سنن النسائي حدیث نمبر: 908
Sunan an-Nasa'i 908
کتاب #14: کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام
22: بَابُ : تَرْكِ الْجَهْرِ بِـ { بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ }
باب: «بسم اللہ الرحمن الرحیم» زور سے نہ پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجّ، قال: حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قال: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَجْهَرُ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی لیکن میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی «بسم اللہ الرحمن الرحيم» زور سے پڑھتے نہیں سنا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 908]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح، صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 89 (743)، صحیح مسلم/الصلاة 13 (399)، مسند احمد 3/176، 179، 273، (تحفة الأشراف: 1218، 1257) (صحیح)