📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: امامت کے احکام و مسائل (كتاب الإمامة) 🏷️ باب: باب: فوت شدہ نماز کی جماعت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 847 Sunan an-Nasa'i 847
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
47: بَابُ : الْجَمَاعَةُ لِلْفَائِتِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: فوت شدہ نماز کی جماعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ وَاسْمُهُ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا، عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ بِلَالٌ: أَنَا أَحْفَظُكُمْ فَاضْطَجَعُوا فَنَامُوا وَأَسْنَدَ بِلَالٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَالَ: " يَا بِلَالُ أَيْنَ مَا قُلْتَ" قَالَ: مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ فَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ قُمْ يَا بِلَالُ فَآذِنِ النَّاسَ بِالصَّلَاةِ" فَقَامَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ فَتَوَضَّئُوا يَعْنِي حِينَ ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ( سفر میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! کاش آپ آرام کے لیے پڑاؤ ڈالتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ڈر ہے کہ تم کہیں نماز سے سو نہ جاؤ “ ، اس پر بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ سب کی نگرانی کروں گا ، چنانچہ سب لوگ لیٹے ، اور سب سو گئے ، بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی پیٹھ اپنی سواری سے ٹیک لی ، ( اور وہ بھی سو گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو سورج نکل چکا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بلال ! کہاں گئی وہ بات جو تم نے کہی تھی ؟ “ بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : مجھ پر ایسی نیند جیسی اس بار ہوئی کبھی طاری نہیں ہوئی تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تمہاری روحیں قبض کر لیتا ہے ، اور جب چاہتا ہے اسے لوٹا دیتا ہے ، بلال اٹھو ! اور لوگوں میں نماز کا اعلان کرو “ ؛ چنانچہ بلال کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے اذان دی ، پھر لوگوں نے وضو کیا ، اس وقت سورج بلند ہو چکا تھا ، تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 847]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت 35 (595)، التوحید 31 (7471) (مختصراً علي قولہ: إن اللہ إذا الخ)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 11 (439، 440)، (تحفة الأشراف: 12096)، مسند احمد 5/307 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #847
845 846 847 848 849

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#846 أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أَق...
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر ( تک...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