📖 سنن النسائي (Sunan an-Nasa'i) • تمام کتب ↗

كتاب الإمامة

کتاب: امامت کے احکام و مسائل

کتاب #13 • کل احادیث: 99
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : ذِكْرِ الإِمَامَةِ وَالْجَمَاعَةِ إِمَامَةِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ
باب: اہل علم و فضل کی امامت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلَيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قالتِ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ فَأَتَاهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ: أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ" أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کہنے لگے : ایک امیر ہم ( انصار ) میں سے ہو گا اور ایک امیر تم ( مہاجرین ) میں سے ، تو عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، اور کہا : کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ۱؎ ، تو اب بتاؤ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر تم میں سے کس کا جی خوش ہو گا ؟ ۲؎ تو لوگوں نے کہا : ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۳؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 778]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ امامت کے لیے صاحب علم وفضل کو آگے بڑھانا چاہیئے۔ ۲؎: اس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا کہ امامت صغریٰ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھانا اس بات کا اشارہ تھا کہ وہی امامت کبریٰ کے بھی اہل ہیں، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زیادہ علم والا، زیادہ قرآن پڑھنے والے پر مقدم ہو گا، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے متعلق «اقرأکم أبی» فرمایا ہے، اس کے باوجود آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے مقدم کیا۔ ۳؎: اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر انصار رضی اللہ عنہم بھی راضی ہو گئے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10587)، مسند احمد 1/396، 405 (حسن الإسناد)
2: بَابُ : الصَّلاَةِ مَعَ أَئِمَّةِ الْجَوْرِ
باب: ظالم حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قال: أَخَّرَ زِيَادٌ الصَّلَاةَ فَأَتَانِي ابْنُ صَامِتٍ فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَكَرْتُ لَهُ صُنْعَ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ وَضَرَبَ عَلَى فَخِذِي وَقَالَ: إنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخْذَكَ وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ" صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي".
ابوالعالیہ البراء کہتے ہیں کہ زیاد نے نماز میں دیر کر دی تو میرے پاس ( عبداللہ ابن صامت ) ابن صامت آئے میں نے ان کے لیے ایک کرسی لا کر رکھی ، وہ اس پہ بیٹھے ، میں نے ان سے زیاد کی کارستانیوں کا ذکر کیا ، تو انہوں نے اپنے دونوں ہونٹوں کو بھینچا ۱؎ اور میری ران پر ہاتھ مارا ، اور کہا : میں نے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح پوچھا جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے ، تو انہوں نے میری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تیری ران پہ مارا ہے ، اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح پوچھا ہے ، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ نے تمہاری ران پہ ہاتھ مارا جس طرح میں نے تمہاری ران پہ مارا ہے ، اور فرمایا : ” نماز اس کے وقت پر پڑھ لیا کرو ، اور اگر تم ان کے ساتھ نماز کا وقت پاؤ تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو ، اور یہ نہ کہو کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے ، لہٰذا اب نہیں پڑھوں گا “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 779]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے اس کے فعل پر ناپسندیدگی کا اظہار مقصود تھا۔ ۲؎: کیونکہ اس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 41 (648)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 11948)، مسند احمد 5/147، 160، 168، سنن الدارمی/الصلاة 25 (1263)، ویأتی عند المؤلف في الإمامة 55 (برقم: 860) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَصَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تم کچھ ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو نماز کو بے وقت کر کے پڑھیں گے ، تو اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھ لیا کرو ، اور ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کرو ۱؎ اور اسے سنت ( نفل ) بنا لو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 780]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے ظالم حکمرانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ ۲؎: صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں «واجعلوا صلاتکم معہم نافلۃ» یعنی بعد میں ان کے ساتھ جو نماز پڑھو اسے نفل سمجھو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة 150 (1255)، (تحفة الأشراف: 9211)، مسند احمد 1/379، 455، 459، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 5 (534) (صحیح)
3: بَابُ : مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ
باب: امامت کا زیادہ مستحق کون ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قال: أَنْبَأَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ فِي الْهِجْرَةِ فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا وَلَا تَؤُمَّ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا تَقْعُدْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَكَ".
ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کی امامت وہ کرے جسے اللہ کی کتاب ( قرآن مجید ) سب سے زیادہ یاد ہو ، اور سب سے اچھا پڑھتا ہو ۱؎ ، اور اگر قرآن پڑھنے میں سب برابر ہوں تو جس نے ان میں سے سب پہلے ہجرت کی ہے وہ امامت کرے ، اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو جو سنت کا زیادہ جاننے والا ہو وہ امامت کرے ۲؎ ، اور اگر سنت ( کے جاننے ) میں بھی برابر ہوں تو جو ان میں عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے ، اور تم ایسی جگہ آدمی کی امامت نہ کرو جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو ، اور نہ تم اس کی مخصوص جگہ ۳؎ پر بیٹھو ، إلا یہ کہ وہ تمہیں اجازت دیدے “ ۴؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 781]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اس صورت میں ہے جب وہ قرآن سمجھتا ہو (واللہ اعلم) ۲؎: کیونکہ ہجرت میں سبقت اور پہل کے شرف کا تقاضا ہے کہ اسے آگے بڑھایا جائے صحیح مسلم کی روایت (جو ابومسعود رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے) میں سنت کے جانکار کو ہجرت میں سبقت کرنے والے پر مقدم کیا گیا ہے، ابوداؤد اور ترمذی میں بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے (واللہ اعلم)۔ ۳؎: مثلاً کسی کی مخصوص کرسی یا مسند وغیرہ پر۔ ۴؎: «إلا ا ٔن یاذن لکم» کا تعلق دونوں فعلوں یعنی امامت کرنے اور مخصوص جگہ پر بیٹھنے سے ہے، لہٰذا اس استثناء کی روسے مہمان میزبان کی اجازت سے اس کی امامت کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 53 (673)، سنن ابی داود/الصلاة 61 (582، 583، 584)، سنن الترمذی/الصلاة 60 (235)، الأدب 24 (2772)، سنن ابن ماجہ/إقامة 46 (980)، (تحفة الأشراف: 9976)، مسند احمد 4/118، 121، 122، 5/272، ویأتی عند المؤلف برقم: 784 (صحیح)
4: بَابُ : تَقْدِيمِ ذَوِي السِّنِّ
باب: امامت کے لیے عمردراز شخص کو آگے بڑھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قال: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي وَقَالَ مَرَّةً أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَقَالَ: " إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے ایک چچازاد بھائی ( اور کبھی انہوں ) نے کہا : میں اور میرے ایک ساتھی ، دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم دونوں سفر کرو تو تم دونوں اذان اور اقامت کہو ، اور تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 782]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک اذان کہے دوسرا اس کا جواب دے، یا دونوں میں سے کوئی اذان دے اور دوسرا امامت کرائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 635 (صحیح)
5: بَابُ : اجْتِمَاعِ الْقَوْمِ فِي مَوْضِعٍ هُمْ فِيهِ سَوَاءٌ
باب: لوگ کسی جگہ اکٹھا ہوں اور سب برابر ہوں تو کون امامت کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین شخص ہوں تو ان میں سے ایک کو امامت کرنی چاہیئے ، اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 783]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 53 (672)، (تحفة الأشراف: 4372)، مسند احمد 3/24، 34، 36، 51، 84، سنن الدارمی/الصلاة 42 (1289)، ویأتی عند المؤلف برقم: 841 (صحیح)
6: بَابُ : اجْتِمَاعِ الْقَوْمِ وَفِيهِمُ الْوَالِي
باب: کئی لوگ ایک ساتھ ہوں اور ان میں حاکم بھی موجود ہو تو کون امامت کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کی امامت ایسی جگہ نہ کی جائے جہاں اس کی سیادت و حکمرانی ہو ، اور بغیر اجازت اس کی مخصوص نشست گاہ پر نہ بیٹھا جائے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 784]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ اگر حاکم موجود ہو تو وہی امامت کا مستحق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 781 (صحیح)
7: بَابُ : إِذَا تَقَدَّمَ الرَّجُلُ مِنَ الرَّعِيَّةِ ثُمَّ جَاءَ الْوَالِي هَلْ يَتَأَخَّرُ
باب: امامت کے لیے رعایا میں سے کوئی آگے بڑھ جائے، پھر حاکم آ جائے تو کیا وہ پیچھے ہٹ جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَانَتِ الْأُولَى فَجَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتِ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ قَالَ: نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَأَقَامَ بِلَالٌ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَكَبَّرَ بِالنَّاسِ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ وَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيقِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِينَ يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِلَّا الْتَفَتَ إِلَيْهِ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ". قَالَ: أَبُو بَكْرٍ مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں کچھ اختلاف ہو گیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے کر نکلے تاکہ آپ ان میں صلح کرا دیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی معاملہ میں مشغول رہے یہاں تک کہ ظہر کا وقت آپ پہنچا ۱؎ تو بلال رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور کہنے لگے : ابوبکر ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ابھی تک ) نہیں آ سکے ہیں ، اور نماز کا وقت ہو چکا ہے تو کیا آپ لوگوں کی امامت کر دیں گے ؟ انہوں نے کہا : ہاں کر دوں گا اگر تم چاہو ، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، اور اللہ اکبر کہہ کر لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی ، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اور آپ صفوں میں چلتے ہوئے آئے یہاں تک کہ ( پہلی ) صف میں آ کر کھڑے ہو گئے ، اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر ) لوگ تالیاں بجانے لگے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے ، تو جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو وہ متوجہ ہوئے ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارے سے حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں ، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ، پھر وہ الٹے پاؤں اپنے پیچھے لوٹ کر صف میں کھڑے ہو گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھائی ، اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا : ” لوگو ! تمہیں کیا ہو گیا ہے ؟ جب تمہیں نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تالیاں بجانے لگتے ہو حالانکہ تالی بجانا عورتوں کے لیے مخصوص ہے ، جسے اس کی نماز میں کوئی بات پیش آئے وہ سبحان اللہ کہے ، کیونکہ جب کوئی سبحان اللہ کہے گا تو جو بھی اسے سنے گا اس کی طرف ضرور متوجہ ہو گا ( پھر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ) اور فرمایا : ابوبکر ! جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا تو تم نے لوگوں کو نماز کیوں نہیں پڑھائی ؟ “ ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ؟ ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز پڑھائے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 785]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بخاری میں اور خود مؤلف کے یہاں (حدیث رقم: ۷۹۴ میں) یہ صراحت ہے کہ یہ عصر کا وقت تھا۔ ۲؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر امام راتب (مستقل امام) کہیں گیا ہوا ہو، اور اس کی جگہ کوئی اور نماز پڑھا رہا ہو، تو جب امام راتب درمیان نماز آ جائے تو چاہے تو وہی نائب نماز پڑھاتا رہے، اور چاہے تو وہ پیچھے ہٹ آئے اور امام راتب نماز پڑھائے، مگر یہ بات اس وقت تک ہے جب نائب نے ایک رکعت بھی نہ پڑھائی ہو، اور اگر ایک رکعت پڑھا دی ہو تو پھر باقی نماز بھی وہی پوری کرائے، امام ابن عبدالبر کے نزدیک یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 48 (684)، العمل في الصلاة 3 (1201)، 5 (1204)، 16 (1218)، السھو 9 (1234)، الصلح 1 (2690)، الأحکام 36 (7190)، صحیح مسلم/الصلاة 22 (421)، وقد أخرجہ: مسند احمد 5/336، 338، سنن الدارمی/الصلاة 95 (1404، 1405) (صحیح)
