سنن النسائي حدیث نمبر: 932
Sunan an-Nasa'i 932
کتاب #14: کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام
36: بَابُ : قَوْلِ الْمَأْمُومِ إِذَا عَطَسَ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: جب مقتدی کو امام کے پیچھے چھینک آئے تو کیا کہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّ أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ: " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ" فَلَمْ يُكَلِّمْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ: " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ" فَقَالَ: رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ ابْنِ عَفْرَاءَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ، قَالَ: قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، تو مجھے چھینک آ گئی ، تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» ” اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں ، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے “ کہا ، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے ، اور سلام پھیر کر پلٹے تو آپ نے پوچھا : ” نماز میں کون بول رہا تھا ؟ “ تو کسی نے جواب نہیں دیا ، پھر آپ نے دوسری بار پوچھا : ” نماز میں کون بول رہا تھا ؟ “ تو رفاعہ بن رافع بن عفراء رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے کیسے کہا تھا ؟ “ انہوں نے کہا : میں نے یوں کہا تھا : «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» ” اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریفیں ہیں ، جو پاکیزہ و بابرکت ہوں ، جیسا ہمارا رب چاہتا اور پسند کرتا ہے “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے لے کر کون اوپر چڑھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 932]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 121 (773)، سنن الترمذی/الصلاة 180 (404)، (تحفة الأشراف: 3606)، موطا امام مالک/القرآن 7 (25)، مسند احمد 4/340 (صحیح)