📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الافتتاح

کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام

کتاب #14 • کل احادیث: 81
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : الْعَمَلِ فِي افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ
باب: نماز شروع کرنے کے طریقہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: حَدَّثَنِي سَالِمٌ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَقَالَ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَسْجُدُ وَلَا حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں تکبیر تحریمہ شروع کرتے تو جس وقت اللہ اکبر کہتے اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل کر لیتے ، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ، پھر جب «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تو بھی اسی طرح کرتے ۱؎ ، اور «ربنا ولك الحمد» کہتے اور سجدہ میں جاتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت ایسا نہیں کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 877]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے، جو لوگ اسے منسوخ یا مکروہ کہتے ہیں ان کا قول درست نہیں کیونکہ اگر رفع یدین کا نہ کرنا کبھی کبھی ثابت بھی ہو جائے تو یہ رفع یدین کے سنت نہ ہونے پر دلیل نہیں، کیونکہ سنت کی شان ہی یہ ہے کہ اسے کبھی کبھی ترک کر دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 85 (738)، (تحفة الأشراف: 6841)، صحیح البخاری/الأذان 83 (735)، 84 (736)، 86 (739)، صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (721)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (255)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (858)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (16)، مسند احمد 2 / 8، 18، 44، 47، 62، 100، 147، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1347، 1348) (صحیح)
2: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ قَبْلَ التَّكْبِيرِ
باب: اللہ اکبر کہنے سے پہلے دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ قَالَ وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ وَيَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھاتے کہ وہ آپ کے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل ہو جاتے ، پھر اللہ اکبر کہتے ، اور جب رکوع کے لیے اللہ اکبر کہتے تو بھی ایسا ہی کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے ، اور «سمع اللہ لمن حمده‏» کہتے ، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 878]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 84 (736)، صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، (تحفة الأشراف: 6979) (صحیح)
3: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ
باب: نماز دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَكَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، اور جب رکوع کرتے ، اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ان دونوں کو اسی طرح اٹھاتے ، اور «سمع اللہ لمن حمده‏» ، «ربنا ولك الحمد‏» کہتے ، اور سجدہ کرتے وقت ایسا نہیں کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 879]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 83 (735)، (تحفة الأشراف: 6915)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (16)، مسند احمد 2/18، 62، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1285)، 71 (1347، 1348)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1058، 1060 (صحیح)
4: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ حِيَالَ الأُذُنَيْنِ
باب: نماز دونوں ہاتھ کانوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمَّا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْهَا قَالَ: آمِينَ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، جب آپ نے نماز شروع کی تو اللہ اکبر کہا ، اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل کیا ، پھر سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے ، جب اس سے فارغ ہوئے تو بآواز بلند آمین کہی ” اے اللہ اسے قبول فرما “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 880]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض روایتوں میں «یرفع بہا صوتہ» کے بجائے «یخفض بہا صوتہ» ہے، لیکن محدثین اسے وہم قرار دیتے ہیں، گو بعض فقہاء نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن محدثین کے مقابلہ میں فقہاء کی ترجیح کی کوئی حیثیت نہیں، اور جو یہ کہا جا رہا ہے کہ عبدالجبار بن وائل کا سماع ان کے والد وائل رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت عبدالجبار کے علاوہ دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، اور صحیح ہے، (دیکھئیے تخریج)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11763)، مسند احمد 4/318، سنن الدارمی/الصلاة 35 (1277)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (724) (بدون ذکر آمین)، سنن ابن ماجہ/إقامة 14 (855)، (بدون ذکر رفع الیدین)، مسند احمد 4/315 (بدون ذکر رفع الیدین)، 316 (بدون ذکر آمین) 318 (بتمامہ)، وانظر حدیث وائل من غیر طریق عبدالجبار عن أبیہ عند: صحیح مسلم/الصلاة 15 (401)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (723)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (867)، مسند احمد 4/316، 317، 318، 319 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَمِعْتُ نَصْرَ بْنَ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا صَلَّى رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُ حِيَالَ أُذُنَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو جس وقت آپ اللہ اکبر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے بالمقابل اٹھاتے ، اور جب رکوع کرنے اور رکوع سے اپنا سر اٹھانے کا ارادہ کرتے ( تب بھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل اٹھاتے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 881]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 9 (391)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (745)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (859)، (تحفة الأشراف: 11184)، مسند احمد 3/436، 437، 5/53، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1286)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1025، 1057، 1086، 1087، 1088، 1144 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حَتَّى حَاذَتَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، اور جس وقت آپ نے رکوع کیا اور جس وقت رکوع سے اپنا سر اٹھایا ( تو بھی انہیں آپ نے اٹھایا ) یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کی کانوں کی لو کے بالمقابل ہو گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 882]
💡 وضاحت:
۱؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہم دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لیے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع یدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
5: بَابُ : مَوْضِعِ الإِبْهَامَيْنِ عِنْدَ الرَّفْعِ
باب: ہاتھ اٹھاتے وقت دونوں انگوٹھوں کو کہاں تک اٹھائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قال: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكَادَ إِبْهَامَاهُ تُحَاذِي شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو یہاں تک اٹھاتے کہ آپ کے دونوں انگوٹھے آپ کے کانوں کی لو کے بالمقابل ہو جاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 883]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (737) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 117 (737)، (تحفة الأشراف: 11759)، مسند احمد 4/316 (ضعیف الإسناد) (لیکن شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت صحیح ہے، دیکھئے رقم: 880 کی تخریج)
6: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ مَدًّا
باب: دونوں ہاتھوں کو بڑھا کر اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ، قال: جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقَالَ: " ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ مَدًّا وَيَسْكُتُ هُنَيْهَةً وَيُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ".
سعید بن سمعان کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قبیلہ زریق کی مسجد میں آئے ، اور کہنے لگے : تین کام ایسے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے اور لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے ۱؎ ، آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھ بڑھا کر اٹھاتے تھے ، اور تھوڑی دیر چپ رہتے تھے ۲؎ اور جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 884]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی کے وقت میں بعض سنتوں پر لوگوں نے عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ۲؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد، جیسا کہ حدیث رقم (۸۹۶) میں جو آ رہی ہے صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 119 (753) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 63 (240) مختصراً، (تحفة الأشراف: 13081)، مسند احمد 2/375، 434، 500، سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)
7: بَابُ : فَرْضِ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى
باب: تکبیر تحریمہ کی فرضیت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى كَمَا صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي قَالَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، اور ایک اور شخص داخل ہوا ، اس نے آ کر نماز پڑھی ، پھر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا ، اور فرمایا : ” واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( پھر ) فرمایا : ” وعلیک السلام ، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ ، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا ، پھر عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے ، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا ، آپ مجھے ( نماز پڑھنا ) سکھا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ۱؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو ، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہو جائے ، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو ، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 885]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مؤلف نے تکبیر تحریمہ کی فرضیت پر استدلال کی۔ ۲؎: اس سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 95 (757)، 122 (793)، الإستئذان 18 (6252)، الأیمان والنذور 15 (6667)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (397)، سنن ابی داود/الصلاة 148 (856)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (303)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 14304)، مسند احمد 2/437 (صحیح)
8: بَابُ : الْقَوْلِ الَّذِي يُفْتَتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ
باب: وہ کلمہ جس کے ذریعہ نماز شروع کی جاتی ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قال: قَامَ رَجُلٌ خَلْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ" فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَقَالَ: " لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا : «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا‏» ” اللہ بہت بڑا ہے ، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں ، اللہ کی ذات پاک ہے ، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کلمے کس نے کہے ہیں ؟ “ تو اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں نے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 886]
💡 وضاحت:
