34 (454)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 7 (825)، (تحفة الأشراف: 4282)، مسند احمد 3/35 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الْقَنَّادُ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ فَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ كَذَلِكَ وَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَالرَّكْعَةَ الْأُولَى يَعْنِي فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ ہمیں ظہر پڑھاتے تھے تو آپ پہلی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے ، اور یونہی کبھی ایک آدھ آیت ہمیں سنا دیتے ، اور ظہر اور فجر کی پہلی رکعت بہ نسبت دوسری رکعت کے لمبی کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 975]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ لوگ پہلی رکعت کی فضیلت سے محروم نہ ہونے پائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762) مختصراً، 107 (776) مطولاً، 109 (777)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن ابی داود/الصلاة 129 (798، 799)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 8 (829)، (تحفة الأشراف: 12108)، مسند احمد 4/383، و 5/295، 297، 300، 301، 305، 307، 308، 309، 310، 311، سنن الدارمی/الصلاة 63 (1328، 1329، 1330) (صحیح)
57: بَابُ : إِسْمَاعِ الإِمَامِ الآيَةَ فِي الظُّهْرِ
باب: ظہر میں امام کا ایک آدھ آیت بلند آواز سے پڑھ کر سنا دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسْلِمٍ يُعْرَفُ بِابْنِ أَبِي جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے ، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے ، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 976]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
58: بَابُ : تَقْصِيرِ الْقِيَامِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الظُّهْرِ
باب: ظہر کی دوسری رکعت میں (پہلی رکعت کی بہ نسبت) قیام مختصر کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ يُطَوِّلُ الْأُولَى وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کرتے ، اور کبھی کبھار آپ ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے ، پہلی رکعت میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری رکعت میں اس سے کم ، اور فجر میں بھی ایسے ہی کرتے تھے پہلی میں لمبی قرآت کرتے اور دوسری میں اس سے کم کرتے ، اور عصر میں بھی پہلی دونوں رکعتوں میں ہم پر قرآت کرتے ، پہلی میں لمبی کرتے اور دوسری میں اس سے کم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 977]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 975 (صحیح)
59: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ
باب: نماز ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَسُورَتَيْنِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَكَانَ يُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ أَوَّلَ رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے ، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے ، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے ، اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 978]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 975 (صحیح)
60: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ
باب: عصر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَكَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فِي الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے ، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے ، اور ظہر میں پہلی رکعت لمبی کرتے ، اور دوسری رکعت ( پہلی کی بہ نسبت ) مختصر کرتے تھے ، نیز فجر میں بھی ایسا ہی کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 979]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 975 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَنَحْوِهِمَا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «والسماء ذات البروج» اور «والسماء والطارق» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 980]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 131 (805)، سنن الترمذی/الصلاة 113 (307)، (تحفة الأشراف: 2147)، مسند احمد 5/103، 106، 108، سنن الدارمی/الصلاة 62 (1327) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں «والليل إذا يغشى» پڑھتے تھے ، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے ، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 981]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 35 (459)، المساجد 33 (618)، سنن ابی داود/الصلاة 131 (806)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 3 (673)، (تحفة الأشراف: 2179، 2185)، مسند احمد 5/86، 88، 101، 106، 108 (صحیح)
61: بَابُ : تَخْفِيفِ الْقِيَامِ وَالْقِرَاءَةِ
باب: قیام اور قرأت کو ہلکا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قال: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: " صَلَّيْتُمْ" قُلْنَا: " نَعَمْ" قَالَ: " يَا جَارِيَةُ هَلُمِّي لِي وَضُوءًا مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِمَامِكُمْ هَذَا" قَالَ زَيْدٌ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ وَيُخَفِّفُ الْقِيَامَ وَالْقُعُودَ.