8: بَابُ : صَلاَةِ الإِمَامِ خَلْفَ رَجُلٍ مِنْ رَعِيَّتِهِ
باب: امام کا رعیت میں سے کسی شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قال: " آخِرُ صَلَاةٍ صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْقَوْمِ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز وہ تھی جسے آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک کپڑے میں اس حال میں پڑھی تھی کہ اس کے دونوں کنارے بغل سے نکال کر آپ کندھے پر ڈالے ہوئے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 786]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 594)، مسند احمد 3/159، 216، 243 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى صَاحِبُ الْبُصْرَى، قال: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يَذْكُرُ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ صَلَّى لِلنَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صف میں تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 787]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 152 (362)، (تحفة الأشراف: 17612)، مسند احمد 6/159 (صحیح)
9: بَابُ : إِمَامَةِ الزَّائِرِ
باب: زائر کی امامت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى لَنَا، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ قَوْمًا فَلَا يُصَلِّيَنَّ بِهِمْ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ انہیں ہرگز نماز نہ پڑھائے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 788]
💡 وضاحت:
۱؎: إلا یہ کہ وہ لوگ اس کی اجازت دیں جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے، جو اوپر گزر چکی ہے جس میں «إلا بإذنہ» کے الفاظ وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 66 (596) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 148 (356) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11186)، مسند احمد 3/436، 437، و 5/53 (صحیح)
10: بَابُ : إِمَامَةِ الأَعْمَى
باب: نابینا (اندھے) کی امامت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح، قال: وَحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى وَأَنَّهُ قال لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّيْلُ وَأَنَا رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَصَلِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي بَيْتِي مَكَانًا أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ" فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمود بن ربیع سے روایت ہے کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ کی امامت کرتے تھے اور وہ نابینا تھے ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : رات میں تاریکی ہوتی ہے اور کبھی بارش ہوتی ہے اور راستے پانی میں بھر جاتا ہے ، اور میں آنکھوں کا اندھا آدمی ہوں ، تو اللہ کے رسول ! آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں اسے مصلیٰ بنا لوں ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، اور آپ نے پوچھا : ” تم کہاں نماز پڑھوانی چاہتے ہو ؟ “ انہوں نے گھر میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ میں نماز پڑھی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 789]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نابینا کی امامت بغیر کراہت جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 45 (424)، 46 (425) مطولاً، الأذان 40 (667)، 50 (686)، 154 (840)، التھجد 36 (1186) مطولاً، الأطعمة 15 (5401) مطولاً، صحیح مسلم/الإیمان 10 (33)، المساجد 47 (33)، سنن ابن ماجہ/المساجد 8 (754)، (تحفة الأشراف: 9750)، موطا امام مالک/السفر 24 (86)، مسند احمد 4/43، 44، 5/449، 450، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 845، 1328 مطولاً (صحیح)
11: بَابُ : إِمَامَةِ الْغُلاَمِ قَبْلَ أَنْ يَحْتَلِمَ
باب: نابالغ بچہ کی امامت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ الْجَرْمِيُّ، قال: كَانَ يَمُرُّ عَلَيْنَا الرُّكْبَانُ فَنَتَعَلَّمُ مِنْهُمُ الْقُرْآنَ فَأَتَى أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا فَجَاءَ أَبِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا فَنَظَرُوا فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ".
عمرو بن سلمہ جرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے قافلے گزرتے تھے تو ہم ان سے قرآن سیکھتے تھے ( جب ) میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو “ ، تو جب میرے والد لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” تم میں سے امامت وہ آدمی کرے جسے قرآن زیادہ یاد ہو “ ، تو لوگوں نے نگاہ دوڑائی تو ان میں سب سے بڑا قاری میں ہی تھا ، چنانچہ میں ہی ان کی امامت کرتا تھا ، اور اس وقت میں آٹھ سال کا بچہ تھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 790]
💡 وضاحت:
۱؎: ابوداؤد کی روایت میں ۷ سال کا ذکر ہے، اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ غیر مکلف نابالغ بچہ مکلف لوگوں کی امامت کر سکتا ہے، اس لیے کہ «یؤم القوم أقراہم لکتاب اللہ» کہ عموم میں صبی ممیز (باشعور بچہ) بھی داخل ہے، اور کتاب و سنت میں کوئی بھی نص ایسا نہیں جو اس سے متعارض و متصادم ہو، رہا بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ نے انہیں اپنے اجتہاد سے اپنا امام بنایا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع نہیں تھی، تو یہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ نزول وحی کا یہ سلسلہ ابھی جاری تھا، اگر یہ چیز درست نہ ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دے دی جاتی، اور آپ اس سے ضرور منع فرما دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 637 (صحیح)
12: بَابُ : قِيَامِ النَّاسِ إِذَا رَأَوُا الإِمَامَ
باب: (نماز کے لیے) لوگوں کے کھڑے ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اذان دی جائے ، تو جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہوا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 791]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت اس وجہ سے تھی کہ کہیں لوگوں کو دیر تک کھڑا رہنا نہ پڑ جائے کیونکہ بسا اوقات کسی وجہ سے آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 688 (صحیح)
13: بَابُ : الإِمَامِ تَعْرِضُ لَهُ الْحَاجَةُ بَعْدَ الإِقَامَةِ
باب: اقامت کے بعد امام کو کوئی ضرورت پیش آ جائے جس سے وہ نماز مؤخر کر دے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قال: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ لِرَجُلٍ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص سے راز داری کی باتیں کر رہے تھے ، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 792]
💡 وضاحت:
۱؎: ہو سکتا ہے یہ گفتگو کسی ضروری امر پر مشتمل رہی ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز کے لیے ایسا کیا ہو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اقامت میں اور نماز شروع کرنے میں فصل کرنا نماز کے لیے مضر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 33 (376)، (تحفة الأشراف: 1003)، مسند احمد 3/101، 114، 182 (صحیح)
14: بَابُ : الإِمَامِ يَذْكُرُ بَعْدَ قِيَامِهِ فِي مُصَلاَّهُ أَنَّهُ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ
باب: نمازی پر کھڑے ہو جانے کے بعد امام کو یاد آئے کہ وہ ناپاک ہے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَالْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ" وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَغْتَسِلْ فَقَالَ لِلنَّاسِ مَكَانَكُمْ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَنْطِفَ رَأْسُهُ فَاغْتَسَلَ وَنَحْنُ صُفُوفٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی ، تو لوگوں نے اپنی صفیں درست کیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے سے نکل کر نماز پڑھنے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہوئے ، پھر آپ کو یاد آیا کہ غسل نہیں کیا ہے ۱؎ تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : ” تم اپنی جگہوں پر رہو “ ، پھر آپ واپس اپنے گھر گئے پھر نکل کر ہمارے پاس آئے ، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، اور ہم صف باندھے کھڑے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 793]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ آپ نے ابھی نماز شروع نہیں کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 25 (639، 640)، صحیح مسلم/المساجد 29 (605)، سنن ابی داود/الطھارة 94 (235)، الصلاة 46 (541)، (تحفة الأشراف: 15200)، مسند احمد 2/237، 259، 283، 338، 339 (صحیح)
15: بَابُ : اسْتِخْلاَفِ الإِمَامِ إِذَا غَابَ
باب: امام کا اپنی عدم موجودگی میں کسی کو اپنا نائب بنانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا قال: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قال سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ كَانَ قِتَالٌ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَاهُمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ قَالَ لِبِلَالٍ: " يَا بِلَالُ، إِذَا حَضَرَ الْعَصْرُ وَلَمْ آتِ فَمُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَلَمَّا حَضَرَتْ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ أَقَامَ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَقَدَّمْ فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَجَعَلَ يَشُقُّ النَّاسَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَصَفَّحَ الْقَوْمُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ لَمْ يَلْتَفِتْ فَلَمَّا رَأَى أَبُو بَكْرٍ التَّصْفِيحَ لَا يُمْسَكُ عَنْهُ الْتَفَتَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ امْضِهْ، ثُمَّ مَشَى أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى عَلَى عَقِبَيْهِ فَتَأَخَّرَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ إِذْ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ أَنْ لَا تَكُونَ مَضَيْتَ"، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَؤُمَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِلنَّاسِ: " إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ النِّسَاءُ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں آپس میں لڑائی ہوئی ، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی تو آپ نے ظہر پڑھی ، پھر ان کے پاس آئے تاکہ ان میں صلح کرا دیں ، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بلال ! جب عصر کا وقت آ جائے اور میں نہ آ سکوں تو ابوبکر سے کہنا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں “ ، چنانچہ جب عصر کا وقت آیا ، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی ، پھر اقامت کہی ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا : آگے بڑھیے ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، اور نماز پڑھانے لگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اور لوگوں کو چیرتے ہوئے آگے آئے ۱؎ یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے ، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کر دیں ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ جب وہ نماز شروع کر دیتے تو کسی اور طرف متوجہ نہیں ہوتے ، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ برابر تالی بج رہی ہے تو وہ متوجہ ہوئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ” تم نماز جاری رکھو “ ، تو اس بات پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ، پھر وہ اپنی ایڑیوں کے بل الٹے چل کر پیچھے آ گئے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ نے آگے بڑھ کر لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر جب اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے فرمایا : ” ابوبکر ! جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا تو تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی ؟ “ تو انہوں نے عرض کیا : ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : ” جب تمہیں نماز کے اندر کوئی بات پیش آ جائے ، تو مرد سبحان اللہ کہیں ، اور عورتیں تالی بجائیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 794]
💡 وضاحت:
۱؎: صفوں کو چیر کر اندر داخل ہونا درست نہیں، پھر یا تو امام کے لیے یہ جائز ہو، یا پھر آپ نے پہلی صف میں خالی جگہ دیکھی ہو اُسے پُر کرنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأحکام 36 (7190)، سنن ابی داود/الصلاة 173 (941)، مسند احمد 5/332، سنن الدارمی/الصلاة 95 (1404)، تحفة الأشراف: 4669) (صحیح)
16: بَابُ : الاِئْتِمَامِ بِالإِمَامِ