۱؎: ہر ایک چاہتا تھا کہ اسے اللہ کے حضور لے جانے کا شرف اسے حاصل ہو۔ ۲؎: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان صحیح احادیث میں متعدد اذکار اور ادعیہ کا ذکر آیا ہے، ان میں سے کوئی بھی دعا پڑھی جا سکتی ہے، اور بعض لوگوں نے جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ «سبحانک اللہم» کے علاوہ باقی دیگر دعائیں نماز تہجد، اور دیگر نفل نمازوں کے لیے ہیں تو یہ مجرد دعویٰ ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 27 (601)، سنن الترمذی/الدعوات 127 (3592)، (تحفة الأشراف: 7369)، مسند احمد 2/14، 97 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ الْقَائِلُ كَلِمَةَ كَذَا وَكَذَا" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " عَجِبْتُ لَهَا وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ" قَالَ: ابْنُ عُمَرَ مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران لوگوں میں سے ایک شخص نے : «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» ” اللہ بہت بڑا ہے ، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں ، اللہ کی ذات پاک ہے ، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں “ کہا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کلمے کس نے کہے ہیں ؟ “ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کہے ہیں ، تو آپ نے فرمایا : ” مجھے اس کلمہ پر حیرت ہوئی “ ، اور آپ نے ایک ایسی بات ذکر کی جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے ، ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے میں نے اسے کبھی نہیں چھوڑا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 887]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
9: بَابُ : وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُمَيْرٍ الْعَنْبَرِيِّ، وَقَيْسِ بْنِ سُلَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ قَائِمًا فِي الصَّلَاةِ قَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا بایاں ہاتھ پکڑتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 888]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11778)، مسند احمد 4/316، 318 (صحیح)
10: بَابُ : فِي الإِمَامِ إِذَا رَأَى الرَّجُلَ قَدْ وَضَعَ شِمَالَهُ عَلَى يَمِينِهِ
باب: امام جب کسی شخص کو اپنا بائیاں ہاتھ داہنے ہاتھ پہ رکھے ہوئے دیکھے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قال: " رَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعْتُ شِمَالِي عَلَى يَمِينِي فِي الصَّلَاةِ فَأَخَذَ بِيَمِينِي فَوَضَعَهَا عَلَى شِمَالِي".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 889]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 120 (755)، سنن ابن ماجہ/إقامة 3 (811)، (تحفة الأشراف: 9378)، مسند احمد 1/347 (حسن)
11: بَابُ : مَوْضِعِ الْيَمِينِ مِنَ الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر کہاں رکھے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قال: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ أَخْبَرَهُ، قال: " قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِأُذُنَيْهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا قَالَ: وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ لَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً، ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کیسے پڑھتے ہیں ؛ چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا ، اور اپنے دونوں ہاتھ یہاں تک اٹھائے کہ انہیں اپنے کانوں کے بالمقابل لے گئے ، پھر آپ نے اپنا داہنا ہاتھ اپنی بائیں ہتھیلی ( کی پشت ) ، کلائی اور بازو پر رکھا ۱؎ ، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا ، پھر جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر اسی طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل رکھا ، پھر آپ نے قعدہ کیا ، اور اپنے بائیں پیر کو بچھا لیا ، اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا ، اور اپنی داہنی کہنی کا سرا اپنی داہنی ران کے اوپر اٹھائے رکھا ، پھر آپ نے اپنی انگلیوں میں سے دو کو بند ۲؎ کر لیا ، اور ( بیچ کی انگلی اور انگوٹھے سے ) حلقہ ( دائرہ ) بنا لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی ، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 890]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنا مسنون ہے، اور حدیث رقم (۸۸۸) میں داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کے پکڑنے کا ذکر ہے یہ دونوں طریقے مسنون ہیں، بعض لوگوں نے جو یہ صورت ذکر کی ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے، اور اپنے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کی کلائی پکڑے تو یہ بدعت ہے، اس کا ثبوت نہیں، رہا یہ سوال کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ کر دونوں ہاتھ کہاں رکھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اسے اپنے سینے پر رکھے، کیونکہ ہاتھوں کا سینے پر ہی رکھنا ثابت ہے، اس کے خلاف جو بھی روایت ہے یا تو وہ ضعیف ہے یا تو پھر اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔ ۲؎: یعنی خنصر اور بنصر کو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (726)، 180 (957)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (868)، (تحفة الأشراف: 11781)، مسند احمد 4/316، 317، 318، 319، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1103، 1264، 1266، 1269 (صحیح)
12: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ التَّخَصُّرِ، فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ. ح وأَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص کوکھ ( کمر ) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 891]
💡 وضاحت:
۱؎ نماز بارگاہ الٰہی میں عجز و نیاز مندی کے اظہار کا نام ہے، اس کے برخلاف کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے تکبر کا اظہار ہوتا ہے، اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ شیطان جب چلتا ہے تو اسی طرح چلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: حدیث إسحاق بن إبراہیم تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14516)، وحدیث سوید بن نصر أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 11 (545)، (تحفة الأشراف: 14532)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 17 (1220)، سنن ابی داود/الصلاة 176 (947)، سنن الترمذی/الصلاة 165 (383)، مسند احمد 2/232، 290، 295، 331، 399، سنن الدارمی/الصلاة 138 (1468) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ قال: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَصْرِي فَقَالَ لِي" هَكَذَا ضَرْبَةً بِيَدِهِ فَلَمَّا صَلَّيْتُ قُلْتُ: لِرَجُلٍ مَنْ هَذَا قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي قَالَ: " إِنَّ هَذَا الصَّلْبُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْهُ".
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ ( کمر ) پر رکھ لیا ، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا ، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے ( پوچھا ) یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں ، میں نے ان سے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی ؟ تو انہوں نے کہا : یہ صلیب کی ہیئت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 892]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 160 (903) مختصراً، (تحفة الأشراف: 6724)، مسند احمد 2/30، 106 (صحیح)
13: بَابُ : الصَّفِّ بَيْنَ الْقَدَمَيْنِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں دونوں قدموں کے ملانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ: " خَالَفَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيَّ".
ابوعبیدہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنے دونوں قدم ملا کر نماز پڑھ رہا ہے ، تو انہوں نے کہا : اس نے سنت کی مخالفت کی ہے ، اگر یہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو بہتر ہوتا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 893]
💡 وضاحت:
۱؎: سنداً اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، مگر بات یہی صحیح ہے کہ نمازی اپنے دونوں قدموں کو آپس میں ملائے نہیں، کیونکہ اس کو جماعت میں اپنے بغل کے نمازی کے قدم سے قدم ملانا ہے، اگر منفرد ہے تب بھی اپنے قدموں کو آپس میں ملانے سے اس کو پریشانی ہو گی، الگ الگ رکھنے میں راحت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9631) (ضعیف الإسناد) (ابو عبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہونے کی وجہ سے سنداً یہ روایت ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: أَخْبَرَنِي مَيْسَرَةُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي قَدْ صَفَّ بَيْنَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ: " أَخْطَأَ السُّنَّةَ وَلَوْ رَاوَحَ بَيْنَهُمَا كَانَ أَعْجَبَ إِلَيَّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، اس نے اپنے دونوں قدم ملا رکھا تھا تو انہوں نے کہا : یہ سنت سے چوک گیا ، اگر وہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا رکھتا تو میرے نزدیک زیادہ اچھا ہوتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 894]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (893) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف الإسناد) (سند میں ابوعبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے)۔
14: بَابُ : سُكُوتِ الإِمَامِ بَعْدَ افْتِتَاحِهِ الصَّلاَةَ
باب: نماز شروع کرنے کے بعد امام کے (تھوڑی دیر) خاموش رہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَتْ لَهُ سَكْتَةٌ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 895]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد اور قرات شروع کرنے سے پہلے، اس درمیان آپ دعا ثنا پڑھتے تھے، جیسا کہ اگلی روایت میں صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 60 (صحیح)
15: بَابُ : الدُّعَاءِ بَيْنَ التَّكْبِيرَةِ وَالْقِرَاءَةِ
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان کی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ قَالَ أَقُولُ: " اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے ، تو میں نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کہتا ہوں : «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ ! تو میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی تو نے مشرق و مغرب کے درمیان کر رکھی ہے ، اے اللہ ! تو مجھے میرے گناہوں سے پاک صاف کر دے جس طرح میل کچیل سے سفید کپڑا صاف کیا جاتا ہے ، اے اللہ ! تو میرے گناہوں کو پانی ، برف اور اولے سے دھو دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 896]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 60 (صحیح)
16: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان ایک اور دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، قال: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر یہ دعا پڑھتے : «إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم اهدني لأحسن الأعمال وأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت وقني سيئ الأعمال وسيئ الأخلاق لا يقي سيئها إلا أنت» ” بلاشبہ میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں ، اے اللہ ! مجھے حسن اعمال اور حسن اخلاق کی توفیق دے ، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا ، اور مجھے برے اعمال اور قبیح اخلاق سے بچا ، تیرے سوا کوئی ان برائیوں سے بچا نہیں سکتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 897]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3048) (صحیح)
17: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ