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا : تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ ہم نے کہا : جی ہاں ! تو انہوں نے کہا : بیٹی ! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ ، میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز تمہارے اس امام ۱؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتی ہو ، زید کہتے ہیں : عمر بن عبدالعزیز رکوع اور سجدے مکمل کرتے اور قیام و قعود ہلکا کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 982]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 840)، مسند احمد 3/162، 163، 254، 255، 259 (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ" قَالَ سُلَيْمَانُ: " كَانَ يُطِيلُ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِوَسَطِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِطُوَلِ الْمُفَصَّلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو فلاں ۱؎ کی نماز سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہو ، سلیمان کہتے ہیں : وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے اور آخری دونوں رکعتیں ہلکی کرتے ، اور عصر کو ہلکی کرتے ، اور مغرب میں «قصارِ» مفصل پڑھتے تھے ، اور عشاء میں «وساطِ» مفصل پڑھتے تھے ، اور فجر میں «طوالِ» مفصل پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 983]
💡 وضاحت:
۱؎: فلاں سے مراد عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ۲؎: مفصل قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جس کی ابتداء صحیح قول کی بنا پر سورۃ «قٓ» سے ہوتی ہے، مفصل کی تین قسمیں ہیں طوال مفصل وساطِ مفصل، قصارِ مفصل سورۃ «ق» یا سورۃ «حجرات» سے لے کر «عم یتسألون» یا سورۃ «بروج» تک طوالِ مفصل ہے، اور وساطِ مفصل سورۃ «عم یتسألون» سے یا سورۃ «بروج» سے لے کر «والضحیٰ» یا سورۃ «لم یکن» تک ہے، اور قصار مفصل «والضحیٰ» یا «لم یکن» سے لے کر اخیر قرآن تک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 7 (827)، (تحفة الأشراف: 13484)، مسند احمد 2/300، 329، 330، 532 (صحیح)
62: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ
باب: مغرب میں قصار مفصل پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَ ذَلِكَ الْإِنْسَانِ وَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ فِي الْعَصْرِ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں سے بڑھ کر کسی کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ نماز نہیں پڑھی ( سلیمان کہتے ہیں ) ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے ، اور آخری دونوں ( رکعتیں ) ہلکی کرتے ، اور عصر بھی ہلکی کرتے ، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے ، اور عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے ، اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 984]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
63: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى }
باب: مغرب میں «سبح اسم ربک الاعلی» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِنَاضِحَيْنِ عَلَى مُعَاذٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَصَلَّى الرَّجُلُ، ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَلَّا قَرَأْتَ" سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا ، اور وہ مغرب ۱؎ پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے سورۃ البقرہ شروع کر دی ، تو اس شخص نے ( الگ جا کر ) نماز پڑھی ، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ “ «‏سبح اسم ربك الأعلى» اور «‏والشمس وضحاها» اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 985]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بات یہ ہے کہ یہ واقعہ عشاء میں ہوا، جیسا کہ صحیح بخاری میں اس کی صراحت ہے، نیز دیکھئیے حدیث رقم: ۹۹۸۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 832 (صحیح)
64: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلاَتِ
باب: مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قالت: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ مَا صَلَّى بَعْدَهَا صَلَاةً حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے گھر میں مغرب پڑھائی ، تو آپ نے سورۃ المرسلات پڑھی ، اس کے بعد آپ نے کوئی بھی نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 986]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18050)، مسند احمد 6/338، 339، 340 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا" سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالْمُرْسَلَاتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اپنی ماں ( ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 987]
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 98 (763) مطولاً، المغازي 83 (4429)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (462)، سنن ابی داود/فیہ 132 (810) مطولاً، سنن الترمذی/فیہ 114 (308) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 9 (831)، (تحفة الأشراف: 18052)، موطا امام مالک/الصلاة 5 (24)، مسند احمد 6/338، 340، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1331) (صحیح)
65: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ
باب: مغرب میں سورۃ الطور پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ الطور پڑھتے سنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 988]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 99 (765)، الجھاد 172 (3050)، المغازي 12 (4023)، تفسیر الطور 1 (4854)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (463)، سنن ابی داود/فیہ 132 (811)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 9 (832)، (تحفة الأشراف: 3189)، موطا امام مالک/الصلاة 5 (23)، مسند احمد 4/80، 83، 84، 85، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1332) (صحیح)
66: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِـ {حم} الدُّخَانِ
باب: مغرب میں سورۃ الدخان پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَذَكَرَ آخَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِ حم، الدُّخَانِ".
