سنن النسائي حدیث نمبر: 853
Sunan an-Nasa'i 853
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
51: بَابُ : الْعُذْرِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلَاةِ".
عروہ روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے ، ایک دن نماز کا وقت آیا ، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے ، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے ، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 853]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطھارة 43 (88) مطولاً، سنن الترمذی/الطھارة 108 (142) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الطھارة 114 (616)، (تحفة الأشراف: 5141)، (بدون ذکر القصة)، موطا امام مالک/قصرالصلاة في السفر 17 (49)، مسند احمد 3/483، 4/35، سنن الدارمی/الصلاة 137 (1467) (صحیح)