باب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان ایک اور دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي عَمِّي الْمَاجِشُونُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر یہ دعا پڑھتے : «وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت أنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا لا يغفر الذنوب إلا أنت واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك» ” میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، اور میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں ، یقیناً میری صلاۃ ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے ، جو تمام جہاں کا رب ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں ، اے اللہ ! تو صاحب قوت و اقتدار ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں تیرا غلام ہوں ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں ، تو میرے تمام گناہوں کو بخش دے ، تیرے سوا گناہوں کی مغفرت کوئی نہیں کر سکتا ، اور مجھے حسن اخلاق کی توفیق دے ، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا ، اور مجھ سے برے اخلاق پھیر دے ، تیرے سوا اس کی برائی مجھ سے کوئی پھیر نہیں سکتا ، میں تیری تابعداری کے لیے باربار حاضر ہوں ، اور ہر طرح کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے ، اور شر سے تیرا کوئی علاقہ نہیں ۲؎ ، میں تیری وجہ سے ہوں ، اور مجھے تیری ہی طرف پلٹنا ہے ، تو صاحب برکت اور صاحب علو ہے ، میں تجھ سے مغفرت کی درخواست کرتا ہوں ، اور تجھ سے اپنے گناہوں کی توبہ کرتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 898]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن حبان (۳/۱۳۱) کے الفاظ ہیں: جب نماز شروع کرتے … اس سے ثابت ہوا کہ بعض حضرات کا یہ کہنا کہ یہ دعائیں نوافل میں پڑھتے تھے، درست نہیں، یہ ساری دعائیں وقتاً فوقتاً بدل بدل کر پڑھی جا سکتی ہیں۔ ۲؎: شر کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ اس کے فعل میں کوئی شر نہیں، بلکہ اس کے سارے افعال خیر ہیں، اس لیے کہ وہ سب سراسر عدل و حکمت پر مبنی ہیں، علامہ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ خیر و شر دونوں کا خالق ہے پس شر اس کی بعض مخلوقات میں ہے، اس کی تخلیق و عمل میں نہیں، اسی لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ اس ظلم سے پاک ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (744)، 121 (760، 761)، 360 (1509)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422، 3423)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 15 (864)، 70 (1054)، (تحفة الأشراف: 10228)، مسند احمد 1/93، 94، 95، 102، 103، 119، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1274)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1051، 1127 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ثُمَّ يَقْرَأُ".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو کہتے : «اللہ أكبر وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين اللہم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك» ” اللہ بہت بڑا ہے ، میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس ذات کی جانب کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ، اور میں اللہ کے ساتھ ساجھی بنانے والوں میں سے نہیں ہوں ، یقیناً میری نماز ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے ، جو تمام جہانوں کا رب ( پالنہار ) ہے جس کا کوئی ساجھی نہیں ، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں پہلا مسلمان ہوں ، اے اللہ ! تو صاحب قدرت و اقتدار ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تیری ذات تمام عیوب سے پاک ہے ، اور تو لائق حمد وثناء ہے ) ، پھر قرآت فرماتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 899]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11230)، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف بأرقام: 1053، 1129 (صحیح)
18: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ بَيْنَ افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ وَبَيْنَ الْقِرَاءَةِ
باب: نماز شروع کرنے اور قرأت کرنے کے بیچ کی ایک اور دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے : «سبحانك اللہم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ” اے اللہ ! تو ( شرک اور تمام عیبوں سے ) پاک ہے ، اور لائق حمد ہے ، تیرا نام بابرکت ہے ، اور تیری شان بلند و بالا ہے ، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 900]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 122 (775) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 65 (224) مطولاً، سنن ابن ماجہ/إقامة 1 (804)، (تحفة الأشراف: 4252)، مسند احمد 3/50، 69، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1275) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کہتے : «سبحانك اللہم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ” اے اللہ ! تو ( تمام عیبوں سے ) پاک ہے ، اور لائق حمد تو ہی ہے ، اور بابرکت ہے تیرا نام ، اور بلند ہے تیری شان ، اور تیرے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 901]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
19: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الذِّكْرِ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
باب: تکبیر تحریمہ کے بعد کی ایک اور دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: " أَيُّكُمُ الَّذِي تَكَلَّمَ بِكَلِمَاتٍ" فَأَرَمَّ الْقَوْمُ قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا ، اور مسجد میں داخل ہوا اس کی سانس پھول گئی تھی ، تو اس نے «اللہ أكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» ” اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ایسی تعریف جو پاکیزہ بابرکت ہو “ کہا ، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری کر لی تو پوچھا : ” یہ کلمے کس نے کہے تھے ؟ “ لوگ خاموش رہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی “ ، تو اس شخص نے کہا : میں نے اے اللہ کے رسول ! میں آیا اور میری سانس پھول رہی تھی تو میں نے یہ کلمات کہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا سب جھپٹ رہے تھے کہ اسے کون اوپر لے جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 902]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 27 (600)، سنن ابی داود/الصلاة 121 (763)، (تحفة الأشراف: 313، 612، 1157)، مسند احمد 3/167، 168، 188، 252 (صحیح)
20: بَابُ : الْبَدَاءَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَبْلَ السُّورَةِ
باب: سورت سے پہلے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 903]
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 68 (246)، سنن ابن ماجہ/إقامة 4 (813)، (تحفة الأشراف: 1435)، مسند احمد 3/101، 111، 114، 183 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قال: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" فَافْتَتَحُوا بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی تو ان لوگوں نے «الحمد لله رب العالمين» سے قرآت شروع کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 904]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 4 (813)، (تحفة الأشراف: 1142)، مسند احمد 3/111 (صحیح)
21: بَابُ : قِرَاءَةِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
باب: (نماز میں) «‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحیم»‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال: بَيْنَمَا ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا لَهُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " نَزَلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ {1} فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ {2} إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ {3} سورة الكوثر آية 1-3، ثُمَّ قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: " فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْكَوَاكِبِ تَرِدُهُ عَلَيَّ أُمَّتِي فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ: إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ یکایک آپ کو جھپکی سی آئی ، پھر مسکراتے ہوئے نے اپنا سر اٹھایا ، تو ہم نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کو کس چیز نے ہنسایا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت اتری ہے « بسم اللہ الرحمن الرحيم ‏* إنا أعطيناك الكوثر * فصل لربك وانحر * إن شانئك هو الأبتر» ” شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان ، نہایت رحم والا ہے ، یقیناً ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ، تو آپ اپنے رب کے لیے صلاۃ پڑھیں ، اور قربانی کریں ، یقیناً آپ کا دشمن ہی لاوارث اور بے نام و نشان ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ؟ “ ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے وعدہ کیا ہے ، جس کے آبخورے تاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہیں ، میری امت اس حوض پر میرے پاس آئے گی ، ان میں سے ایک شخص کھینچ لیا جائے گا تو میں کہوں گا : میرے رب ! یہ تو میری امت میں سے ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ مجھ سے فرمائے گا : تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے تمہارے بعد کیا کیا بدعتیں ایجاد کی ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 905]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 14 (400)، الفضائل 9 (2304) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 124 (784) مختصراً، والسنة 26 (4747) مختصراً، (تحفة الأشراف: 1575)، مسند احمد 3/102، 281 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قال: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ: آمِينَ فَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ وَيَقُولُ" كُلَّمَا سَجَدَ اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
نعیم المجمر کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، تو انہوں نے «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کہا ، پھر سورۃ فاتحہ پڑھی ، اور جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پر پہنچے آمین کہی ، لوگوں نے بھی آمین کہی ۱؎ ، اور جب جب وہ سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، اور جب دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوئے تو اللہ اکبر کہا ، اور جب سلام پھیرا تو کہا : اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں تم میں نماز کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 906]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ امام و مقتدی دونوں بلند آواز سے آمین کہیں گے، ایک روایت میں صراحت سے اس کا حکم آیا کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے گی تو اس کے سارے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے، اس سے امام کے آمین نہ کہنے پر امام مالک کا استدلال باطل ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14646)، مسند احمد 2/497 (صحیح)
22: بَابُ : تَرْكِ الْجَهْرِ بِـ { بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ }
باب: «‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحیم»‏‏‏‏ زور سے نہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُسْمِعْنَا قِرَاءَةَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1وَصَلَّى بِنَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، تو آپ نے ہمیں «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کی قرآت نہیں سنائی ، اور ہمیں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے بھی نماز پڑھائی ، تو ہم نے ان دونوں سے بھی اسے نہیں سنا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 907]
💡 وضاحت:
۱؎: بسم اللہ سے متعلق زیادہ تر روایتیں آہستہ ہی پڑھنے کی ہیں، جو روایتیں زور (جہر) سے پڑھنے کی آئی ہیں ان میں سے اکثر ضعیف ہیں، سب سے عمدہ روایت نعیم المجمر کی ہے جس میں ہے «صليت وراء أبي هريرة فقرأ: بسم الله الرحمن الرحيم: ثم قرأ بأم القرآن» اس روایت پر یہ اعتراض کیا گیا کہ اسے نعیم کے علاوہ اور بھی لوگوں نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، لیکن اس میں بسم اللہ کا ذکر نہیں، اس لیے ان کی روایت شاذ ہو گی، لیکن اس کے جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ نعیم ثقہ ہیں اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، اس لیے اس سے جہری پر دلیل پکڑی جا سکتی ہے، لیکن اس میں اشکال یہ ہے کہ ان کی مخالفت ثقات نے کی ہے، اس لیے یہ تفرد غیر مقبول ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1605) (صحیح الإسناد)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجّ، قال: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قال: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَجْهَرُ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی «بسم اللہ الرحمن الرحيم» زور سے پڑھتے نہیں سنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 908]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 89 (743)، صحیح مسلم/الصلاة 13 (399)، مسند احمد 3/176، 179، 273، (تحفة الأشراف: 1218، 1257) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو نَعَامَةَ الْحَنَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ إِذَا سَمِعَ أَحَدَنَا يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 يقول: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ".