باب: امام کی اقتداء (پیروی) کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَقَطَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ يَعُودُونَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے اپنے داہنے پہلو پر گر پڑے ، تو لوگ آپ کی عیادت کرنے آئے ، اور نماز کا وقت آپ پہنچا ، جب آپ نے نماز پوری کر لی تو فرمایا : ” امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ ، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 795]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 18 (378)، والأذان 51 (689)، 82 (732)، 128 (805) مطولاً، تقصیر الصلاة 17 (1114)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (411)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة 144 (1238)، (تحفة الأشراف: 1485)، موطا امام مالک/الجماعة 5 (16)، مسند احمد 3/110، 162، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1291)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1062 (صحیح)
17: بَابُ : الاِئْتِمَامِ بِمَنْ يَأْتَمُّ بِالإِمَامِ
باب: امام کی اقتداء کرنے والے کی اقتداء کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ: " تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں پیچھے رہنے کا عمل دیکھا تو آپ نے فرمایا : ” تم لوگ آگے آؤ اور میری اقتداء کرو ، اور جو تمہارے بعد ہیں وہ تمہاری اقتداء کریں ، یاد رکھو کچھ لوگ برابر ( اگلی صفوں سے ) پیچھے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں ( اپنی رحمت سے یا اپنی جنت سے ) پیچھے کر دیتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 796]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں امام کے قریب کھڑے ہونے کی تاکید اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (438)، سنن ابی داود/الصلاة 98 (680)، سنن ابن ماجہ/إقامة 45 (978)، (تحفة الأشراف: 4309)، مسند احمد 3/19، 34، 54 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابونضرہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 797]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (438)، (تحفة الأشراف: 4331) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ قَالَتْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 798]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16319) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُنَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” اللہ اکبر “ کہتے ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ” اللہ اکبر “ کہتے ، وہ ہمیں ( آپ کی تکبیر ) سنا رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 799]
💡 وضاحت:
اور یہ بتار ہے تھے کہ آپ ایک حالت سے دوسری حالت میں جا رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 19 (413)، (تحفة الأشراف: 2786) (صحیح)
18: بَابُ : مَوْقِفِ الإِمَامِ إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً وَالاِخْتِلاَفِ فِي ذَلِكَ
باب: جب تین آدمی ہوں تو امام کے کھڑے ہونے کی جگہ اور اس میں اختلاف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ نِصْفَ النَّهَارِ فَقَالَ: إِنَّهُ سَيَكُونُ أُمَرَاءُ يَشْتَغِلُونَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلُّوا لِوَقْتِهَا ثُمَّ" قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
اسود اور علقمہ دونوں کہتے ہیں کہ ہم دوپہر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا : عنقریب امراء نماز کے وقت سے غافل ہو جائیں گے ، تو تم لوگ نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا ، پھر وہ اٹھے اور میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھائی ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 800]
💡 وضاحت:
۱؎: اہل علم کی ایک جماعت جن میں امام شافعی بھی شامل ہیں نے ذکر کیا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے کیونکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مکہ میں سیکھا تھا، اس میں تطبیق کے ساتھ اور دوسری باتیں بھی تھیں جو اب متروک ہیں، یہ بھی منجملہ انہیں میں سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 71 (613)، مسند احمد 1/424، 451، 455، 459، (تحفة الأشراف: 9173) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ فَرْوَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ غُلَامٍ لِجَدِّهِ يُقَالُ لَهُ مَسْعُودٌ، فَقَالَ: " مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لِي: أَبُو بَكْرٍ يَا مَسْعُودُ ائْتِ أَبَا تَمِيمٍ يَعْنِي مَوْلَاهُ فَقُلْ لَهُ يَحْمِلْنَا عَلَى بَعِيرٍ وَيَبْعَثْ إِلَيْنَا بِزَادٍ وَدَلِيلٍ يَدُلُّنَا فَجِئْتُ إِلَى مَوْلَايَ فَأَخْبَرْتُهُ فَبَعَثَ مَعِي بِبَعِيرٍ وَوَطْبٍ مِنْ لَبَنٍ فَجَعَلْتُ آخُذُ بِهِمْ فِي إِخْفَاءِ الطَّرِيقِ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَقَدْ عَرَفْتُ الْإِسْلَامَ وَأَنَا مَعَهُمَا فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُمَا فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقُمْنَا خَلْفَهُ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: بُرَيْدَةُ هَذَا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ.
فروہ اسلمی کے غلام مسعود بن ھبیرۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : مسعود ! تم ابوتمیم یعنی اپنے مالک کے پاس جاؤ ، اور ان سے کہو کہ وہ ہمیں سواری کے لیے ایک اونٹ دے دیں ، اور ہمارے لیے کچھ زاد راہ اور ایک رہبر بھیج دیں جو ہماری رہنمائی کرے ، تو میں نے اپنے مالک کے پاس آ کر انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے میرے ساتھ ایک اونٹ اور ایک کُپّا دودھ بھیجا ، میں انہیں لے کر خفیہ راستوں سے چھپ چھپا کر چلا تاکہ کافروں کو پتہ نہ چل سکے ، جب نماز کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف کھڑے ہوئے ، ان دونوں کے ساتھ رہ کر میں نے اسلام سیکھ لیا تھا ، تو میں آ کر ان دونوں کے پیچھے کھڑا ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر انہیں پیچھے کی طرف ہٹایا ، تو ( وہ آ کر ہم سے مل گئے اور ) ہم دونوں آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : یہ بریدہ بن سفیان حدیث میں قوی نہیں ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 801]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، بريدة بن سفيان: ضعيف، (التحرير: 661) ضعفه الجمهور. وأما صلاة الرجلين خلف الإمام فصحيح،انظر صحيح مسلم (3010/74). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11264) (ضعیف) (اس کا راوی ’’بریدہ بن سفیان“ ضعیف ہے، اور رافضی شیعہ ہے)
19: بَابُ : إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً وَامْرَأَةً
باب: جب تین مرد اور ایک عورت ہو تو کیسے صف بندی کی جائے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْهُ لَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: " قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ" قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر مدعو کیا جسے انہوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا ، پھر فرمایا : ” اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں “ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا جو کافی دنوں سے پڑی رہنے کی وجہ سے کالی ہو گئی تھی ، میں نے اس پر پانی چھڑکا ، اور اسے آپ کے پاس لا کر بچھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف باندھی ، اور بڑھیا ہمارے پیچھے تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر واپس تشریف لے گئے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 802]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 20 (380)، الأذان 161 (860)، صحیح مسلم/المساجد 48 (658)، سنن ابی داود/الصلاة 71 (612)، سنن الترمذی/الصلاة 59 (234)، (تحفة الأشراف: 197)، موطا امام مالک/السفر 9 (31)، مسند احمد 3/131، 149، 164، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1324) (صحیح)
20: بَابُ : إِذَا كَانُوا رَجُلَيْنِ وَامْرَأَتَيْنِ
باب: دو مرد اور دو عورتیں ہوں تو کیسے صف بندی کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَالْيَتِيمُ وَأُمُّ حِرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ: " قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ" قَالَ: " فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ" قَالَ: فَصَلَّى بِنَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ، اور اس وقت وہاں صرف میں ، میری ماں ، ایک یتیم ، اور میری خالہ ام حرام تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں “ ، ( یہ کسی نماز کا وقت نہ تھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 803]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 48 (660)، فضائل الصحابة 32 (2481) (في سیاق أطول وبدون ذکر الیتیم في کلا الموضعین)، (تحفة الأشراف: 409)، مسند احمد 3/193، 217 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُخْتَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُ" فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ وَأُمَّهُ وَخَالَتَهُ خَلْفَهُمَا".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، اور ان کی ماں اور ان کی خالہ تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، آپ نے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا ، اور ان کی ماں اور خالہ دونوں کو اپنے اور انس رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا کیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 804]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 48 (660)، سنن ابی داود/الصلاة 70 (609) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة 44 (975) مختصراً، (تحفة الأشراف: 1609)، مسند احمد 3/194، 258، 261، ویأتی عند المؤلف برقم: 806 (صحیح)
21: بَابُ : مَوْقِفِ الإِمَامِ إِذَا كَانَ مَعَهُ صَبِيٌّ وَامْرَأَةٌ
باب: امام کے ساتھ ایک بچہ اور ایک عورت ہو تو وہ کہاں کھڑا ہو؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 805]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6206)، مسند احمد 1/302، ویأتی عند المؤلف برقم: 842 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: " صَلَّى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةُ خَلْفَنَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے گھر کی ایک عورت کو نماز پڑھائی ، تو آپ نے مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کیا ، اور عورت ہمارے پیچھے تھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 806]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 804 (صحیح)
22: بَابُ : مَوْقِفِ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومُ صَبِيٌّ
باب: مقتدی بچہ ہو تو امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ بِي هَكَذَا فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس طرح کیا یعنی آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کر لیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 807]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 59 (699)، تحفة الأشراف: 5529)، مسند احمد 1/360، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الوضوء 5 (138)، الأذان 57 (697)، 79 (728)، الوتر 1 (992)، اللباس 71 (5919)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 70 (610)، مسند احمد 1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 365، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)
23: بَابُ : مَنْ يَلِي الإِمَامَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ
باب: امام کے قریب کون لوگ ہوں پھر ان سے قریب کون ہوں؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: " لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ( صف بندی کے وقت ) ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے ، اور فرماتے : ” تم آگے پیچھے نہ کھڑے ہو کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے ، اور تم میں سے ہوش مند اور باشعور لوگ مجھ سے قریب رہیں ، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ، پھر وہ جو ( اس وصف میں ) ان سے قریب ہو “ ، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اسی بنا پر تم میں آج اختلافات زیادہ ہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 808]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (432)، سنن ابی داود/الصلاة 96 (674) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة 45 (976)، (تحفة الأشراف: 9994)، مسند احمد 4/122، سنن الدارمی/الصلاة 51 (1302)، ویأتی عند المؤلف برقم: 813 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، قال: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَخْبَرَنِي التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بنِ عُبَادٍ، قال: بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ: " يَا فَتَى لَا يَسُؤْكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ"، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: " هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِ" وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّوا" قُلْتُ: يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا يَعْنِي بِأَهْلِ الْعُقَدِ قَالَ: الْأُمَرَاءُ.
