سنن النسائي حدیث نمبر: 851
Sunan an-Nasa'i 851
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
50: بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ
باب: جہاں پر اذان دی جاتی ہو وہاں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: جَاءَ أَعْمَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الصَّلَاةِ فَسَأَلَهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَأَذِنَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ قَالَ لَهُ: " أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ" قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " فَأَجِبْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک نابینا شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۱؎ ، اور اس نے عرض کیا : میرا کوئی راہبر ( گائیڈ ) نہیں ہے جو مجھے مسجد تک لائے ، اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اسے اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی ، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا ، اور اس سے پوچھا : ” کیا تم اذان سنتے ہو ؟ “ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو ( مؤذن کی پکار پر ) لبیک کہو “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 851]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تھے۔ ۲؎: یعنی مسجد میں آ کر جماعت ہی سے نماز پڑھو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 43 (653)، (تحفة الأشراف: 14822) (صحیح)