عبداللہ بن مغفل کے بیٹے کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ جب ہم میں سے کسی سے «‏بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے ہوئے سنتے تو کہتے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، اور عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «‏بسم اللہ الرحمن الرحيم» پڑھتے نہیں سنا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 909]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی زور سے پڑھتے نہیں سنا، نہ کہ بالکل پڑھتے ہی نہیں تھے (دیکھئیے پچھلی دونوں حدیثیں)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 66 (244)، سنن ابن ماجہ/إقامة 4 (815)، (تحفة الأشراف: 9667)، مسند احمد 4/85 و 5/54، 55 (ضعیف) (بعض ائمہ نے ”ابن عبداللہ بن مغفل‘ کو مجہول قرار دے کر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ حافظ مزی نے ان کا نام ’’یزید‘‘ لکھا ہے، اور حافظ ابن حجر نے ان کو ’’صدوق‘‘ کہا ہے)
23: بَابُ : تَرْكِ قِرَاءَةِ { بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ } فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: سورۃ الفاتحہ میں «‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحیم»‏‏‏‏ کی قرأت چھوڑ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ هِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ"، فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا يَقُولُ الْعَبْدُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " حَمِدَنِي عَبْدِي" يَقُولُ الْعَبْدُ: الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ: " مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَجَّدَنِي عَبْدِي يَقُولُ الْعَبْدُ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ يَقُولُ الْعَبْدُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَهَؤُلَاءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ".
ابوسائب مولی ہشام بن زہرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے ، ناقص ہے ، ناقص ہے ، پوری نہیں “ ، میں نے پوچھا : ابوہریرہ ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو ( کیسے پڑھوں ؟ ) تو انہوں نے میرا ہاتھ دبایا ، اور کہا : اے فارسی ! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں بانٹ دیا ہے ، تو آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے ، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سورۃ فاتحہ پڑھو ، جب بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے ۲؎ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد ( تعریف ) کی ، اسی طرح جب بندہ «‏الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ، جب بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعظیم و تمجید کی ، اور جب بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے : یہ آیت میرے اور میرے بندے دونوں کے درمیان مشترک ہے ، اور جب بندہ «‏اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ تینوں آیتیں میرے بندے کے لیے ہیں ، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 910]
💡 وضاحت:
۱؎: صلاۃ سے مراد سورۃ فاتحہ ہے کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔ ۲؎: اسی سے مؤلف نے سورۃ فاتحہ میں «‏بسم الله الرحمن الرحيم» نہ پڑھنے پر استدلال کیا ہے، حالانکہ یہاں بات صرف یہ ہے کہ اصل سورۃ فاتحہ تو «الحمد للہ» سے ہے، اور رہا پڑھنا «‏بسم الله» ‘ تو ہر سورۃ کی شروع میں ہونے کی وجہ سے اس کو تو پڑھنا ہی ہوتا ہے، وہ ایک الگ مسئلہ ہے، اس لیے یہاں اس کو نہیں چھیڑا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 11 (395)، سنن ابی داود/الصلاة 135 (821)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة 5 (2953)، سنن ابن ماجہ/إقامة 11 (838) (تحفة الأشراف: 14935)، موطا امام مالک/الصلاة 9 (39)، مسند احمد 2/241، 250، 285، 286، 290، 457، 460، 478، 487 (صحیح)
24: بَابُ : إِيجَابِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کے وجوب و فرضیت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 911]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے خواہ وہ فرض ہو یا نفل، اور خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے، امام ہو یا مقتدی، ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہو گی، کیونکہ «لاء» نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے، اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے، یہ صفات کی نفی کے لیے اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو، اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ از روئے شرع صلاۃ مخصوص اقوال و افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، لہٰذا جز یا کُل کی نفی سے ذات کی نفی ہو جائے گی، اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہو سکتی ہو تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو، اور وہ صحت کی نفی ہے نہ کہ کمال کی، اس لیے کہ صحت اور کمال ان دونوں مجازوں میں سے صحت ذات سے اقرب (زیادہ قریب) اور کمال ذات سے ابعد (زیادہ دور) ہے، اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہو گی جو ذات سے اقرب ہے نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلے میں ذات سے ابعد (بعید تر) ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 95 (756)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (394)، سنن ابی داود/فیہ 136 (822)، سنن الترمذی/فیہ 69 (247)، سنن ابن ماجہ/إقامة 11 (837)، (تحفة الأشراف: 5110)، مسند احمد 5/314، 321، 322، سنن الدارمی/الصلاة 36 (1278) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ مزید نہ پڑھے ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 912]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جملہ ایسے ہی ہے جیسے چوری کی سزا قطع «ید» (ہاتھ کاٹنے) کے سلسلے میں صحیح حدیث میں ہے «لا تقطع الید إلا فی ربع دینار فصاعدا» چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا یعنی چوتھائی دینار سے کم پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لہٰذا حدیث میں وارد اس جملے کا مطلب یہ ہوا کہ اس شخص کی صلاۃ نہیں ہو گی جس نے سورۃ فاتحہ سے کم پڑھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 911 (صحیح)
25: بَابُ : فَضْلِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: سورۃ الفاتحہ کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِذْ سَمِعَ نَقِيضًا فَوْقَهُ فَرَفَعَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: " هَذَا بَابٌ قَدْ فُتِحَ مِنَ السَّمَاءِ مَا فُتِحَ قَطُّ قَالَ: فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَمْ تَقْرَأْ حَرْفًا مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبرائیل علیہ السلام ایک ساتھ ہی تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام نے آسمان کے اوپر دروازہ کھلنے کی آواز سنی ، تو نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا : یہ آسمان کا ایک دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا ، پھر اس سے ایک فرشتہ اترا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے کہا : مبارک ہو ! آپ کو دو نور دیا گیا ہے جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیا گیا ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں ، ان دونوں میں سے ایک حرف بھی تم پڑھو گے تو ( اس کا ثواب ) تمہیں ضرور دیا جائے گا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 913]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 43 (806)، (تحفة الأشراف: 5541) (صحیح)
26: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ }
باب: تفسیر آیت کریمہ: ”یقیناً ہم آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہے اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے“۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قال: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَدَعَاهُ قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقَالَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي" قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24" أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ: فَذَهَبَ لِيَخْرُجَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْلَكَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّذِي أُوتِيتُ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ".