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا ، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہو گیا ، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا ، جب وہ ( سلام پھیر کر ) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا : اے نوجوان ! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے ! حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا میثاق ( عہد ) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں ، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے ، اور انہوں نے تین بار کہا : رب کعبہ کی قسم ! تباہ ہو گئے اہل عقد ، پھر انہوں نے کہا : لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے ، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں ، میں نے پوچھا : اے ابو یعقوب ! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب ؟ تو انہوں نے کہا : امراء ( حکام ) مراد ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 809]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 72)، مسند احمد 5/140 (صحیح)
24: بَابُ : إِقَامَةِ الصُّفُوفِ قَبْلَ خُرُوجِ الإِمَامِ
باب: امام کے نکلنے سے پہلے صفوں کی درستگی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقُمْنَا فَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَانْصَرَفَ فَقَالَ: " لَنَا مَكَانَكُمْ" فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا قَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً فَكَبَّرَ وَصَلَّى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو ہم کھڑے ہوئے ، اور صفیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلیں درست کر لی گئیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز پڑھانے کی جگہ پر آ کر کھڑے ہو گئے تو اس سے پہلے کہ کے آپ تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہیں ہماری طرف پلٹے ، اور فرمایا : ” تم لوگ اپنی جگہوں پہ رہو “ ، تو ہم برابر کھڑے آپ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ آپ ہماری طرف آئے ، آپ غسل کئے ہوئے تھے ، اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، تو آپ نے تکبیر ( تحریمہ ) کہی ، اور صلاۃ پڑھائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 810]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الغسل 17 (275)، صحیح مسلم/المساجد 29 (605)، سنن ابی داود/الطہارة 94 (235)، (تحفة الأشراف: 15309)، مسند احمد 2/518 (صحیح)
25: بَابُ : كَيْفَ يُقَوِّمُ الإِمَامُ الصُّفُوفَ
باب: امام صفیں کیسے درست کرے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَوِّمُ الصُّفُوفَ كَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ فَأَبْصَرَ رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ مِنَ الصَّفِّ فَلَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَتُقِيمُنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیں درست فرماتے تھے جیسے تیر درست کئے جاتے ہیں ، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا تھا ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم اپنی صفیں ضرور درست کر لیا کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فر مادے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 811]
💡 وضاحت:
۱؎: چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا، مطلب ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا جس کی وجہ سے تمہارے اندر تفرق و انتشار عام ہو جائے گا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے اس کے حقیقی معنی مراد ہیں یعنی تمہارے چہروں کو گدّی کی طرف پھیر کر انہیں بدل اور بگاڑ دے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (436)، سنن ابی داود/الأذان 94 (663، 665)، سنن الترمذی/الصلاة 53 (227)، سنن ابن ماجہ/إقامة 50 (994)، (تحفة الأشراف: 11620)، مسند احمد 4/270، 271، 272، 276، 277 (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَى نَاحِيَةٍ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا وَصُدُورَنَا وَيَقُولُ: " لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصُّفُوفِ الْمُتَقَدِّمَةِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ۱؎ صفوں کے بیچ میں سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جاتے ، اور فرماتے : ” اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں “ ۳؎ نیز فرماتے : ” اللہ تعالیٰ اگلی صفوں پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اور اس کے فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 812]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں درست کرتے ہوئے۔ ۲؎: یعنی آگے پیچھے نہ کھڑے ہو۔ ۳؎: یعنی ان میں پھوٹ پڑ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 94 (664)، (تحفة الأشراف: 1776)، مسند احمد 4/285، 296، 297، 298، 299، 304، سنن الدارمی/الصلاة 49 (1299) (صحیح)
26: بَابُ : مَا يَقُولُ الإِمَامُ إِذَا تَقَدَّمَ فِي تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
باب: جب امام آگے بڑھے تو صفیں برابر کرنے کے لیے کیا کہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا وَيَقُولُ: " اسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَلْيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرتے ۱؎ اور فرماتے : ” صفیں سیدھی رکھو ، اختلاف نہ کرو ۲؎ ورنہ تمہارے دلوں میں بھی اختلاف پیدا ہو جائے گا ، اور تم میں سے جو ہوش مند اور باشعور ہوں مجھ سے قریب رہیں ، پھر ( اس وصف میں ) وہ جو ان سے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 813]
💡 وضاحت:
۱؎: مونڈھوں پہ ہاتھ پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں درست فرماتے تاکہ کوئی صف سے آگے پیچھے نہ رہے۔ ۲؎: اختلاف نہ کرو کا مطلب ہے کسی کا کندھا آگے پیچھے نہ ہو، ورنہ اس کا اثر دلوں پر پڑے گا، اور تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 808 (صحیح)
27: بَابُ : كَمْ مَرَّةٍ يَقُولُ اسْتَوُوا
باب: ”سیدھے کھڑے ہو جاؤ“ کتنی بار کہنا ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " اسْتَوُوا اسْتَوُوا اسْتَوُوا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” برابر ہو جاؤ ، برابر ہو جاؤ ، برابر ہو جاؤ ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح تمہیں اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 814]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 381)، مسند احمد 3/268، 286 (صحیح)
28: بَابُ : حَثِّ الإِمَامِ عَلَى رَصِّ الصُّفُوفِ وَالْمُقَارَبَةِ بَيْنَهَا
باب: امام کا صفیں درست کرنے اور مل کر کھڑے ہونے کی ترغیب دلانا۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے ، اور اللہ اکبر کہنے سے پہلے فرماتے : ” تم اپنی صفیں درست کر لو ، اور سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہو جاؤ ، ۱؎ کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 815]
💡 وضاحت:
۱؎: «تراص» کے معنی اس طرح مل کر کھڑے ہونے کے ہیں جیسے دیوار میں ایک اینٹ دوسری اینٹ کے ساتھ پیوست ہوتی ہے درمیان میں ذرا سا بھی فاصلہ اور شگاف نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 595)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 71 (718)، 72 (719)، 76 (725)، صحیح مسلم/الصلاة 28 (434)، ویأتی عند المؤلف برقم: 846 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قال حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: " رَاصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ".
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی صفیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح درست کر لو ، اور انہیں ایک دوسرے کے نزدیک رکھو ، اور گردنیں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، میں شیاطین کو صف کے درمیان ۱؎ گھستے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے وہ بکری کے کالے بچے ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 816]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفوں کے درمیان شگافوں میں شیطان کو گھستے ہوئے دیکھنا یا تو حقیقتاً ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو معجزے کے طور پر یہ منظر دکھایا ہو، یا بذریعہ وحی آپ کو اس سے آگاہ کیا گیا ہو کہ صفوں میں خلا رکھنے سے شیطان خوش ہوتا ہے، اور اسے وسوسہ اندازی کا موقع ملتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 94 (667)، (تحفة الأشراف: 1132)، مسند احمد 3/260، 283 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ" قَالُوا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ. قَالَ: " يُتِمُّونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ يَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا : ” کیا تم لوگ صف نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں “ ، لوگوں نے پوچھا : فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف باندھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں ، پھر وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 817]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 27 (430) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 94 (661)، سنن ابن ماجہ/إقامة 50 (992)، (تحفة الأشراف: 2127)، مسند احمد 5/101، 106 (صحیح)
29: بَابُ : فَضْلِ الصَّفِّ الأَوَّلِ عَلَى الثَّانِي
باب: پہلی صف کی دوسری صف پر فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثَلَاثًا وَعَلَى الثَّانِي وَاحِدَةً".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار دعا فرماتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 818]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/إقامة 51 (996)، (تحفة الأشراف: 9884)، مسند احمد 4/126، 127، 128، سنن الدارمی/الصلاة 50 (1300) (صحیح)
30: بَابُ : الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ
باب: پچھلی صف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ وَإِنْ كَانَ نَقْصٌ فَلْيَكُنْ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلے اگلی صف پوری کرو ، پھر جو اس سے قریب ہو ، اور اگر کچھ کمی رہے تو پچھلی صف میں رہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 819]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 94 (671)، (تحفة الأشراف: 1195)، مسند احمد 3/116، 132، 215، 233 (صحیح)
31: بَابُ : مَنْ وَصَلَ صَفًّا
باب: جو صف کو جوڑے۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَثْرُودٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو صف کو جوڑے گا اللہ تعالیٰ اسے جوڑے گا ، اور جو صف کو کاٹے گا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 820]
💡 وضاحت:
۱؎: صف کو جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خلاء اور شگاف باقی نہ رہنے دیا جائے، اسی طرح اگلی صف مکمل کئے بغیر دوسری صف شروع نہ کی جائے، اور صف کو کاٹنا یہ ہے کہ صف میں خلاء چھوڑ دیا جائے یا اگلی صف میں جگہ ہوتے ہوئے دوسری صف شروع کر دی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 94 (666) مطولاً، (تحفة الأشراف: 7380)، مسند احمد 2/97، 98 (صحیح)
32: بَابُ : ذِكْرِ خَيْرِ صُفُوفِ النِّسَاءِ وَشَرِّ صُفُوفِ الرِّجَالِ
باب: عورتوں کی سب سے بہتر اور مردوں کی سب سے بدتر صفوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎ ، اور بد تر صف آخری صف ہے ۲؎ ، اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ہے ۳؎ ، اور ان کی سب سے بدتر صف پہلی صف ہے “ ۴؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 821]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلی صف سے مراد وہ صف ہے جو امام سے متصل ہوتی ہے سب سے بہتر صف پہلی صف ہے کا مطلب ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے تو جو لوگ اس میں ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں، اور برے خیالات سے محفوظ رہتے ہیں، اور آخری صف سب سے بری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ۲؎: کیونکہ عورتوں سے قریب ہوتی ہے۔ ۳؎: عورتوں کے حق میں آخری صف اس لیے بہتر ہے کہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس صف میں شریک عورتیں شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ ۴؎: عورتوں کے حق میں پہلی صف اس لیے بدتر ہے کہ یہ مردوں سے قریب ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (440)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 98 (678)، سنن الترمذی/الصلاة 52 (224)، سنن ابن ماجہ/إقامة 52 (1000)، (تحفة الأشراف: 12596)، مسند احمد 2/247، 336، 340، 367، 485، سنن الدارمی/الصلاة 52 (1304) (صحیح790)
33: بَابُ : الصَّفِّ بَيْنَ السَّوَارِي
باب: ستونوں کے بیچ صف بندی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قال: كُنَّا مَعَ أَنَسٍ فَصَلَّيْنَا مَعَ أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ" فَدَفَعُونَا حَتَّى قُمْنَا وَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَجَعَلَ أَنَسٌ يَتَأَخَّرُ وَقَالَ: قَدْ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی ، لوگوں نے ہمیں ( بھیڑ کی وجہ سے ) دھکیلا یہاں تک کہ ہم نے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی ، تو انس رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور کہنے لگے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس سے بچتے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 822]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 95 (673) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة 55 (229)، (تحفة الأشراف: 980)، مسند احمد 3/131 (صحیح)
34: بَابُ : الْمَكَانِ الَّذِي يُسْتَحَبُّ مِنَ الصَّفِّ
باب: صف کی مستحب جگہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ، قال: " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو میں آپ کے دائیں کھڑا ہونے کو پسند کرتا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 823]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 8 (709)، سنن ابی داود/الصلاة 72 (615)، سنن ابن ماجہ/إقامة 55 (1006)، (تحفة الأشراف: 1789)، مسند احمد 4/290، 300، 304 (صحیح)
35: بَابُ : مَا عَلَى الإِمَامِ مِنَ التَّخْفِيفِ