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ «حم» الدخان پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 989]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6579) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’معاویہ‘‘ لین الحدیث ہیں)
67: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِـ {المص}
باب: مغرب میں سورۃ «المص» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ: أَتَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ: " نَعَمْ" قَالَ: " فَمَحْلُوفَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ المص".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے پوچھا : اے ابوعبدالملک ! کیا تم مغرب میں «قل هو اللہ أحد‏» اور «إنا أعطيناك الكوثر» پڑھتے ہو ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں ! تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں ‏«المص» جو دو لمبی سورتوں ( انعام اور اعراف ) میں زیادہ لمبی ہے ( سورۃ الاعراف ) پڑھتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 990]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3732)، مسند احمد 5/185، 187، 188، 189 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قال: " مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ، قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ: مَا أَطْوَلُ الطُّولَيَيْنِ قَالَ الْأَعْرَافُ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں ، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے ، میں نے پوچھا : اے ابوعبداللہ ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے ؟ انہوں نے کہا : اعراف ۔ [سنن نسائي/حدیث: 991]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 98 (764) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 132 (812)، (تحفة الأشراف: 3738) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، وَأَبُو حَيْوَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فَرَّقَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ الاعراف پڑھی ، آپ نے اسے دونوں رکعتوں میں بانٹ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 992]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16959) (صحیح)
68: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو الْجَوَّابِ، قال: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: " رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیس مرتبہ مغرب کے بعد کی اور فجر کے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد‏» پڑھتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 993]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (417) ابن ماجه (1149) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 192 (417)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 102 (1149)، (تحفة الأشراف: 7388)، مسند احمد 2/24، 35، 58، 94، 95، 99 (حسن)
69: بَابُ : الْفَضْلِ فِي قِرَاءَةِ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ }
باب: «قل ھو اللہ أحد» پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ فَعَلَ ذَلِكَ فَسَأَلُوهُ" فَقَالَ: لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لشکر کی ایک ٹکری کا امیر بنا کر بھیجا ، وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھایا کرتا تھا ، اور قرأت «‏قل هو اللہ أحد» پر ختم کرتا تھا ، جب لوگ لوٹ کر واپس آئے ، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان سے پوچھو ، وہ ایسا کیوں کرتے تھے ؟ “ ان لوگوں نے ان سے پوچھا : انہوں نے کہا : یہ رحمن عزوجل کی صفت ہے ، اس لیے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اسے بتا دو کہ اللہ عزوجل بھی اسے پسند کرتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 994]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/توحید 1 (7375)، صحیح مسلم/المسافرین 45 (813)، (تحفة الأشراف: 17914) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يقول: أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ {3} وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ {4} سورة الإخلاص آية 1-4 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: الْجَنَّةُ".
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا ، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد‏» پڑھتے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، میں نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا چیز واجب ہو گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 995]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2897)، (تحفة الأشراف: 14127)، موطا امام مالک/القرآن 6 (18)، مسند احمد 2/302، 535، 536 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد» پڑھتے سنا ، وہ اسے باربار دہرا رہا تھا ، جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہ تہائی قرآن کے برابر ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 996]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض علماء نے اس کی توضیح اس طرح کی ہے کہ علوم قرآن کی تین قسمیں ہیں، ایک توحید، دوسری تشریع، اور تیسری اخلاق، ان میں سے پہلی قسم توحید کا جامع بیان اس سورت میں موجود ہے اس لیے اسے ثلث قرآن کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 13 (5013)، الأیمان والنذور 3 (6643)، التوحید 1 (7374)، سنن ابی داود/الصلاة 353 (1461)، (تحفة الأشراف: 4104)، موطا امام مالک/القرآن 6 (17)، مسند احمد 3/23، 35، 43 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ امْرَأَةٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا أَعْرِفُ إِسْنَادًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا.
ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں : میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 997]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2896)، (تحفة الأشراف: 3502)، مسند احمد 5/418، 419، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3480) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
70: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى }
باب: عشاء میں «سبح اسم ربک الا ٔعلیٰ» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: قَامَ مُعَاذٌ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَطَوَّلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَيْنَ كُنْتَ، عَنْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و الضُّحَى و إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء پڑھائی ، تو انہوں نے قرأت لمبی کر دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ «سبح اسم ربك الأعلى‏» ، «والضحى» اور «إذا السماء انفطرت» کیوں نہیں پڑھتے ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 998]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، سليمان الأعمش مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 832 (صحیح)
71: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا
باب: عشاء میں «والشمس وضحاها» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ مُعَاذٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا و سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى و اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو عشاء پڑھائی تو انہوں نے قرأت ان پر طویل کر دی ، تو ہم میں سے ایک شخص نے نماز توڑ دی ( اور الگ نماز پڑھ لی ) معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا : وہ منافق ہے ، جب یہ بات اس شخص کو معلوم ہوئی ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور معاذ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” معاذ ! کیا تم فتنہ بپا کرنا چاہتے ہو ؟ جب تم لوگوں کی امامت کرو تو «والشمس وضحاها» ، «سبح اسم ربك الأعلى» ، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك‏» پڑھا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 999]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابن ماجہ/إقامة الدین 10 (836)، 48 (986)، (تحفة الأشراف: 2912) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنَ السُّوَرِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1000]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 115 (309)، (تحفة الأشراف: 1962)، مسند احمد 5/354، 355 (صحیح)
72: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ
باب: عشاء میں «والتین والزیتون» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ فِيهَا بِ التِّينِ وَالزَّيْتُونِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں «والتین والزیتون» پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1001]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 100 (767)، 102 (769)، تفسیر ’’التین‘‘ 1 (4952)، التوحید 52 (7546)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (464)، سنن ابی داود/الصلاة 275 (1221)، سنن الترمذی/الصلاة 231 (310)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 10 (834، 835)، (تحفة الأشراف: 1791)، موطا امام مالک/الصلاة 5 (27)، مسند احمد 4/284، 286، 291، 298، 302، 303 (صحیح)
73: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مَنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ
باب: عشاء کی پہلی رکعت میں قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ب التِّينِ وَالزَّيْتُونِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی پہلی رکعت میں «والتین والزیتون» پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1002]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
74: بَابُ : الرُّكُودِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: قال عُمَرُ، لِسَعْدٍ: قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ سَعْدٌ: " أَتَّئِدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَالَ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.
ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : لوگ ہر بات میں تمہاری شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں پہلی دونوں رکعتوں میں جلد بازی نہیں کرتا ۱؎ اور پچھلی دونوں رکعتوں میں قرأت ہلکی کرتا ہوں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم سے مجھے یہی توقع ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1003]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اطمینان سے ٹھہر ٹھہر کر قرأت کرتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 94 (755) مطولاً، 95 (758)، 103 (770)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (453)، سنن ابی داود/الصلاة 130 (803)، (تحفة الأشراف: 3847)، مسند احمد 1/175، 176، 179، 180 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ أَبُو الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: وَقَعَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي سَعْدٍ عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا يُحْسِنُ الصَّلَاةَ فَقَالَ: " أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَخْرِمُ عَنْهَا أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ" قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوفہ کے چند لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آئے ، اور کہنے لگے : اللہ کی قسم ! یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے ، ( عمر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر ) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز پڑھاتا ہوں ، اس میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا ، پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرتا ہوں ، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں ہلکی کرتا ہوں ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم سے یہی توقع ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1004]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
75: بَابُ : قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ
باب: ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلْقَمَةَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ فَأَخْبَرَنَا بِهِنَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں ، وہ بیس سورتیں ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس رکعتوں میں پڑھتے تھے ، پھر انہوں نے علقمہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ، اور اندر لے گئے ، پھر علقمہ رضی اللہ عنہ نکل کر باہر ہمارے پاس آئے ، تو ہم نے ان سے پوچھا ، تو انہوں نے ہمیں وہ سورتیں بتائیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1005]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: فضائل القرآن 6 (4996)، صحیح مسلم/المسافرین 49 (822) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 305 (602) مطولاً، (تحفة الأشراف: 9248)، مسند احمد 1/380، 417، 427، 455 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: قال رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ: " قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، قَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ".