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے ، اور انہیں بلایا ، تو میں نے نماز پڑھی ، پھر آپ کے پاس آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” ابوسعید تمہیں مجھے جواب دینے سے کس چیز نے روکا ؟ “ کہا : میں نماز پڑھ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا ہے ! : «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم» ” اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہارے لیے حیات بخش ہو “ ( الحجر : ۸۷ ) کیا تم کو مسجد سے نکلنے سے پہلے میں ایک عظیم ترین سورت نہ سکھاؤں ؟ “ آپ مسجد سے نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے جو کہا تھا بتا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ سورت «‏الحمد لله رب العالمين» ہے ، اور یہی «سبع المثاني» ۱؎ ہے جو مجھے دی گئی ہے ، یہی قرآن عظیم ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 914]
💡 وضاحت:
۱؎: سورۃ فاتحہ کا نام «سبع المثاني» ہے، «سبع» اس لیے ہے کہ یہ سات آیتوں پر مشتمل ہے، اور «مثانی» اس لیے کہ یہ نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہے، اس کی اسی اہمیت و خصوصیت کے اعتبار سے اسے قرآن عظیم کہا کیا ہے، گرچہ قرآن کی ہر سورت قرآن عظیم ہے جس طرح کعبہ کو بیت اللہ کہا جاتا ہے گرچہ اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں، لیکن اس کی عظمت و خصوصیت کے اظہار کے لیے صرف کعبہ ہی کو بیت اللہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر الفاتحة 1 (4474)، تفسیر الأنفال 3 (4647)، تفسیر الحجر 3 (4703)، فضائل القرآن 9 (5006)، سنن ابی داود/الصلاة 350 (1458)، سنن ابن ماجہ/الأدب 52 (3785)، (تحفة الأشراف: 12047)، مسند احمد 3/450، 4 (211)، سنن الدارمی/الصلاة 172 (1533)، فضائل القرآن 12 (3414)، موطا امام مالک/ الصلاة 8 (37) من حدیث أبی بن کعب (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ مِثْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ جیسی کوئی سورت نہ تو رات میں اتاری ہے اور نہ انجیل میں ، یہی «سبع المثاني» ہے ، یہ میرے اور میرے بندے کے بیچ بٹی ہوئی ہے ، اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 915]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/تفسیر الحجر (3125)، (تحفة الأشراف: 77)، مسند احمد 5/114، سنن الدارمی/الفضائل 12 (3415) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: " أُوتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي السَّبْعَ الطُّوَلَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «سبع المثاني» یعنی سات لمبی سورتیں ۱؎ عطا کی گئی ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 916]
💡 وضاحت:
۱؎: اور وہ یہ ہیں: بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، اعراف، ہود اور یونس، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کا قول سند میں شریک ضعیف ہیں، نیز ابواسحاق بیہقی مدلس و مختلط لیکن سابقہ سند سے تقویت پا کر یہ حسن ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1459) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 351 (1459)، (تحفة الأشراف: 5617) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي سورة الحجر آية 87 قَالَ: " السَّبْعُ الطُّوَلُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اللہ عزوجل کے قول : «سبعا من المثاني» کی تفسیر میں مروی ہے کہ اس سے مراد سات لمبی سورتیں ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 917]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5590) (حسن) (سند میں شریک القاضی ضعیف اور ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن لغیرہ ہے، اور اصل حدیث صحیح ہے کماتقدم، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 5/200، رقم: 1312) اور مشہور حسن کے نسخے میں ضعیف لکھا ہے اور حوالہ صحیح ابی داود کا ہے تو یہ کہا جائے گا کہ اس کی سند میں ضعف ہے اور اصل حدیث صحیح ہے۔
27: بَابُ : تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ فِيمَا لَمْ يَجْهَرْ فِيهِ
باب: سری نمازوں میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: " مَنْ قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى"، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ قَدْ خَالَجَنِيهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا : سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ؟ “ تو اس آدمی نے عرض کیا : میں نے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 918]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 12 (398)، سنن ابی داود/الصلاة 138 (828)، (تحفة الأشراف: 10825)، مسند احمد 4/426، 431، 433، 441، ویأتی عند المؤلف برقم: 1745 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ قَدْ خَالَجَنِيهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر پڑھائی ، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا ، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا : ” تم میں سے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے ؟ “ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : میں نے ، اور میری نیت صرف خیر کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورۃ پڑھنے میں خلجان میں دال دیا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 919]
💡 وضاحت:
۱؎: خلجان مطلق سورۃ فاتحہ پڑھنے کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ زور سے پڑھنے کی وجہ سے ہوا، یہی بات قرین قیاس ہے بلکہ حتمی ہے، اس لیے اس حدیث سے سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے پر استدلال واضح نہیں ہے، نیز عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (رقم: ۹۲۱) سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ آپ نے باضابطہٰ سورۃ فاتحہ پڑھنے کی صراحت فرما دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
28: بَابُ : تَرْكِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ
باب: جہری نماز میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةٍ جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: " هَلْ قَرَأَ مَعِي أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا" قَالَ رَجُلٌ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ" قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ مِنَ الصَّلَاةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے جس میں آپ نے زور سے قرآت فرمائی تھی سلام پھیر کر پلٹے تو پوچھا : ” کیا تم میں سے کسی نے ابھی میرے ساتھ قرآت کی ہے ؟ “ تو ایک شخص نے کہا : جی ہاں ! اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج بھی میں کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے “ ۔ زہری کہتے ہیں : جب لوگوں نے یہ بات سنی تو جن نمازوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قرآت فرماتے تھے ان میں قرآت سے رک گئے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 920]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ قول کہ جب لوگوں نے … زہری کا ہے، ائمہ حدیث نے اس کی تصریح کر دی ہے، اور زہری تابعی صغیر ہیں، وہ اس واقعہ کے وقت موجود نہیں تھے، ان کی یہ روایت مرسل ہے، اور مرسل ضعیف کی قسموں میں سے ہے، یا اس کا یہ معنی ہے کہ لوگ زور سے قرات کرتے تھے، اسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خلجان ہوتا تھا، اور خلجان کا واقعہ جہری سری دونوں میں پیش آیا ہے (جیسا کہ حدیث رقم: ۹۱۸ میں گزرا) اس واقعہ کے بعد لوگ زور سے قرات کرنے سے رک گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 137 (826)، سنن الترمذی/الصلاة 117 (312)، سنن ابن ماجہ/إقامة 13 (848، 849)، (تحفة الأشراف: 14264)، موطا امام مالک/الصلاة 10 (44)، مسند احمد 2/240، 284، 285، 301، 302، 487 (صحیح)
29: بَابُ : قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ خَلْفَ الإِمَامِ فِيمَا جَهَرَ بِهِ الإِمَامُ
باب: جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: " لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نمازیں پڑھائیں جن میں قرآت بلند آواز سے کی جاتی ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب میں بآواز بلند قرآت کروں تو تم میں سے کوئی بھی سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 921]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 136 (824) مطولاً، (تحفة الأشراف: 5116)، مسند احمد 5/313، 316، 322 (حسن صحیح) (متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر یہ روایت حسن صحیح ہے، بعض ائمہ نے محمود میں کچھ کلام کیا ہے، جب کہ بہت سوں نے ان کی توثیق کی ہے، نیز وہ اس روایت میں منفرد بھی نہیں ہیں)
30: بَابُ : تَأْوِيلِ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ }
باب: آیت کریمہ: ”اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو“ (الاعراف: ۲۰۴) کی تفسیر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ التِّرْمِذِيُّ قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امام تو بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو ، اور جب قرآت کرے تو تم خاموش رہو ۱؎ ، اور جب «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «اللہم ربنا لك الحمد» کہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 922]
💡 وضاحت:
۱؎: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال میں آپس میں ٹکراؤ ممکن ہی نہیں، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اقوال میں بھی ٹکراو محال ہے، یہ مسلّمہ عقیدہ ہے، اس لیے سورۃ فاتحہ کے وجوب پر دیگر قطعی احادیث کے تناظر میں اس صحیح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ کی قرات کے وقت امام کی قرات سنو، اور چپ رہو، رہا سورۃ فاتحہ پڑھنے کے مانعین کا آیت «و إذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا» سے استدلال، تو ایک تو یہ آیت نماز فرض ہونے سے پہلے کی ہے، تو اس کو نماز پر کیسے فٹ کریں گے؟ دوسرے مکاتب میں ایک طالب علم کے پڑھنے کے وقت سارے بچوں کو خاموش رہ کر سننے کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ جب کہ یہ حکم وہاں زیادہ فٹ ہوتا ہے، اور نماز کے لیے تو «لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب» والی حدیث سے استثناء بھی آ گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 69 (604)، سنن ابن ماجہ/إقامة 13 (846) مطولاً، (تحفة الأشراف: 12317)، مسند احمد 2/376، 420، وأخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 74 (722)، 82 (734)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (414)، سنن الدارمی/فیہ 71 (1350) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قال: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا" قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَانَ الْمُخَرِّمِيُّ يَقُولُ هُوَ ثِقَةٌ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو ، اور جب وہ قرآت کرے تو تم خاموش رہو “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : مخرمی کہتے تھے : وہ یعنی محمد بن سعد الانصاری ثقہ ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 923]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (حسن صحیح)
31: بَابُ : اكْتِفَاءِ الْمَأْمُومِ بِقِرَاءَةِ الإِمَامِ
باب: امام کی قرأت مقتدی کے لیے کافی ہے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قال: حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ قال: حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ سَمِعَهُ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ، قَالَ: " نَعَمْ" قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ فَقَالَ: " مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَأٌ إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَلَمْ يُقْرَأْ هَذَا مَعَ الْكِتَابِ.