باب: امام نماز کتنی ہلکی پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ السَّقِيمَ وَالضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے ، کیونکہ ان میں بیمار ، کمزور اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں ، اور جب کوئی تنہا نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 824]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 62 (703)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 127 (794)، موطا امام مالک/الجماعة 4 (13)، (تحفة الأشراف: 13815)، مسند احمد 2/256، 271، 317، 393، 486، 502، 537 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے ہلکی اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 825]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایسی ہلکی نہیں ہوتی تھی جس سے نماز کے ارکان کی ادائیگی میں کوئی خلل اور نقص واقع ہو، قیام و قعود اور رکوع و سجود وغیرہ ارکان میں اتمام فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 37 (469)، سنن الترمذی/الصلاة 61 (237)، (تحفة الأشراف: 1432)، مسند احمد 3/170، 173، 179، 231، 234، 276، 279، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1295) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأُوجِزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور بچوں کا رونا سنتا ہوں تو اپنی نماز ہلکی کر دیتا ہوں ، اس ڈر سے کہ میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 826]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 65 (707)، 163 (868)، سنن ابی داود/الصلاة 126 (789)، سنن ابن ماجہ/إقامة 49 (991)، (تحفة الأشراف: 12110)، مسند احمد 5/305 (صحیح)
36: بَابُ : الرُّخْصَةِ لِلإِمَامِ فِي التَّطْوِيلِ
باب: کبھی کبھی امام کو نماز لمبی کرنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے ، اور آپ ہماری امامت سورۃ الصافات سے کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 827]
💡 وضاحت:
۱؎: جس میں ایک سو اسی آیتیں ہیں، اور عمومی طور پر آپ ساٹھ سے سو آیتیں پڑھا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6749)، مسند احمد 2/26، 40، 157 (صحیح)
37: بَابُ : مَا يَجُوزُ لِلإِمَامِ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں امام کے لیے کتنا عمل جائز ہے؟
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا رَفَعَ مِنْ سُجُودِهِ أَعَادَهَا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے دیکھا ، آپ ( اپنی نواسی ) امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے ، جب آپ رکوع میں جاتے تو اسے اتار دیتے ، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اسے دوبارہ اٹھا لیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 828]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 712 (صحیح)
38: بَابُ : مُبَادَرَةِ الإِمَامِ
باب: رکوع، سجود وغیرہ میں امام سے سبقت کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قال مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنا سر امام سے پہلے اٹھا لیتا ہے کیا وہ ( اس بات سے ) نہیں ڈرتا کہ ۱؎ اللہ اس کا سر گدھے کے سر میں تبدیل نہ کر دے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 829]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ اس سزا کا مستحق ہے اس لیے اسے اس کا ڈر اور خدشہ لگا رہنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 25 (427)، سنن الترمذی/فیہ 292 (582)، سنن ابن ماجہ/إقامة 41 (961)، (تحفة الأشراف: 14362)، مسند احمد 2/260، 271، 425، 456، 469، 472، 504، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1355) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَخْطُبُ، قال: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَكَانَ غَيْرَ كَذُوبٍ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا صَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامُوا قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ سَاجِدًا ثُمَّ سَجَدُوا".
براء رضی اللہ عنہ ( جو جھوٹے نہ تھے ۱؎ ) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے ، اور آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو وہ سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ وہ دیکھ لیتے کہ آپ سجدہ میں جا چکے ہیں ، پھر وہ سجدہ میں جاتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 830]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بھروسہ مند اور قابل اعتماد تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 52 (690)، 91 (747)، 133 (811)، صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، سنن ابی داود/فیہ 75 (620)، سنن الترمذی/فیہ 93 (281)، (تحفة الأشراف: 1772)، مسند احمد 4/284، 285، 300، 304 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى فَلَمَّا كَانَ فِي الْقَعْدَةِ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ أُقِرَّتِ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّكَاةِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ فَقَالَ: أَيُّكُمُ الْقَائِلُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ. فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، قال: يَا حِطَّانُ لَعَلَّكَ قُلْتَهَا قال: لَا وَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تَبْكَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُعَلِّمُنَا صَلَاتَنَا وَسُنَّتَنَا فَقَالَ: " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَتِلْكَ بِتِلْكَ".
حطان بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو جب وہ قعدہ میں گئے تو قوم کا ایک آدمی اندر آیا اور کہنے لگا کہ نماز نیکی اور زکاۃ کے ساتھ ملا دی گئی ہے ۱؎ ، تو جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سلام پھیر کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے پوچھا : تم میں سے کس نے یہ بات کہی ہے ؟ تو سبھی لوگ خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ، تو انہوں نے کہا : اے حطان ! شاید تم نے ہی یہ بات کہی ہے ! تو انہوں نے کہا : نہیں میں نے نہیں کہی ہے ، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ مجھ ہی کو اس پر سرزنش نہ کرنے لگ جائیں ، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہماری نماز اور ہمارے طریقے سکھاتے تھے ، تو آپ فرماتے : ” امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، تو جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو ، اور جب وہ «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم لوگ آمین کہو ، تو اللہ تعالیٰ تمہاری ( دعا ) قبول فرمائے گا ، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب وہ ( رکوع ) سے سر اٹھائے اور «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو ، تو اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا ، اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ، اور جب وہ سجدہ سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ ، کیونکہ امام تم سے پہلے سجدہ کرتا ہے ، اور تم سے پہلے سر بھی اٹھاتا ہے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ادھر کی کسر ادھر پوری ہو جائے گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 831]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: نماز کا نیکی اور زکاۃ کے ساتھ قرآن میں ذکر کیا گیا ہے، اور تینوں کا ایک ساتھ حکم دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 16 (404)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (972، 973)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 24 (901)، (تحفة الأشراف: 8987)، مسند احمد 4/393، 394، 401، 405، 409، 415، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1351)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1065، 1173، 1281 (صحیح)
39: بَابُ : خُرُوجِ الرَّجُلِ مِنْ صَلاَةِ الإِمَامِ وَفَرَاغِهِ مِنْ صَلاَتِهِ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ
باب: مقتدی کا امام کی نماز سے نکل جانے اور جا کر مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ قال: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى خَلْفَ مُعَاذٍ فَطَوَّلَ بِهِمْ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ إِنَّ فُلَانًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ مُعَاذٌ: لَئِنْ أَصْبَحْتُ لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَتَى مُعَاذٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَقَالَ: " مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَمِلْتُ عَلَى نَاضِحِي مِنَ النَّهَارِ فَجِئْتُ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فِي الصَّلَاةِ فَقَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا فَطَوَّلَ فَانْصَرَفْتُ فَصَلَّيْتُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص آیا اور نماز کھڑی ہو چکی تھی تو وہ مسجد میں داخل ہوا ، اور جا کر معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا ، انہوں نے رکعت لمبی کر دی ، تو وہ شخص ( نماز توڑ کر ) الگ ہو گیا ، اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر ( تنہا ) نماز پڑھ لی ، پھر چلا گیا ، جب معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو ان سے کہا گیا کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کیا ہے ، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں نے صبح کر لی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بیان کروں گا ؛ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا بھیجا ، وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر ابھارا ؟ “ تو اس نے جواب دیا : اللہ کے رسول ! میں نے دن بھر ( کھیت کی ) سینچائی کی تھی ، میں آیا ، تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی ، تو میں مسجد میں داخل ہوا ، اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا ، انہوں نے فلاں فلاں سورت پڑھنی شروع کر دی ، اور ( قرآت ) لمبی کر دی ، تو میں نے نماز توڑ کر جا کر الگ ایک کونے میں نماز پڑھ لی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو ؟ معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو ؟ معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 832]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی لوگوں کو پریشان کرتے ہو کہ وہ مجبور ہو کر نماز توڑ دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 60 (701)، 63 (705)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 74 (6106)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (599)، 127 (790)، سنن ابن ماجہ/إقامة 48 (986)، (تحفة الأشراف: 2237، 2582)، مسند احمد 3/299، 308، 369، سنن الدارمی/الصلاة 65 (1333)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 985 مختصراً، 998 مختصراً (صحیح)
40: بَابُ : الاِئْتِمَامِ بِالإِمَامِ يُصَلِّي قَاعِدًا
باب: امام بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے اور آپ کے داہنے پہلو میں خراش آ گئی ، تو آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں ، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، جب آپ سلام پھیر کر پلٹے تو فرمایا : ” امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، تو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو ، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 833]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 51 (689)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (411)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (601)، (تحفة الأشراف: 1529)، موطا امام مالک/الجماعة 5 (16)، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1291) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ فِي مَقَامِكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ فَقَالَتْ: لَهُ فَقَالَ: إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً قَالَتْ: فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ فَذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ جَالِسًا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری بڑھ گئی ، بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی خبر دینے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ابوبکر نرم دل آدمی ہیں ، وہ جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو ( قرآن ) نہیں سنا سکیں گے ۱؎ اگر آپ عمر کو حکم دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو صلاۃ پڑھائیں “ ، تو میں نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو ، تو حفصہ نے ( بھی ) آپ سے کہا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیاں ہو ۲؎ ، ” ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ، ( بالآخر ) لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، تو جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو آپ اٹھے اور دو آدمیوں کے سہارے چل کر نماز میں آئے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین سے گھسٹ رہے تھے ، جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کے آنے کی آہٹ محسوس کی ، اور وہ پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ” جس طرح ہو اسی طرح کھڑے رہو “ ، ام المؤمنین کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں بیٹھ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے ، ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے ، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 834]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر ایسی رقت طاری ہو جائے گی کہ وہ رونے لگیں گے، اور قرأت نہیں کر سکیں گے۔ ۲؎: اس سے مراد صرف عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، جیسے قرآن میں صرف «امرأۃ العزیز» مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ «عائشہ امرأۃ العزیز» کی طرح دل میں کچھ اور چھپائے ہوئے تھیں، اور اظہار کسی اور بات کا کر رہی تھیں، وہ یہ کہتی تھیں کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی جگہ امامت کے لیے کھڑے ہوئے، اور آپ کی وفات ہو گئی تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو منحوس سمجھیں گے، اس لیے بہانہ بنا رہی تھیں رقیق القلبی کا، ایک موقع پر انہوں نے یہ بات ظاہر بھی کر دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 39 (664)، 67 (712)، 68 (713)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، سنن ابن ماجہ/إقامة 142 (1232)، (تحفة الأشراف: 15945)، مسند احمد 6/34، 96، 97، 210، 224، 228، 249، 251، سنن الدارمی/المقدمة 14 (82) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ" فَقُلْنَا: لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: " أَصَلَّى النَّاسُ" قُلْنَا: لَا هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: " ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ" فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: فِي الثَّالِثَةِ مِثْلَ قَوْلِهِ قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ صَلِّ بِالنَّاسِ فَجَاءَهُ الرَّسُولُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا رَقِيقًا فَقَالَ: يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ: أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَأَمَرَهُمَا فَأَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِهِ فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي قَائِمًا وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ فَحَدَّثْتُهُ فَمَا أَنْكَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيٌّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ.