ابووائل شفیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا : میں نے پوری مفصل ایک ہی رکعت میں پڑھ لی ، تو انہوں نے کہا : یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا ، مجھے وہ سورتیں معلوم ہیں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں ، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے ، تو انہوں نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا جن میں آپ دو دو سورتیں ایک رکعت میں ملا کر پڑھا کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1006]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 106 (775)، صحیح مسلم/المسافرین 49 (822)، مسند احمد 1/436، (تحفة الأشراف: 9288) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ اللَّيْلَةَ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ" لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ مِنْ آلِ حم".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے آج رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھ ڈالی ، تو انہوں نے کہا : یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «حمٓ» سے اخیر قرآن تک مفصل کی صرف بیس ہم مثل سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1007]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ سورتیں یہ ہیں «الرحمن» اور «النجم» کو ایک رکعت میں، «اقتربت» اور «الحاقہ» کو ایک رکعت میں «الذاریات» اور «الطور» کو ایک رکعت میں «الواقعۃ» اور «نون» کو ایک رکعت میں، «سأل» اور «والنازعات» کو ایک رکعت میں «عبس» اور «ویل للمطففین» کو ایک رکعت میں «المدثر» ، اور «المزمل» کو ایک رکعت میں، «ہل أتی» اور «لا أقسم» کو ایک رکعت میں، «عم یتسألون» اور «المرسلات» کو ایک رکعت میں، اور «والشمس کورت» اور «الدخان» کو ایک رکعت میں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9586) (صحیح الإسناد)
76: بَابُ : قِرَاءَةِ بَعْضِ السُّورَةِ
باب: سورت کا کچھ حصہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدِيثًا رَفَعَهُ إِلَى ابْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قال: " حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَصَلَّى فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى أَوْ عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام أَخَذَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے کعبہ کے سامنے نماز پڑھی ، اپنے جوتے اتار کر انہیں اپنی بائیں طرف رکھا ، اور سورۃ مومنون سے قرأت شروع کی ، جب موسیٰ یا عیسیٰ علیہما السلام کا ذکر آیا ۱؎ تو آپ کو کھانسی آ گئی ، تو آپ رکوع میں چلے گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1008]
💡 وضاحت:
۱؎: موسیٰ علیہ السلام کا ذکر سورۃ مومنون آیت نمبر: ۴۵ «ثم أرسلنا موسى وأخاه هارون بآياتنا وسلطان مبين» میں ہے، اور عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر اس سے چار آیتوں کے بعد «وجعلنا ابن مريم وأمه آية وآويناهما إلى ربوة ذات قرار ومعين» [ المؤمنون: 50] میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 106 (774) تعلیقاً، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن ابی داود/الصلاة 89 (649)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 205 (820)، (تحفة الأشراف: 5313)، مسند احمد 3/411 (صحیح)
77: بَابُ : تَعَوُّذِ الْقَارِئِ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ
باب: قاری کا عذاب سے متعلق آیت پر گزر ہو تو اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ" أَنَّهُ صَلَّى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ وَقَفَ وَتَعَوَّذَ وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ وَقَفَ فَدَعَا وَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی ، تو آپ نے قرأت کی ، آپ جب کسی عذاب کی آیت سے گزرتے تو تھوڑی دیر ٹھہرتے ، اور پناہ مانگتے ، اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو دعا کرتے ۱؎ ، اور رکوع میں «سبحان ربي العظيم» کہتے ، اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» کہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1009]
💡 وضاحت:
۱؎: «صلى إلى جنب النبي صلى الله عليه وسلم» سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تہجد کی نماز تھی، اسی لیے علماء نے اسے نفل نمازوں کے ساتھ خاص قرار دیا ہے شیخ عبدالحق لمعات میں لکھتے ہیں: «وهو محمول عندنا على النوافل» یعنی یہ ہمارے نزدیک نوافل پر محمول ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 27 (772)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (871)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (262، 263)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 23 (897)، 179 (1351)، (تحفة الأشراف: 3351)، مسند احمد 5/382، 384، 389، 394، 397، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1345)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1047، 1134، 1665، 1666 (صحیح)
