سنن النسائي حدیث نمبر: 846
Sunan an-Nasa'i 846
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
47: بَابُ : الْجَمَاعَةُ لِلْفَائِتِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: فوت شدہ نماز کی جماعت کا بیان۔
أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی صفوں کو درست کر لیا کرو ، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو ، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 846]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمیشہ اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھنے پر قادر تھے بلکہ یہ ایک معجزہ تھا جس کا ظہور جماعت کے وقت اللہ کی مشیئت سے ہوتا تھا، یہ حدیث نُسّاخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے، باب سے اس کو کوئی مناسبت نہیں ہے، اور بقول علامہ پنجابی: یہ بعض نسخوں کے اندر ہے بھی نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 815 (صحیح)