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور میں نے ان سے کہا : کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت کا حال نہیں بتائیں گی ؟ انہوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھ گئی ، تو آپ نے پوچھا : ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ “ تو ہم نے عرض کیا : نہیں ، اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے لیے ٹب میں پانی رکھو “؛ چنانچہ ہم نے رکھا ، تو آپ نے غسل کیا ، پھر اٹھنے چلے تو آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ “ تو ہم نے عرض کیا : نہیں ، اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے لیے ٹب میں پانی رکھو “؛ چنانچہ ہم نے رکھا ، تو آپ نے غسل کیا ، پھر آپ اٹھنے چلے تو پھر بیہوش ہو گئے ، پھر تیسری بار بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا ، لوگ مسجد میں جمع تھے ، اور عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے ، بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کہلوا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تو قاصد ان کے پاس آیا ، اور اس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی تھے ، تو انہوں نے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا : عمر ! تم لوگوں کو نماز پڑھا دو ، تو انہوں نے کہا : آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؛ چنانچہ ان ایام میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اندر ہلکا پن محسوس کیا ، تو دو آدمیوں کے سہارے ( ان دونوں میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے ) نماز ظہر کے لیے آئے ، تو جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہٹیں ، اور ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ان کے بغل میں بٹھا دیں ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھا رہے تھے ، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صلاۃ کی اقتداء کر رہے تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( عبیداللہ کہتے ہیں ) میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا ، اور میں نے ان سے کہا : کیا میں آپ سے وہ چیزیں بیان نہ کر دوں جو مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے متعلق بیان کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ! ضرور بیان کرو ، تو میں نے ان سے سارا واقعہ بیان کیا ، تو انہوں نے اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار نہیں کیا ، البتہ اتنا پوچھا : کیا انہوں نے اس شخص کا نام لیا جو عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ؟ میں نے کہا : نہیں ، تو انہوں نے کہا : وہ علی ( کرم اللہ وجہہ ) تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 835]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 51 (687)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، (تحفة الأشراف: 16317)، مسند احمد 2/52، 6/249، 251، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1292) (صحیح)
41: بَابُ : اخْتِلاَفِ نِيَّةِ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ
باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَأَخَّرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الصَّلَاةَ وَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَأَخَّرَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا: نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا نَافَقْتُ وَلَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَأْتِينَا فَيَؤُمُّنَا وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلَاةَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے ، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے ، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کر دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی ، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے ، تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی ، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی ، پھر وہ ( مسجد سے ) نکل گیا ، تو لوگوں نے پوچھا ، فلاں ! تو منافق ہو گیا ہے ؟ تو اس نے کہا : اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا ، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ، پھر ہمارے پاس آتے ہیں ، اور ہماری امامت کرتے ہیں ، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کر دی ، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی ، تو سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی ، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے ( تنہا ) نماز پڑھ لی ، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں ، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم ( نماز میں ) فلاں ، فلاں سورت پڑھا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 836]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (600)، 127 (790)، (تحفة الأشراف: 2533) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَبِالَّذِينَ جَاءُوا رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی ، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی ، ( پھر وہ چلے گئے ) اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی ، تو اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں ، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 837]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتوں میں سے پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئیں، جب کہ ان دو رکعتوں میں آپ کے جو مقتدی تھے انہوں نے اپنی فرض پڑھی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح — شاهد: صحيح مسلم (843/ 312)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 288 (1248) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11663)، مسند احمد 5/39، 49، ویأتی عند المؤلف برقم: 1552 (صحیح)
42: بَابُ : فَضْلِ الْجَمَاعَةِ
باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جماعت کی نماز تنہا نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 838]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 30 (645)، 31 (649)، صحیح مسلم/المساجد 42 (650)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8367)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (1)، مسند احمد 2/17، 65، 102، 112، 156، سنن الدارمی/الصلاة 56 (1313) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ جُزْءًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جماعت کی نماز تم میں سے کسی کی تنہا نماز سے پچیس گنا افضل ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 839]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے پہلے والی حدیث میں ۲۷ گنا، اور اس میں ۲۵ گنا زیادہ فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ بعض علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ۲۵ گنا بتلائی گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں مزید اضافہ فرما کر اسے ۲۷ گنا کر دیا، اور بعض نے کہا ہے کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 42 (649)، سنن الترمذی/الصلاة 47 (216)، (تحفة الأشراف: 13239)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (2)، مسند احمد 2/252، 264، 266، 273، 328 (بلفظ: سبع وعشرون) 396، 454، 473، 475، 485، 486، 520، 525، 529 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمَّارٍ، قال: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جماعت کی نماز تنہا نماز سے پچیس درجہ بڑھی ہوتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 840]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17471)، مسند احمد 6/49 (صحیح)
43: بَابُ : الْجَمَاعَةُ إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً
باب: جب تین آدمی ہوں تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے ، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 841]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 783 (صحیح)
44: بَابُ : الْجَمَاعَةُ إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً رَجُلٌ وَصَبِيٌّ وَامْرَأَةٌ
باب: جب تین افراد ہوں: ایک مرد، ایک بچہ اور ایک عورت تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 842]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 805 (صحیح)
45: بَابُ : الْجَمَاعَةُ إِذَا كَانُوا اثْنَيْنِ
باب: جب دو آدمی ہوں تو باجماعت نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو میں آپ کے بائیں کھڑا ہوا ، تو آپ نے مجھے اپنے بائیں ہاتھ سے پکڑا ، اور ( پیچھے سے لا کر ) اپنے دائیں کھڑا کر لیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 843]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (763) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 70 (610) مطولاً، (تحفة الأشراف: 5907)، مسند احمد 1/249، 347 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شُعْبَةُ، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ: " أَشَهِدَ فُلَانٌ الصَّلَاةَ" قَالُوا: لَا قَالَ: " فَفُلَانٌ" قَالُوا: لَا قَالَ: " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَالصَّفُّ الْأَوَّلُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَانُوا أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا فلاں نماز میں موجود ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور فلاں ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دونوں نمازیں ( عشاء اور فجر ) منافقین پر سب سے بھاری ہیں ، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے ، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے ، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے ، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے ، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۱؎ ، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 844]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی جملے سے باب کی مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 48 (554)، سنن ابن ماجہ/المساجد 16 (790) مختصراً، (تحفة الأشراف: 36)، مسند احمد 5/140، 141، سنن الدارمی/الصلاة 53 (1307، 1308) (حسن)
46: بَابُ : الْجَمَاعَةُ لِلنَّافِلَةِ
باب: نفل نماز کی جماعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ السُّيُولَ لَتَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ مَسْجِدِ قَوْمِي فَأُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَكَانٍ مِنْ بَيْتِي أَتَّخِذُهُ مَسْجِدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَنَفْعَلُ" فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيْنَ تُرِيدُ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ.
عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے اور میرے قبیلہ کی مسجد کے درمیان ( برسات میں ) سیلاب حائل ہو جاتا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے ، اور میرے گھر میں ایک جگہ نماز پڑھ دیتے جسے میں مصلیٰ بنا لیتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا ہم آئیں گے “ ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے پوچھا : ” تم کہاں چاہتے ہو ؟ “ تو میں نے گھر کے ایک گوشہ کی جانب اشارہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی ، پھر آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 845]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے جماعت کے ساتھ نفل پڑھنے کا جواز ثابت ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 789 (صحیح)
47: بَابُ : الْجَمَاعَةُ لِلْفَائِتِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: فوت شدہ نماز کی جماعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی صفوں کو درست کر لیا کرو ، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو ، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 846]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمیشہ اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھنے پر قادر تھے بلکہ یہ ایک معجزہ تھا جس کا ظہور جماعت کے وقت اللہ کی مشیئت سے ہوتا تھا، یہ حدیث نُسّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے، باب سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے، اور بقول علامہ پنجابی: یہ بعض نسخوں کے اندر ہے بھی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 815 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ وَاسْمُهُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا، عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ بِلَالٌ: أَنَا أَحْفَظُكُمْ فَاضْطَجَعُوا فَنَامُوا وَأَسْنَدَ بِلَالٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ: " يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ" قَالَ: مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ فَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ قُمْ يَا بِلَالُ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلَاةِ" فَقَامَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ فَتَوَضَّئُوا يَعْنِي حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ( سفر میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! کاش آپ آرام کے لیے پڑاؤ ڈالتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ڈر ہے کہ تم کہیں نماز سے سو نہ جاؤ “ ، اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ سب کی نگرانی کروں گا ، چنانچہ سب لوگ لیٹے ، اور سب سو گئے ، بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پیٹھ اپنی سواری سے ٹیک لی ، ( اور وہ بھی سو گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج نکل چکا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بلال ! کہاں گئی وہ بات جو تم نے کہی تھی ؟ “ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : مجھ پر ایسی نیند جیسی اس بار ہوئی کبھی طاری نہیں ہوئی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے ، اور جب چاہتا ہے اسے لوٹا دیتا ہے ، بلال اٹھو ! اور لوگوں میں نماز کا اعلان کرو “ ؛ چنانچہ بلال کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے اذان دی ، پھر لوگوں نے وضو کیا ، اس وقت سورج بلند ہو چکا تھا ، تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 847]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت 35 (595)، التوحید 31 (7471) (مختصراً علي قولہ: إن اللہ إذا الخ)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 11 (439، 440)، (تحفة الأشراف: 12096)، مسند احمد 5/307 (صحیح)
48: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، قال: قال لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قُلْتُ: فِي قَرْيَةٍ دُوَيْنَ حِمْصَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ قَالَ: السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ".