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کیا ہر نماز میں قرآت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! “ ( اس پر ) انصار کے ایک شخص نے کہا : یہ ( قرآت ) واجب ہو گئی ، تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور حال یہ تھا کہ میں ان سے سب سے زیادہ قریب تھا ، تو انہوں نے کہا : میں سمجھتا ہوں کہ امام جب لوگوں کی امامت کرے تو ( امام کی قرآت ) انہیں بھی کافی ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں : اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنا غلط ہے ، یہ تو صرف ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا قول ہے ، اور اسے اس کتاب کے ساتھ انہوں نے نہیں پڑھا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 924]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مؤلف کے شاگرد ابوبکر ابن السنی کا قول ہے، یعنی ابن السنی نے مؤلف پر اس کتاب کو پڑھتے وقت یہ حدیث نہیں پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد والموقوف منه فالتفت إلي
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، شاذ وهم زيد بن حباب فى رفعه كما صرح به الدارقطني والبيهقي (2/ 163) والحاكم وغيرهم. والموقوف هو الصواب. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10959)، مسند احمد 5/197، 6/448 وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة 11 (842)، (من طریق أبی ادریس الخولانی إلی قولہ: وجب ھذا) (حسن الإسناد)
32: بَابُ : مَا يُجْزِئُ مِنَ الْقِرَاءَةِ لِمَنْ لاَ يُحْسِنُ الْقُرْآنَ
باب: جو قرآن اچھی طرح نہ پڑھ سکے تو اسے کیا پڑھنا کافی ہو گا؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى قال: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ فَعَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِئُنِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: " قُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : میں قرآن کچھ بھی نہیں پڑھ سکتا ، تو مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئیے جو میرے لیے قرآن کے بدلے کافی ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ واللہ أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللہ» ” اللہ پاک ہے اور اللہ ہی کے لیے حمد ہے ، اور اللہ کے سوا کوئی معبود ( برحق ) نہیں ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ، اور طاقت و قوت صرف اللہ ہی کی توفیق سے ہے “ پڑھ لیا کرو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 925]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 139 (832) مطولاً، (تحفة الأشراف: 5150)، مسند احمد 4/353، 356، 382 (حسن)
33: بَابُ : جَهْرِ الإِمَامِ بِآمِينَ
باب: امام کے زور سے آمین کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب قاری ( امام ) آمین کہے ، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے ۱؎ گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 926]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مؤلف نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے، کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا، اور جب انہیں اس کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15266)، مسند احمد 2/238، 449، 459، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1281، 1282) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب قاری ( امام ) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا ، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 927]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الدعوات 63 (6402)، سنن ابن ماجہ/إقامة 14 (851)، مسند احمد 2/238، (تحفة الأشراف: 13136) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال: حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ آمِينَ وَإِنَّ الْإِمَامَ يَقُولُ آمِينَ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم آمين کہو ، کیونکہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور امام آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 928]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 14 (852) مختصراً، مسند احمد 2/233، 270، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1282)، (تحفة الأشراف: 13287) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا ، اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 929]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 111 (780)، صحیح مسلم/الصلاة 18 (410)، سنن ابی داود/الصلاة 172 (936)، سنن الترمذی/الصلاة 71 (250)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (45)، (تحفة الأشراف: 13230) (صحیح)
34: بَابُ : الأَمْرِ بِالتَّأْمِينِ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: امام کے پیچھے آمین کہنے کے حکم۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو ، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے گا اس کے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 930]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 113 (782)، التفسیر 2 (4475)، سنن ابی داود/الصلاة 172 (935)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (45)، مسند احمد 2/459، (تحفة الأشراف: 12576) (صحیح)
35: بَابُ : فَضْلِ التَّأْمِينِ
باب: آمین کہنے کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ وَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ آمِينَ فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی آمین کہے اور فرشتے بھی آسمان پر آمین کہیں اور ان دونوں میں سے ایک کی آمین دوسرے کے موافق ہو جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جائیں گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 931]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 111 (781)، (تحفة الأشراف: 13826)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (46)، مسند احمد 2/459 (صحیح)
36: بَابُ : قَوْلِ الْمَأْمُومِ إِذَا عَطَسَ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: جب مقتدی کو امام کے پیچھے چھینک آئے تو کیا کہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ" فَلَمْ يُكَلِّمْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ: " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ" فَقَالَ: رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ ابْنِ عَفْرَاءَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ، قَالَ: قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، تو مجھے چھینک آ گئی ، تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» ” اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں ، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے “ کہا ، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے ، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا : ” نماز میں کون بول رہا تھا ؟ “ تو کسی نے جواب نہیں دیا ، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا : ” نماز میں کون بول رہا تھا ؟ “ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے کیسے کہا تھا ؟ “ انہوں نے کہا : میں نے یوں کہا تھا : «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» ” اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں ، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 932]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 121 (773)، سنن الترمذی/الصلاة 180 (404)، (تحفة الأشراف: 3606)، موطا امام مالک/القرآن 7 (25)، مسند احمد 4/340 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَسْفَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ" فَلَمَّا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، قَالَ: " آمِينَ" فَسَمِعْتُهُ وَأَنَا خَلْفَهُ قَالَ: فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَرَدْتُ بِهَا بَأْسًا قَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا نَهْنَهَهَا شَيْءٌ دُونَ الْعَرْشِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا ، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا ، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا ، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا : ” نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا ؟ “ تو اس شخص نے کہا : میں نے اللہ کے رسول ! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 933]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے آمین کہی، رہا بعض حاشیہ نگاروں کا یہ کہنا کہ پہلی صف والوں کے بالخصوص ایسے شخص سے سننے سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل پیچھے ہو جہر لازم نہیں آتا، تو یہ صحیح نہیں کیونکہ صاحب ہدایہ نے یہ تصریح کی ہے کہ جہر یہی ہے کہ کوئی دوسرا سن لے، اور کرخی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جہر کا ادنی مرتبہ یہ ہے کہ بولنے والا آدمی خود اسے سنے، رہی وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی خفض والی روایت تو شعبہ نے اس میں کئی غلطیاں کی ہیں، جس کی تفصیل سنن ترمذی حدیث رقم (۲۴۸) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره دون قوله فما نهنهها
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3802،855) عبد الجبار بن وائل عن أبيه منقطع. وأبو إسحاق عنعن. وفي الباب أحاديث أخري مغنية عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 11764)، مسند احمد 4/315، 317 (صحیح) (اس سند میں عبدالجبار اور ان کے باپ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن’’فما نھنھھا۔۔۔“کے جملے کے علاوہ اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر بقیہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
37: بَابُ : جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ. قَالَ: " فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ زِيَادَةً وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا : ” گھنٹی کی آواز کی طرح ، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں ، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے ، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے ، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 934]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل 23 (2333)، (تحفة الأشراف: 16924)، موطا امام مالک/القرآن 4 (7)، مسند احمد 6/158، 163، 257 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے ، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے ، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں ، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ۱؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے ، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا ، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 935]
💡 وضاحت:
۱؎: «یتمثل لي الملک رجلاً» میں رَجَلاً منصوب بنزع الخافض» ہے، تقدیر یوں ہو گی یتمثل لي الملک صورۃ رجل» ، «صورۃ» جو «مضاف» تھا حذف کر دیا گیا ہے، اور «رجل» جو «مضاف الیہ» کو «مضاف» کا اعراب دے دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الوحي 2 (2)، سنن الترمذی/المناقب 7 (3634)، (تحفة الأشراف: 17152)، موطا امام مالک/القرآن 4 (7)، مسند احمد 6/256 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} سورة القيامة آية 16-17 قال: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، وَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} سورة القيامة آية 16-17 قَالَ: جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ تَقْرَأهُ، فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ، قَالَ: فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اللہ تعالیٰ کے قول : «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه» ( القیامۃ : ۱۶- ۱۷ ) کی تفسیر میں مروی ہے ، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی اترتے وقت بڑی تکلیف برداشت کرتے تھے ، اپنے ہونٹ ہلاتے رہتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اے نبی ! آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں ، کیونکہ اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے “ ۱؎ ، ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ «جمعه» کے معنی : اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ میں بیٹھا دینا ہے ، اور «قرآنه» کے معنی اسے اس طرح پڑھوا دینا ہے کہ جب آپ چاہیں اسے پڑھنے لگ جائیں «فإذا قرأناه فاتبع قرآنه» میں «فاتبع قرآنه» کے معنی ہیں : آپ اسے غور سے سنیں ، اور چپ رہیں ، چنانچہ جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ بغور سنتے تھے ، اور جب روانہ ہو جاتے تو آپ اسے پڑھتے جس طرح انہوں نے پڑھایا ہوتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 936]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ ہمارے ذمہ ہے کہ اسے آپ کے دل میں بٹھا دیں، اور آپ اسے پڑھنے لگیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الوحي 4 (5)، تفسیر ’’القیامة‘‘ 1 (4927) مختصراً، 2 (4928) مختصراً، 3 (4929)، فضائل القرآن 28 (5044)، التوحید 43 (7524)، صحیح مسلم/الصلاة 32 (448)، سنن