سنن النسائي حدیث نمبر: 852
Sunan an-Nasa'i 852
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
50: بَابُ : الْمُحَافَظَةِ عَلَى الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ
باب: جہاں پر اذان دی جاتی ہو وہاں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ قَالَ: " هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَحَيَّ هَلًا وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ".
عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مدینہ میں کیڑے مکوڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) اور درندے بہت ہیں ، ( تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم «حى على الصلاة» ، اور «حى على الفلاح» کی آواز سنتے ہو ؟ “ انہوں نے کہا : جی ہاں ، ( سنتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو آؤ “ ، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 852]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (553) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 47 (553)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 10787) (صحیح)