سنن النسائي حدیث نمبر: 849
Sunan an-Nasa'i 849
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
49: بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت سے پیچھے رہنے کی شناعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں ، تو وہ جمع کی جائے ، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے ، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے ، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے ( مسجد میں ) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 849]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 29 (644)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان الأحکام 52 (7224)، (تحفة الأشراف: 13832)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 1 (3)، مسند احمد 2/244، 376، 479، 480، 531، سنن الدارمی/الصلاة 54 (1310) (صحیح)