سنن النسائي حدیث نمبر: 934
Sunan an-Nasa'i 934
کتاب #14: کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام
37: بَابُ : جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ. قَالَ: " فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ زِيَادَةً وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا : ” گھنٹی کی آواز کی طرح ، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں ، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے ، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے ، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 934]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل 23 (2333)، (تحفة الأشراف: 16924)، موطا امام مالک/القرآن 4 (7)، مسند احمد 6/158، 163، 257 (صحیح)