78: بَابُ : مَسْأَلَةِ الْقَارِئِ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ
باب: قاری کا رحمت کی آیت سے گزر ہو تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ، وَالنِّسَاءَ فِي رَكْعَةٍ لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا سَأَلَ وَلَا بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا اسْتَجَارَ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رکعت میں تین سورتیں : بقرہ ، آل عمران اور نساء پڑھیں ، آپ جب بھی رحمت کی آیت سے گزرتے تو ( اللہ سے ) رحمت کی درخواست کرتے ، اور عذاب کی آیت سے گزرتے تو ( عذاب سے ) اللہ کی پناہ مانگتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1010]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: ویأتي عند المؤلف برقم: 1666، (تحفة الأشراف: 3351، 3358) (صحیح)
79: بَابُ : تَرْدِيدِ الآيَةِ
باب: کسی خاص آیت کو باربار دہرانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قالت: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی آیت میں صبح کر دی ، وہ آیت یہ تھی : «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ” یعنی اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو تو ( غالب و زبردست ) ہے ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے “ ( المائدہ : ۱۱۸ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1011]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1350)، (تحفة الأشراف: 12012)، مسند احمد 5/156، 170، 177 (حسن)
80: بَابُ : قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا }
باب: آیت کریمہ: ”اے محمد! نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بہت پست آواز سے“ کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَهُوَ ابْنُ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 قَالَ: " نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ" وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: " يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ" فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا يَسْمَعُوا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم آیت کریمہ : «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها‏» کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپے رہتے تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام ( رضی اللہ عنہم ) کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے ، ( ابن منیع کی روایت میں ہے : قرآن زور سے پڑھتے ) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے ، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اے محمد ! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں ، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں ، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1012]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر الإسراء 14 (4722)، التوحید 34 (7490)، 44 (7525)، 52 (7547) مختصراً، صحیح مسلم/الصلاة 31 (446)، سنن الترمذی/تفسیر الإسراء 5/306 (3145، 3146)، (تحفة الأشراف: 5451)، مسند احمد 1/23، 215 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْفِضُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ مَا كَانَ يَسْمَعُهُ أَصْحَابُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے ، تو جب مشرک آپ کی آواز سنتے تو وہ قرآن کو اور اسے لے کر آنے والے کو برا بھلا کہتے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کو اتنی پست آواز سے پڑھنے لگے کہ آپ کے ساتھی بھی نہیں سن پاتے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها وابتغ بين ذلك سبيلا» ” یعنی اے محمد ! نہ اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھیں ، اور نہ بہت پست آواز سے بلکہ ان کے بیچ کا راستہ اختیار کریں “ ( بنی اسرائیل : ۱۱۰ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1013]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
81: بَابُ : رَفْعِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ
باب: قرآن مجید بلند آواز سے پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قالت: " كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت سنتی تھی ، اور میں اپنی چھت پر ہوتی تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1014]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الشمائل 43 (301)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1349)، (تحفة الأشراف: 18016)، مسند احمد 6/342، 343، 424 (حسن)
82: بَابُ : مَدِّ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ
باب: قرأت میں آواز کھینچنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَأَلْتُ أَنَسًا كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: " كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا".