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا : تمہارا گھر کہاں ہے ؟ میں نے کہا : حمص کے دُوَین نامی بستی میں ، اس پر ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں ، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے ، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے “ ۔ سائب کہتے ہیں : جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 848]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 47 (547)، (تحفة الأشراف: 10967)، مسند احمد 5/196 و 6/446 (حسن)
49: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت سے پیچھے رہنے کی شناعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں ، تو وہ جمع کی جائے ، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے ، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے ، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے ( مسجد میں ) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 849]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 29 (644)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان الأحکام 52 (7224)، (تحفة الأشراف: 13832)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 1 (3)، مسند احمد 2/244، 376، 479، 480، 531، سنن الدارمی/الصلاة 54 (1310) (صحیح)
50: بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ
باب: جہاں پر اذان دی جاتی ہو وہاں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنِّي لَا أَحْسَبُ مِنْكُمْ أَحَدًا إِلَّا لَهُ مَسْجِدٌ يُصَلِّي فِيهِ فِي بَيْتِهِ فَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَتَرَكْتُمْ مَسَاجِدَكُمْ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَمْشِي إِلَى صَلَاةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً أَوْ يَرْفَعُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ يُكَفِّرُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُقَارِبُ بَيْنَ الْخُطَا وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جس شخص کو اس بات کی خوشی ہو کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے کہ وہ مسلمان ہو ، تو وہ ان پانچوں نمازوں کی محافظت کرے ۱؎ ، جب ان کی اذان دی جائے ، کیونکہ اللہ عزوجل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کر دئیے ہیں ، اور یہ نمازیں ہدایت کے راستوں میں سے ایک راستہ ہے ، اور میں سمجھتا ہوں کہ تم میں کوئی بھی ایسا نہ ہو گا جس کی ایک مسجد اس کے گھر میں نہ ہو جس میں وہ نماز پڑھتا ہو ، اگر تم اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھو گے اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دو گے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے ، اور اگر تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے ، اور جو مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر نماز کے لیے ( اپنے گھر سے ) چلتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ ہر قدم کے عوض جسے وہ اٹھاتا ہے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ، یا اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے ، یا اس کے عوض اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے ، میں نے اپنے لوگوں ( صحابہ کرام ) کو دیکھا ہے جب ہم نماز کو جاتے تو قریب قریب قدم رکھتے ، ( تاکہ نیکیاں زیادہ ملیں ) اور میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا جو منافق ہوتا ، اور جس کا منافق ہونا لوگوں کو معلوم ہوتا ، اور میں نے ( عہدرسالت میں ) دیکھا کہ آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر ( مسجد ) لایا جاتا یہاں تک کہ لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 850]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انہیں مسجد میں جا کر جماعت سے پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 44 (654)، سنن ابی داود/الصلاة 47 (550) مختصراً، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 9502)، مسند احمد 1/382، 414، 415، 419، 455 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ لَهُ: " أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ" قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " فَأَجِبْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎ ، اور اس نے عرض کیا : میرا کوئی راہبر ( گائیڈ ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے ، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی ، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا ، اور اس سے پوچھا : ” کیا تم اذان سنتے ہو ؟ “ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو ( مؤذن کی پکار پر ) لبیک کہو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 851]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تھے۔ ۲؎: یعنی مسجد میں آ کر جماعت ہی سے نماز پڑھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 43 (653)، (تحفة الأشراف: 14822) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ قَالَ: " هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَحَيَّ هَلًا وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ".
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مدینہ میں کیڑے مکوڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) اور درندے بہت ہیں ، ( تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم «حى على الصلاة» ، اور «حى على الفلاح» کی آواز سنتے ہو ؟ “ انہوں نے کہا : جی ہاں ، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو آؤ “ ، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 852]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (553) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 47 (553)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 10787) (صحیح)
51: بَابُ : الْعُذْرِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلَاةِ".
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے ، ایک دن نماز کا وقت آیا ، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے ، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے ، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 853]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطھارة 43 (88) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة 108 (142) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 114 (616)، (تحفة الأشراف: 5141)، (بدون ذکر القصة)، موطا امام مالک/قصرالصلاة في السفر 17 (49)، مسند احمد 3/483، 4/35، سنن الدارمی/الصلاة 137 (1467) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب شام کا کھانا حاضر ہو ، اور نماز ( جماعت ) کھڑی کر دی گئی ہو ، تو پہلے کھانا کھاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 854]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 16 (557)، سنن الترمذی/الصلاة 146 (353)، سنن ابن ماجہ/إقامة 34 (933)، (تحفة الأشراف: 1486)، مسند احمد 3/100، 110، 161، 231، 238، 249، سنن الدارمی/الصلاة 58 (1318) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِحُنَيْنٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ" فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی : ( لوگو ! ) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 855]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 213 (1057، 1058، 1059)، سنن ابن ماجہ/إقامة 35 (936)، (تحفة الأشراف: 133)، مسند احمد 5/24، 74، 75 (صحیح)
52: بَابُ : حَدِّ إِدْرَاكِ الْجَمَاعَةِ
باب: (بغیر جماعت) جماعت کا ثواب پانے کی حد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ الْفِهْرِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ حَضَرَهَا وَلَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اچھی طرح وضو کیا ، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا ، ( اور مسجد آیا ) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا ، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 856]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 52 (564)، (تحفة الأشراف: 14281)، مسند احمد 2/380 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْحُكَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے نماز کے لیے وضو کیا ، اور کامل وضو کیا ، پھر فرض نماز کے لیے چلا ، اور آ کر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی یا جماعت کے ساتھ ، یا مسجد میں ( تنہا ) نماز پڑھی ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں ۱؎ کو بخش دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 857]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد صغیرہ گناہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 8 (6433)، صحیح مسلم/الطھارة 4 (232)، (تحفة الأشراف: 9797)، مسند احمد 1/64، 67، 71، (صحیح)
53: بَابُ : إِعَادَةِ الصَّلاَةِ مَعَ الْجَمَاعَةِ بَعْدَ صَلاَةِ الرَّجُلِ لِنَفْسِهِ
باب: تنہا نماز پڑھنے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ مِحْجَنٍ، عَنْ مِحْجَنٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ" قَالَ: بَلَى وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَهْلِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ".
محجن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ مؤذن نے نماز کے لیے اذان دی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ( اور جا کر نماز پڑھی ) ، پھر ( نماز پڑھ کر ) لوٹے ، اور محجن اپنی مجلس ہی میں بیٹھے رہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” تم نے نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو ؟ “ انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں ! لیکن میں نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی تھی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” جب تم آؤ ( اور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں ) تو لوگوں کے ساتھ تم بھی نماز پڑھ لیا کرو ، اگرچہ تم پڑھ چکے ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 858]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، موطا امام مالک/الجماعة 3 (8)، (تحفة الأشراف: 11219)، مسند احمد 4/34، 338 (صحیح)
54: بَابُ : إِعَادَةِ الْفَجْرِ مَعَ الْجَمَاعَةِ لِمَنْ صَلَّى وَحْدَهُ
باب: تنہا نماز پڑھنے والے کا فجر کی نماز جماعت کے ساتھ دہرانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، قال: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ قَالَ: " عَلَيَّ بِهِمَا فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا" قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا قَالَ: " فَلَا تَفْعَلَا إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ".
یزید بن اسود عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد خیف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز میں موجود تھا ، جب آپ اپنی نماز پوری کر چکے تو آپ نے دیکھا کہ لوگوں کے آخر میں دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے ، آپ نے فرمایا : ” ان دونوں کو میرے پاس لاؤ “ ، چنانچہ ان دونوں کو لایا گیا ، ان کے مونڈھے ( گھبراہٹ سے ) کانپ رہے تھے وہ گھبرائے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟ “ تو ان دونوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کرو ، جب تم اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ چکو ، پھر مسجد میں آؤ جہاں جماعت ہو رہی ہو تو تم ان کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لیا کرو ، یہ تمہارے لیے نفل ( سنت ) ہو جائے گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 859]
💡 وضاحت:
۱؎: جو تم دونوں نے امام کے ساتھ پڑھی ہے یا جو تم نے ڈیرے میں پڑھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 57 (575، 576)، سنن الترمذی/الصلاة 49 (219)، (تحفة الأشراف: 11822)، مسند احمد 4/160، 161، سنن الدارمی/الصلاة 97 (1407) (صحیح)
55: بَابُ : إِعَادَةِ الصَّلاَةِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِهَا مَعَ الْجَمَاعَةِ
باب: نماز کا وقت نکل جانے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صُدْرَانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ فَخِذِي" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا" قَالَ: مَا تَأْمُرُ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ فَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ران پہ ہاتھ مار کر مجھ سے فرمایا : ” جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے دیر کر کے پڑھیں گے تو کیسے کرو گے ؟ “ انہوں نے کہا : آپ جیسا حکم دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز اول وقت پر پڑھ لینا ، پھر تم اپنی ضرورت کے لیے چلے جانا ، اور اگر جماعت کھڑی ہو چکی ہو اور تم ( ابھی ) مسجد ہی میں ہو تو پھر نماز پڑھ لینا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 860]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 779 (صحیح)
56: بَابُ : سُقُوطِ الصَّلاَةِ عَمَّنْ صَلَّى مَعَ الإِمَامِ فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَةً
باب: جو آدمی مسجد میں امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ چکا ہو اس سے فریضہ نماز کے ساقط ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ مَوْلَى مَيْمُونَةَ قال: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ جَالِسًا عَلَى الْبَلَاطِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا لَكَ لَا تُصَلِّي قال: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُعَادُ الصَّلَاةُ فِي يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کو بلاط ( ایک جگہ کا نام ) پر بیٹھے ہوئے دیکھا ، اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! کیا بات ہے آپ کیوں نہیں نماز پڑھ رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : دراصل میں نماز پڑھ چکا ہوں ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ایک دن میں دو بار نماز نہ لوٹائی جائے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 861]
💡 وضاحت:
۱؎: ترجمۃ الباب سے مصنف نے یہ اشارہ کیا ہے کہ یہ بات اس صورت پر محمول ہو گی جب اس نے مسجد میں باجماعت نماز پڑھی ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 58 (579)، (تحفة الأشراف: 7094)، مسند احمد 2/19، 41 (حسن صحیح)
57: بَابُ : السَّعْىِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے دوڑ کر جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کے لیے آؤ تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ ، بلکہ چلتے ہوئے آؤ ، اور تم پر ( وقار ) سکینت طاری ہو ، نماز جتنی پاؤ اسے پڑھ لو ، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 862]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 28 (602)، سنن الترمذی/الصلاة 128 (329)، (تحفة الأشراف: 13137)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (4)، مسند احمد 2/237، 238، 239، 270، 282، 318، 382، 387، 427، 452، 460، 472، 489، 529، 532، 533، سنن الدارمی/الصلاة 59 (1319) (صحیح)
58: بَابُ : الإِسْرَاعِ إِلَى الصَّلاَةِ مِنْ غَيْرِ سَعْىٍ
باب: نماز کے لیے بغیر دوڑے تیز آنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهُمْ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْرِعُ إِلَى الْمَغْرِبِ مَرَرْنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ: " أُفٍّ لَكَ أُفٍّ لَكَ" قَالَ: فَكَبُرَ ذَلِكَ فِي ذَرْعِي فَاسْتَأْخَرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي فَقَالَ: " مَا لَكَ امْشِ" فَقُلْتُ: أَحْدَثْتَ حَدَثًا قَالَ: مَا ذَاكَ قُلْتُ: أَفَّفْتَ بِي قَالَ: لَا وَلَكِنْ هَذَا فُلَانٌ بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانٍ فَغَلَّ نَمِرَةً فَدُرِّعَ الْآنَ مِثْلُهَا مِنْ نَارٍ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکتے تو بنی عبدالاشہل کے لوگوں میں جاتے اور ان سے گفتگو کرتے یہاں تک کہ مغرب کی نماز کے لیے اترتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے تیزی سے جا رہے تھے کہ ہم بقیع سے گزرے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” افسوس ہے تم پر ، افسوس ہے تم پر “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات مجھے گراں لگی ، اور یہ سمجھ کر کہ آپ مجھ سے مخاطب ہیں ، میں پیچھے ہٹ گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کیا ہوا ؟ چلو “ ، تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا کوئی بات ہو گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” وہ کیا ؟ “ ، تو میں نے عرض کیا : آپ نے مجھ پر اف کہا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ! ( تم پر نہیں ) البتہ اس شخص پر ( اظہار اف ) کیا ہے جسے میں نے فلاں قبیلے میں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا ، تو اس نے ایک دھاری دار چادر چرا لی ہے ؛ چنانچہ اب اسے ویسی ہی آگ کی چادر پہنا دی گئی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 863]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12028)، مسند احمد 6/392 (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي مَنْبُوذٌ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ نَحْوَهُ".