الترمذی/تفسیر ’’القیامة‘‘ 71 (3329) مختصراً، (تحفة الأشراف: 5637)، مسند احمد 1/220، 343 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ ابْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَرَأَ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ يَكُنْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا قُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: كَذَبْتَ مَا هَكَذَا أَقْرَأَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ وَإِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ تَكُنْ أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ يَا هِشَام" فَقَرَأَ كَمَا كَانَ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ: " اقْرَأْ يَا عُمَرُ" فَقَرَأْتُ فَقَالَ هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا ، انہوں نے اس میں کچھ الفاظ اس طرح پڑھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح نہیں پڑھائے تھے تو میں نے پوچھا : یہ سورت آپ کو کس نے پڑھائی ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، میں نے کہا : آپ غلط کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس طرح کبھی نہیں پڑھائی ہو گی ! چنانچہ میں نے ان کا ہاتھ پکڑا ، اور انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے سورۃ الفرقان پڑھائی ہے ، اور میں نے انہیں اس میں کچھ ایسے الفاظ پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہشام ! ذرا پڑھو تو “ ، تو انہوں نے ویسے ہی پڑھا جس طرح پہلے پڑھا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ سورت اسی طرح اتری ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! اب تم پڑھو تو “ ، تو میں نے پڑھا ، تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی طرح اتری ہے “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 937]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کی تفسیر میں امام سیوطی نے الاتقان میں (۳۰) سے زائد اقوال نقل کئے ہیں جس میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سات مشہور لغات ہیں، بعضوں نے کہا اس سے مراد سات لہجے ہیں جو عربوں کے مختلف قبائل میں مروج تھے، اور بعضوں نے کہا کہ اس سے مراد سات مشہور قراتیں ہیں جنہیں قرات سبعہ کہا جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخصومات 4 (2419)، فضائل القرآن 5 (4992)، 27 (5041)، المرتدین 9 (6936)، التوحید 53 (7550)، صحیح مسلم/المسافرین 48 (818)، سنن ابی داود/الصلاة 357 (1475)، سنن الترمذی/القرائات 11 (2944)، (تحفة الأشراف: 10591، 10642)، موطا امام مالک/القرآن 4 (5)، مسند احمد 1/24، 40، 42، 43، 263 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا عَلَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِيَ اقْرَأْ فَقَرَأْتُ فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا ، جس طرح میں پڑھ رہا تھا وہ اس کے خلاف پڑھ رہے تھے ، جبکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا ، تو قریب تھا کہ میں ان کے خلاف جلد بازی میں کچھ کر بیٹھوں ۱؎ ، لیکن میں نے انہیں مہلت دی یہاں تک کہ وہ پڑھ کر فارغ ہو گئے ، پھر میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑ کر انہیں کھینچا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے انہیں سورۃ الفرقان ایسے طریقہ پر پڑھتے سنا ہے جو اس طریقہ کے خلاف ہے جس طریقہ پر آپ نے مجھے یہ سورت پڑھائی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ( اچھا ) تم پڑھو ! “ ، انہوں نے اسی طریقہ پر پڑھا جس پر میں نے ان کو پڑھتے ہوئے سنا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے “ ، پھر مجھ سے فرمایا : ” تم پڑھو ! “ تو میں نے بھی پڑھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے ، یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے ، ان میں سے جو آسان ہو تم اسی طرح پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 938]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نماز ہی کی حالت میں انہیں پکڑ کر کھینچ لوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10591) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَمَعْتُ لِقِرَاءَتِهِ فَإِذَا هُوَ يَقْرَؤُهَا عَلَى حُرُوفٍ كَثِيرَةٍ لَمْ يُقْرِئْنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا فَقَالَ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: كَذَبْتَ فَوَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَقْرَأَنِي هَذِهِ السُّورَةَ الَّتِي سَمِعْتُكَ تَقْرَؤُهَا فَانْطَلَقْتُ بِهِ أَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى حُرُوفٍ لَمْ تُقْرِئْنِيهَا وَأَنْتَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسِلْهُ يَا عُمَرُ اقْرَأْ يَا هِشَامُ" فَقَرَأَ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَؤُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ يَا عُمَرُ" فَقَرَأْتُ الْقِرَاءَةَ الَّتِي أَقْرَأَنِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَكَذَا أُنْزِلَتْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا تو میں ان کی قرآت غور سے سننے لگا ، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ کچھ الفاظ ایسے طریقے پر پڑھ رہے ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھایا تھا ، چنانچہ قریب تھا کہ میں ان پر نماز میں ہی جھپٹ پڑوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا ، یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیر دیا ، جب وہ سلام پھیر چکے تو میں نے ان کی چادر سمیت ان کا گریبان پکڑا ، اور پوچھا : یہ سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے آپ کو کس نے پڑھائی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے ، میں نے کہا : تم جھوٹ کہہ رہے ہو : اللہ کی قسم یہی سورت جو میں نے آپ کو پڑھتے ہوئے سنی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے پڑھائی ہے ، بالآخر میں انہیں کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا ، اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے انہیں سورۃ الفرقان کے کچھ الفاظ پڑھتے سنا ہے کہ اس طرح آپ نے مجھے نہیں پڑھایا ہے ، حالانکہ سورۃ الفرقان آپ نے ہی مجھ کو پڑھائی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! انہیں چھوڑ دو ، اور ہشام ! تم پڑھو ! “ تو انہوں نے اسے اسی طرح پر پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے سنا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! اب تم پڑھو ! “ تو میں نے اس طرح پڑھا جیسے آپ نے مجھے پڑھایا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اسی طرح نازل کی گئی ہے “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے ، ان میں سے جو آسان ہو اسی پر پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 939]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 937، (تحفة الأشراف: 10591) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ، قَالَ: " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ"، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ، قَالَ: " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ"، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ، فَقَالَ: " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ"، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا" قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ خُولِفَ فِيهِ الْحَكَمُ خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ. رَوَاهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے ، اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک ہی حرف پر قرآن پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں ، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی “ ، پھر دوسری بار جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، اور انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اللہ سے عفو و مغفرت کا طلب گار ہوں ، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی “ ، پھر جبرائیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور انہوں کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن تین حرفوں پر قرآن پڑھائیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اپنے رب سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں ، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ہے “ ، پھر وہ آپ کے پاس چوتھی بار آئے ، اور انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن پڑھائیں ، تو وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے صحیح پڑھیں گے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اس حدیث میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے ، منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے ، اسے «مجاهد عن عبيد بن عمير» کے طریق سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 940]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 48 (820، 821)، سنن ابی داود/الصلاة 357 (1478)، (تحفة الأشراف: 60)، مسند احمد 5/127، 128 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ نُفَيْلٍ قال: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قال: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةً فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ جَالِسٌ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَؤُهَا يُخَالِفُ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ لَهُ: مَنْ عَلَّمَكَ هَذِهِ السُّورَةَ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَا تُفَارِقْنِي حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا خَالَفَ قِرَاءَتِي فِي السُّورَةِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ يَا أُبَيُّ" فَقَرَأْتُهَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْسَنْتَ"، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ: " اقْرَأْ فَقَرَأَ فَخَالَفَ قِرَاءَتِي" فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنْتَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ: " إِنَّهُ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهُنَّ شَافٍ كَافٍ" قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سورت پڑھائی تھی ، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اسی سورت کو پڑھ رہا ہے ، اور میری قرآت کے خلاف پڑھ رہا ہے ، تو میں نے اس سے پوچھا : تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی ہے ؟ اس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، میں نے کہا : تم مجھ سے جدا نہ ہونا جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آ جائیں ، میں آپ کے پاس آیا ، اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ شخص وہ سورت جسے آپ نے مجھے سکھائی ہے میرے طریقے کے خلاف پڑھ رہا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابی ! تم پڑھو “ تو میں نے وہ سورت پڑھی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہت خوب “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : ” تم پڑھو ! “ تو اس نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہت خوب “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابی ! قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے ، اور ہر ایک درست اور کافی ہے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : معقل بن عبیداللہ ( زیادہ ) قوی نہیں ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 941]
💡 وضاحت:
۱؎: مؤلف نے الف لام کے ساتھ «القوی» کا لفظ استعمال کیا ہے، جس سے مراد ائمہ جرح وتعدیل کے نزدیک یہ ہے کہ یہ اتنا قوی نہیں ہیں جتنا صحیح حدیث کے راوی کو ہونا چاہیے یہ بقول حافظ ابن حجر «صدوق یخطیٔ» ہیں، یعنی عدالت میں تو ثقہ ہیں مگر حافظہ کے ذرا کمزور ہیں، متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر ان کی یہ روایت حسن صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 46)، مسند احمد 5/114، 127، 128 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُبَيٍّ قال: مَا حَاكَ فِي صَدْرِي مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا أَنِّي قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَهَا آخَرُ غَيْرَ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ الْآخَرُ: أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَقْرَأْتَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: " نَعَمْ" وَقَالَ الْآخَرُ: أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا. قَالَ: " نَعَمْ، إِنَّ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَيَانِي فَقَعَدَ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِي وَمِيكَائِيلُ عَنْ يَسَارِي فَقَالَ: جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام اقْرَأِ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ قَالَ: " مِيكَائِيلُ اسْتَزِدْهُ اسْتَزِدْهُ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ فَكُلُّ حَرْفٍ شَافٍ كَافٍ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا تو میرے دل میں کوئی خلش پیدا نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ میں نے ایک آیت پڑھی ، اور دوسرے شخص نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا ، تو میں نے کہا : مجھے یہ آیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے ، تو دوسرے نے بھی کہا : مجھے بھی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی پڑھائی ہے ، بالآخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! آپ نے مجھے یہ آیت اس اس طرح پڑھائی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، اور دوسرے شخص نے کہا : کیا آپ نے مجھے ایسے ایسے نہیں پڑھایا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ! جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام دونوں میرے پاس آئے ، جبرائیل میرے داہنے اور میکائیل میرے بائیں طرف بیٹھے ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا : آپ قرآن ایک حرف پر پڑھا کریں ، تو میکائیل نے کہا : آپ اسے ( اللہ سے ) زیادہ کرا دیجئیے یہاں تک کہ وہ سات حرفوں تک پہنچے ، ( اور کہا کہ ) ہر حرف شافی و کافی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 942]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8)، مسند احمد 5/114، 122 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صاحب قرآن ۱؎ کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں ، جب تک وہ ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے تو وہ بندھے رہتے ہیں ، اور جب انہیں چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 943]
