📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: امامت کے احکام و مسائل (كتاب الإمامة) 🏷️ باب: باب: جب دو آدمی ہوں تو باجماعت نماز کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 844 Sunan an-Nasa'i 844
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
45: بَابُ : الْجَمَاعَةُ إِذَا كَانُوا اثْنَيْنِ
باب: جب دو آدمی ہوں تو باجماعت نماز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شُعْبَةُ، وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَقُولُ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَالَ: " أَشَهِدَ فُلَانٌ الصَّلَاةَ" قَالُوا: لَا قَالَ: " فَفُلَانٌ" قَالُوا: لَا قَالَ: " إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَالصَّفُّ الْأَوَّلُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَانُوا أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا فلاں نماز میں موجود ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور فلاں ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دونوں نمازیں ( عشاء اور فجر ) منافقین پر سب سے بھاری ہیں ، اگر لوگ جان لیں کہ ان دونوں نمازوں میں کیا اجر و ثواب ہے ، تو وہ ان دونوں میں ضرور آئیں خواہ چوتڑوں کے بل انہیں گھسٹ کر آنا پڑے ، اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے ، اگر تم اس کی فضیلت جان لو تو تم اس میں شرکت کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو گے ، کسی آدمی کا کسی آدمی کے ساتھ مل کر جماعت سے نماز پڑھنا تنہا نماز پڑھنے سے بہتر ہے ۱؎ ، اور ایک شخص کا دو آدمیوں کے ساتھ نماز پڑھنا اس کے ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے ، اور لوگ جتنا زیادہ ہوں گے اتنا ہی وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو گی “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 844]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی جملے سے باب کی مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 48 (554)، سنن ابن ماجہ/المساجد 16 (790) مختصراً، (تحفة الأشراف: 36)، مسند احمد 5/140، 141، سنن الدارمی/الصلاة 53 (1307، 1308) (حسن)
سنن النسائي • حدیث #844
842 843 844 845 846

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#843 أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي س...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو م...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