سنن النسائي حدیث نمبر: 885
Sunan an-Nasa'i 885
کتاب #14: کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام
7: بَابُ : فَرْضِ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى
باب: تکبیر تحریمہ کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قال: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَرَجَعَ فَصَلَّى كَمَا صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي قَالَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، اور ایک اور شخص داخل ہوا ، اس نے آ کر نماز پڑھی ، پھر وہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا ، اور فرمایا : ” واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ تو وہ لوٹ گئے اور جا کر پھر سے نماز پڑھی جس طرح پہلی بار پڑھی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو سلام کئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( پھر ) فرمایا : ” وعلیک السلام ، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی “ ، ایسا انہوں نے تین مرتبہ کیا ، پھر عرض کیا : اس ذات کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپ کو مبعوث فرمایا ہے ، میں اس سے بہتر نماز نہیں پڑھ سکتا ، آپ مجھے ( نماز پڑھنا ) سکھا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اللہ اکبر کہیں ۱؎ پھر قرآن میں سے جو آسان ہو پڑھو ، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں آپ کو اطمینان ہو جائے ، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے سیدھے کھڑے ہو جاؤ ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو ، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ پھر اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 885]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مؤلف نے تکبیر تحریمہ کی فرضیت پر استدلال کی۔ ۲؎: اس سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 95 (757)، 122 (793)، الإستئذان 18 (6252)، الأیمان والنذور 15 (6667)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (397)، سنن ابی داود/الصلاة 148 (856)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (303)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 14304)، مسند احمد 2/437 (صحیح)