💡 وضاحت:
۱؎: صاحب قرآن سے قرآن کا حافظ مراد ہے، خواہ پورے قرآن کا حافظ ہو یا اس کے کچھ اجزاء کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5031)، صحیح مسلم/المسافرین 32 (789)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8368)، موطا امام مالک/القرآن 4 (6)، مسند احمد 2/65، 112، 156 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَسْرَعُ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کتنی بری بات ہے کہ کوئی کہے : میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ۱؎ ، بلکہ اسے کہنا چاہیئے کہ وہ بھلا دیا گیا ، تم لوگ قرآن یاد کرتے رہو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں سے رسی سے کھل جانے والے اونٹ سے بھی زیادہ جلدی نکل جاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 944]
💡 وضاحت:
۱؎: بھول گیا سے غفلت لاپرواہی ظاہر ہوتی ہے، اس کے برخلاف بھلا دیا گیا میں حسرت و افسوس اور ندامت کا اظہار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5032)، 26 (5039) مختصراً، صحیح مسلم/المسافرین 32 (790)، سنن الترمذی/القراءات 10 (2942)، (تحفة الأشراف: 9295)، مسند احمد 1/382، 417، 423، 429، 438، سنن الدارمی/الرقاق 32 (2787)، فضائل القرآن 4 (3390) (صحیح)
38: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ
باب: فجر کی دونوں رکعتوں میں قرات کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قال: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا الْآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَفِي الْأُخْرَى" آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں آیت کریمہ : «قولوا آمنا باللہ وما أنزل إلينا» ( البقرہ : ۱۳۶ ) اخیر آیت تک ، اور دوسری رکعت میں «آمنا باللہ واشهد بأنا مسلمون» ( آل عمران : ۵۲ ) پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 945]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد سورۃ فاتحہ کے علاوہ ہے، سورۃ فاتحہ کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ اسے تو بہرصورت ہر سورۃ میں پڑھنی ہے، اس طرح بہت سی جگہوں پر فاتحہ کے علاوہ پر قرات کا اطلاق ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 14 (727)، سنن ابی داود/الصلاة 292 (1259)، (تحفة الأشراف: 5669)، مسند احمد 1/230، 231 (صحیح)
39: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ بِـ { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } وَ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ }
باب: فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد‏» پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 946]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 14 (726)، سنن ابی داود/الصلاة 292 (1256)، سنن ابن ماجہ/إقامة 102 (1148)، (تحفة الأشراف: 13438) (صحیح)
40: بَابُ : تَخْفِيفِ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ
باب: فجر کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: " إِنْ كُنْتُ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى أَقُولَ أَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْكِتَابِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی سنتیں پڑھتے دیکھتی ، آپ انہیں اتنی ہلکی پڑھتے کہ میں ( اپنے جی میں ) کہتی تھی : کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے ( یا نہیں ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 947]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد 28 (1171)، صحیح مسلم/المسافرین 14 (724)، سنن ابی داود/الصلاة 292 (1255)، (تحفة الأشراف: 17913)، مسند احمد 6/40، 49، 100، 164، 172، 186، 235 (صحیح)
41: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِالرُّومِ
باب: نماز فجر میں سورۃ الروم پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الطُّهُورَ فَإِنَّمَا يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أُولَئِكَ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی ، اس میں آپ نے سورۃ الروم کی تلاوت فرمائی ، تو آپ کو شک ہو گیا ، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ، اور ٹھیک سے طہارت حاصل نہیں کرتے ، یہی لوگ ہمیں قرآت میں شک میں ڈال دیتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 948]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15594)، مسند احمد 3/471، 5/363، 368 (حسن) (تراجع الالبانی 72)
42: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
باب: نماز فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ سَيَّارٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَامَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 949]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 35 (461)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 5 (818)، (تحفة الأشراف: 11607) (صحیح)
43: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِـ { ق }
باب: نماز فجر میں سورۃ «‏‏‏‏ق»‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قالت: " مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ".
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے «ق ، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ( سن سن کر ) یاد کیا ہے ، آپ اسے فجر میں ( بکثرت ) پڑھا کرتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 950]
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أن ذلك كان في خطبة الجمعة
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18363)، مسند احمد 6/463 (شاذ) (اس کے راوی ’’ابن ابی الرجال‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں اس لیے کبھی غلطی کر جاتے تھے، اور یہاں کر بھی گئے ہیں، محفوظ یہ ہے کہ منبر پر خطبہ میں پڑھنے کی بات ہے، جیسا کہ مؤلف کے یہاں بھی آ رہا ہے، دیکھئے رقم: 1412)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَاللَّفْظُ لَهُ قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قال: سَمِعْتُ عَمِّي يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ" فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ"، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُهُ فِي السُّوقِ فِي الزِّحَامِ فَقَالَ ق.
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی ، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎ ، شعبہ کہتے ہیں : میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا : سورۃ «ق» پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 951]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ سورۃ پڑھی جس میں یہ آیت ہے جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 35 (457)، سنن الترمذی/فیہ 112 (306)، سنن ابن ماجہ/إقامة 5 (816)، (تحفة الأشراف: 11087)، مسند احمد 4/322، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1334، 1335) (صحیح)
44: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِـ { إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ }
باب: نماز فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ قال: حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَالْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُرَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قال: " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھتے سنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 952]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10722)، مسند احمد 4/306، 307، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1336) (صحیح)
45: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ
باب: نماز فجر میں معوذتین پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرُمِذِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قال: أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، " أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ قَالَ عُقْبَةُ: فَأَمَّنَا بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے متعلق پوچھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں انہیں دونوں سورتوں کے ذریعہ ہماری امامت فرمائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 953]
💡 وضاحت:
۱؎: معوذتین سے مراد «قل أعوذ برب الناس» اور «قل أعوذ برب الفلق» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9915)، ویأتی عند المؤلف برقم: 5436 (صحیح)
46: بَابُ : الْفَضْلِ فِي قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ
باب: معوذتین پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قال: اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةَ هُودٍ، وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ: " لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا ، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا ، اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق‏» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 954]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9908)، مسند احمد 4/149، 155، 159، سنن الدارمی/فضائل القرآن 25 (3482)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5441 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آيَاتٌ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج رات میرے اوپر کچھ ایسی آیتیں اتریں ہیں جن کی طرح ( کوئی اور آیتیں ) نہیں دیکھی گئیں ، وہ ہیں {«قل أعوذ برب الفلق‏» اور «قل أعوذ برب الناس» “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 955]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 46 (814)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 12 (2902)، (تحفة الأشراف: 9948)، مسند احمد 4/144، 150، 151، 152، سنن الدارمی/فضائل القرآن 25 (3484)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5442 (صحیح)
47: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن فجر میں قرأت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح، وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ، وَهَلْ أَتَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الم تنزیل» ( سورۃ الم سجدہ ) اور «ھل أتی» ( سورۃ الدہر ) پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 956]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کو نماز فجر میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے «کان یقرأ» کے صیغے سے اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مواظبت کا پتہ چلتا ہے، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں جس کی تخریج طبرانی نے کی ہے اس پر آپ کی مداومت کی تصریح آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 10 (891)، سجود القرآن 2 (1068)، صحیح مسلم/الجمعة 17 (880)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 6 (823)، (تحفة الأشراف: 13647)، مسند احمد 2/430، 472، سنن الدارمی/الصلاة 192 (1583) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ. ح، وأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ الْمُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں «تنزیل سجدہ» ( سورۃ السجدہ ) اور «ھل أتی علی الإنسان» ( سورۃ دھر ) پڑھتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 957]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 17 (879)، سنن ابی داود/الصلاة 218 (1074، 1075)، سنن الترمذی/الصلاة 258 (520)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 6 (821)، (تحفة الأشراف: 5613)، مسند احمد 1/6 22، 307، 316، 328، 334، 340، 354، 361، ویأتی عند المؤلف في الجمعة 38 (برقم: 1422) (صحیح)
← پچھلی کتاب #13 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #15 →