سنن النسائي حدیث نمبر: 948
Sunan an-Nasa'i 948
کتاب #14: کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام
41: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِالرُّومِ
باب: نماز فجر میں سورۃ الروم پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الطُّهُورَ فَإِنَّمَا يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أُولَئِكَ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی ، اس میں آپ نے سورۃ الروم کی تلاوت فرمائی ، تو آپ کو شک ہو گیا ، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ، اور ٹھیک سے طہارت حاصل نہیں کرتے ، یہی لوگ ہمیں قرآت میں شک میں ڈال دیتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 948]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15594)، مسند احمد 3/471، 5/363، 368 (حسن) (تراجع الالبانی 72)