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی ؟ تو انہوں نے کہا : آپ اپنی آواز خوب کھینچتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1015]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 29 (5045)، سنن ابی داود/الصلاة 355 (1465)، سنن الترمذی/الشمائل 43 (298)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1353)، (تحفة الأشراف: 1145)، مسند احمد 3/119، 127، 131، 192، 198، 289 (صحیح)
83: بَابُ : تَزْيِينِ الْقُرْآنِ بِالصَّوْتِ
باب: خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت بخشو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1016]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 355 (1468)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 176 (1342)، (تحفة الأشراف: 1775)، مسند احمد 4/283، 285، 296، 304، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3543) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ" قَالَ ابْنُ عَوْسَجَةَ كُنْتُ نَسِيتُ هَذِهِ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ حَتَّى ذَكَّرَنِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو “ ۔ عبدالرحمٰن بن عوسجہ کہتے ہیں : میں اس جملے «زينوا القرآن» کو بھول گیا تھا یہاں تک کہ مجھے ضحاک بن مزاحم نے یاد دلایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1017]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اللہ تعالیٰ کوئی چیز اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے ، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1018]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 19 (5023)، التوحید 32 (7482)، 52 (7544)، صحیح مسلم/المسافرین 34 (792)، سنن ابی داود/الصلاة 355 (1473)، (تحفة الأشراف: 14997)، مسند احمد 2/271، 285، 450، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3533، 3540 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ يَعْنِي أَذَنَهُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نبی کے خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کو اللہ تعالیٰ جس طرح سنتا ہے اس طرح کسی اور چیز کو نہیں سنتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1019]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 19 (5024)، صحیح مسلم/المسافرین 34 (792)، (تحفة الأشراف: 15144) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ: " لَقَدْ أُوتِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا : ” انہیں آل داود کے لحن ( سُر ) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1020]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15231)، مسند احمد 2/369، 450 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ: " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا : ” یقیناً انہیں آل داود کے لحن ( سُر ) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1021]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16456)، مسند احمد 6/37، 167، سنن الدارمی/الصلاة 171 (1530) (صحیح الإسناد) (وھو عندخ وم من حدیث أبي موسیٰ وبریدة)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةَ أَبِي مُوسَى فَقَالَ: " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی قرأت سنی تو فرمایا : ” انہیں داود کے لحن ( سُر ) میں سے ایک لحن عطا کیا گیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1022]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16672)، مسند احمد 6/167 (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ، قَالَتْ: " مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ، ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں ! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1023]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 355 (1466) مطولاً، سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2923) مطولاً، (تحفة الأشراف: 18226)، مسند احمد 6/294، 297، 300، 308، وأعادہ المؤلف برقم: 1630 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’یعلی‘‘ لین الحدیث ہیں، دیکھئے إرواء رقم: 343)
84: بَابُ : التَّكْبِيرِ لِلرُّكُوعِ
باب: رکوع کے لیے اللہ اکبر کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ اسْتَخْلَفَهُ مَرْوَانُ عَلَى الْمَدِينَةِ: " كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ التَّشَهُّدِ يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ فَإِذَا قَضَى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ جس وقت مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا ، وہ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب وہ رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» ، «ربنا ولك الحمد» کہتے ، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر جب تشہد کے بعد دوسری رکعت سے اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے ، ( ہر رکعت میں ) اسی طرح کرتے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لیتے ، ( ایک بار ) جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی اور سلام پھیرا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، اور کہنے لگے : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہت رکھتا ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1024]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 10 (392)، (تحفة الأشراف: 15326)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (19)، مسند احمد 2/236، 270، 300، 319، 452، 497، 502، 527، 533، سنن الدارمی/الصلاة 40 (1283) (صحیح)
85: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ لِلرُّكُوعِ حِذَاءَ فُرُوعِ الأُذُنَيْنِ