اس سند سے بھی ابورافع رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 864]
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (حسن)
59: بَابُ : التَّهْجِيرِ إِلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز کے لیے اول وقت میں جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ الْمُهَجِّرِ إِلَى الصَّلَاةِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي الْبَدَنَةَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَقَرَةَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ، ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ ثُمَّ الَّذِي عَلَى إِثْرِهِ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اول وقت میں نماز کے لیے جانے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اونٹ کی قربانی کرتا ہے ، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو گائے کی قربانی کرتا ہے ، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو بھیڑ کی قربانی کرتا ہے ، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو مرغی کی قربانی کرتا ہے ، پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو انڈے کی قربانی کرتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 865]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 31 (929)، بدء الخلق 6 (3211)، صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، سنن ابن ماجہ/إقامة 82 (1092)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13473، 15182)، مسند احمد 2/239، 259، 280، 505، 512، سنن الدارمی/الصلاة 193 (1584، 1585) (صحیح)
60: بَابُ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلاَةِ عِنْدَ الإِقَامَةِ
باب: اقامت کے بعد نفل یا سنت پڑھنے کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا قال: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قال: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 866]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 9 (710)، سنن ابی داود/الصلاة 294 (1266)، سنن الترمذی/الصلاة 196 (421)، سنن ابن ماجہ/إقامة 103 (1151)، (تحفة الأشراف: 14228)، مسند احمد 2/331، 517، 531، سنن الدارمی/الصلاة 149 (1488، 1491) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 867]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قال: أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَقَالَ: " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا".
ابن بحینہ ( عبداللہ بن مالک ازدی ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز فجر کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم فجر کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو ؟ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 868]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 38 (663)، صحیح مسلم/المسافرین 9 (711)، سنن ابن ماجہ/إقامة 103 (1153)، (تحفة الأشراف: 9155)، مسند احمد 5/345، 346، سنن الدارمی/الصلاة 149 (1490) (صحیح)
61: بَابُ : فِيمَنْ يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ وَالإِمَامُ فِي الصَّلاَةِ
باب: امام (فرض) نماز میں ہو تو سنتیں پڑھنے والے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قال: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قال: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: " يَا فُلَانُ أَيُّهُمَا صَلَاتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ".
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں تھے ، اس نے دو رکعت سنت پڑھی ، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا : ” اے فلاں ! ان دونوں میں سے تمہاری نماز کون سی تھی ، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے ؟ یا جو خود سے پڑھی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 869]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مقصود اس کی اس حرکت پر زجر و ملامت کرنا تھا کہ جس نماز کی خاطر اس نے مسجد آنے کی زحمت اٹھائی تھی اسے پا کر دوسری نماز میں لگنا عقلمندی نہیں ہے، سنت کے لیے گھر ہی بہتر جگہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 9 (712)، سنن ابی داود/الصلاة 294 (1265)، سنن ابن ماجہ/إقامة 103 (1152)، (تحفة الأشراف: 5319)، مسند احمد 5/82 (صحیح)
62: بَابُ : الْمُنْفَرِدِ خَلْفَ الصَّفِّ
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: " أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا فَصَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَهُ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 870]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے مصنف نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے واضح ہوتا ہے لیکن جو لوگ عدم جواز کے قائل ہیں وہ اسے عورتوں کے لیے مخصوص مانتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 78 (727)، 164 (871)، (تحفة الأشراف: 172)، مسند احمد 3/110 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ مَالِكٍ وَهُوَ عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ: فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی ، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی ، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں ، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎ ، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر : ۲۴ ) ” ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 871]
💡 وضاحت:
۱؎: مؤلف نے اسے پیچھے تنہا پڑھنے پر محمول کیا ہے لیکن حدیث صراحۃً اس پردلالت نہیں کرتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3122) ابن ماجه (1046) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجر 15 (3122)، سنن ابن ماجہ/إقامة 68 (1046)، (تحفة الأشراف: 5364)، مسند احمد 1/305 (صحیح)
63: بَابُ : الرُّكُوعِ دُونَ الصَّفِّ
باب: صف میں ملے بغیر رکوع کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلَا تَعُدْ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے ، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے ، پھر ایسا نہ کرنا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 872]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ خیر کی حرص گو محبوب و مطلوب ہے لیکن اسی صورت میں جب یہ شریعت کے مخالف نہ ہو، اور اس طرح صف میں شامل ہونا شرعی طریقے کے خلاف ہے، اس لیے اس سے بچنا اولیٰ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاذان 114 (783)، سنن ابی داود/الصلاة 101 (683، 684)، (تحفة الأشراف: 11659)، مسند احمد 5/39، 42، 45، 46، 50 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمًا، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: " يَا فُلَانُ أَلَا تُحَسِّنُ صَلَاتَكَ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي كَيْفَ يُصَلِّي لِنَفْسِهِ إِنِّي أُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي كَمَا أُبْصِرُ بَيْنَ يَدَيَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیر کر پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے فلاں ! تم اپنی نماز درست کیوں نہیں کرتے ؟ کیا نمازی دیکھتا نہیں کہ اسے اپنی نماز کیسی پڑھنی چاہیئے ، ( سن لو ) میں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 873]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 24 (423)، (تحفة الأشراف: 4334)، مسند احمد 2/449 (صحیح)
64: بَابُ : الصَّلاَةِ بَعْدَ الظُّهْرِ
باب: ظہر کے بعد سنت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمْعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے ، اور اس کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے تھے ، اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے ، اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے ، اور جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہیں پڑھتے یہاں تک کہ جب گھر لوٹ آتے تو دو رکعت پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 874]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 39 (937)، التھجد 25 (1165)، 29 (1172)، 34 (1180)، الجمعة 18 (882)، سنن ابی داود/الصلاة 29 (1252)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/السفر 23 (69)، (تحفة الأشراف: 8343)، مسند احمد 2/63، 87، سنن الدارمی/الصلاة 144 (1477)، 207 (1614)، ویأتی عند المؤلف في الجمعة 43 برقم: 1428) (صحیح)
65: بَابُ : الصَّلاَةِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي ذَلِكَ
باب: عصر کے پہلے سنت پڑھنے کا بیان اور اس سلسلے میں ابواسحاق سبیعی سے رواۃ حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قال: سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّكُمْ يُطِيقُ ذَلِكَ قُلْنَا إِنْ لَمْ نُطِقْهُ سَمِعْنَا، قَالَ: " كَانَ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا كَانَتْ مِنْ هَا هُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَا هُنَا عِنْدَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعًا وَيُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا ثِنْتَيْنِ وَيُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِتَسْلِيمٍ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ ہم نے کہا : گرچہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے مگر سن تو لیں ، تو انہوں نے کہا : جب سورج یہاں ہوتا ۱؎ جس طرح عصر کے وقت یہاں ہوتا ہے ۲؎ تو آپ دو رکعت ( سنت ) پڑھتے ۳؎ ، اور جب سورج یہاں ہوتا جس طرح ظہر کے وقت ہوتا ہے تو آپ چار رکعت ( سنت ) پڑھتے ۴؎ ، اور ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے ۵؎ ، اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے ، اور عصر سے پہلے چار رکعت ( سنت ) پڑھتے ، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور نبیوں پر اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام کے ذریعہ ۶؎ فصل کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 875]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مشرق میں۔ ۲؎: یعنی مغرب میں۔ ۳؎: یعنی چاشت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے۔ ۴؎: اس سے مراد صلاۃ الاوابین ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زوال سے پہلے پڑھتے تھے۔ ۵؎: ظہر سے پہلے چار رکعت اور دو رکعت دونوں کی روایتیں آئی ہیں، اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ دونوں جائز ہے، کبھی ایسا کر لے اور کبھی ایسا، لیکن چار والی روایت کو اختیار کرنا اولیٰ ہے، کیونکہ یہ قولی حدیث سے ثابت ہے۔ ۶؎: یعنی تشہد کے ذریعہ فصل کرتے، تشہد کو تسلیم اس لیے کہا گیا ہے کہ اس میں «السلام علينا وعلى عباده الله الصالحين» کا ٹکڑا ہے۔
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 301 (598)، سنن ابن ماجہ/إقامة 109 (1161)، (تحفة الأشراف: 10137)، مسند احمد 1/85، 111، 143، 147، 160 (حسن)
مکمل مطالعہ →
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قال: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهَارِ قَبْلَ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ: مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخْبَرَنَا قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ نِصْفِ النَّهَارِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَجْعَلُ التَّسْلِيمَ فِي آخِرِهِ".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے بارے میں پوچھا جسے آپ دن میں فرض سے پہلے پڑھتے تھے ، تو انہوں نے کہا : کون اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ پھر انہوں نے ہمیں بتایا ، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت سورج ڈھل جاتا دو رکعت پڑھتے ، اور نصف النہار ہونے سے پہلے چار رکعت پڑھتے ، اور اس کے آخر میں سلام پھیرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 876]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن فى هذا اللفظ. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (حسن)
← پچھلی کتاب #12 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #14 →