باب: رکوع کے لیے دونوں ہاتھ کانوں کی لو کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى بَلَغَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ اللہ اکبر کہتے ، اور جب رکوع کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے ، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ کے دونوں ہاتھ آپ کی کانوں کی لو تک پہنچ جاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1025]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 881 (صحیح)
86: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ لِلرُّكُوعِ حِذَاءَ الْمَنْكِبَيْنِ
باب: رکوع کے لیے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ، یہاں تک کہ آپ انہیں اپنے مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے ۱؎ ، اور جب رکوع کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1026]
💡 وضاحت:
۱؎: ان دونوں روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں توسّع ہے کہ کبھی آپ دونوں ہاتھ کانوں کے اطراف تک اٹھاتے اور کبھی مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور بعض نے دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی ہے کہ ہاتھوں کی ہتھیلیاں تو مونڈھوں کے بالمقابل رکھتے، اور انگلیوں کے سرے کانوں کے بالمقابل رکھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (721)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (255)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (858)، (تحفة الأشراف: 6816)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (16)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1145 (صحیح)
87: بَابُ : تَرْكِ ذَلِكَ
باب: تکبیر تحریمہ کے بعد رفع یدین نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يُعِدْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں ؟ چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور پہلی بار اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، پھر انہوں نے دوبارہ ایسا نہیں کیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1027]
💡 وضاحت:
۱؎ ایسا ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین نہ کرتے رہے ہوں، کیونکہ یہ فرض و واجب تو ہے نہیں، اس لیے ممکن ہے بیان جواز کے لیے کبھی آپ نے رفع یدین نہ کیا ہو، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسی حالت میں آپ کو دیکھا ہو، ویسے ان سے تو کچھ ایسی باتیں بھی منقول ہیں کہ جن کا کوئی بھی امام قائل نہیں ہے، جیسے رکوع میں تطبیق (دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملا کر دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھنا) اور معوّذتین کا ان کے مصحف (قرآن) میں نہ ہونا، وغیرہ، تو ممکن ہے ان کی یہ روایت بھی انہی باتوں میں سے ہو، رفع یدین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مستمرہ و راتبہ میں سے نہ ہوتا تو آپ کی وفات کے بعد بیسیوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رفع یدین نہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (748) ترمذي (257) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 119 (748، 751)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (257)، (تحفة الأشراف: 9468)، مسند احمد 1/388، 441، 442، ویأتی عند المؤلف برقم: 1059 (صحیح)
88: بَابُ : إِقَامَةِ الصُّلْبِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں پیٹھ برابر رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسی نماز کافی نہیں ہوتی جس میں آدمی رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ برابر نہ رکھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1028]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (855)، سنن الترمذی/الصلاة 81 (265)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 16 (870)، (تحفة الأشراف: 9995)، مسند احمد 4/119، 122، سنن الدارمی/الصلاة 78 (1366)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1112 (صحیح)
89: بَابُ : الاِعْتِدَالِ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں اعتدال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اعْتَدِلُوا فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رکوع اور سجدے میں سیدھے رہو ۱؎ اور تم میں سے کوئی بھی اپنے دونوں بازو کتے کی طرح نہ بچھائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1029]
💡 وضاحت:
۱؎: رکوع میں (اعتدال) سیدھا رہنے کا مطلب یہ ہے کہ پیٹھ کو سیدھا رکھے، اور سر کو اس کے برابر رکھے، نہ اوپر نہ نیچے، اور دونوں ہاتھ سیدھے کر کے گھٹنوں پر رکھے، اور سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ کہنیوں کو زمین سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کتے کی طرح بازو بچھانے کا مطلب دونوں کہنیوں کو دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ زمین پر رکھنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: حدیث حماد بن سلمة عن قتادة عن أنس، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1161)، وحدیث سعید بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس قد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 21 (892)، (تحفة الأشراف: 1197)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1111، 1118، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 8 (532)، الأذان 141 (822)، صحیح مسلم/الصلاة 45 (493)، سنن ابی داود/فیہ 158 (897)، سنن الترمذی/فیہ 90 (286)، مسند احمد 3/115، 177، 179، 191، 214، 274، 291، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1361) (صحیح)
← پچھلی کتاب #14 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #16 →