📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: امامت کے احکام و مسائل (كتاب الإمامة) 🏷️ باب: باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 836 Sunan an-Nasa'i 836
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
41: بَابُ : اخْتِلاَفِ نِيَّةِ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ
باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَأَخَّرَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الصَّلَاةَ وَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ يَؤُمُّهُمْ فَقَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ تَأَخَّرَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا: نَافَقْتَ يَا فُلَانُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا نَافَقْتُ وَلَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مُعَاذًا يُصَلِّي مَعَكَ، ثُمَّ يَأْتِينَا فَيَؤُمُّنَا وَإِنَّكَ أَخَّرْتَ الصَّلَاةَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّى مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا فَاسْتَفْتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ فَصَلَّيْتُ وَإِنَّمَا نَحْنُ أَصْحَابُ نَوَاضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ أَنْتَ اقْرَأْ بِسُورَةِ كَذَا وَسُورَةِ كَذَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے ، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے ، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کر دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی ، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے ، تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی ، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی ، پھر وہ ( مسجد سے ) نکل گیا ، تو لوگوں نے پوچھا ، فلاں ! تو منافق ہو گیا ہے ؟ تو اس نے کہا : اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا ، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ، پھر ہمارے پاس آتے ہیں ، اور ہماری امامت کرتے ہیں ، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کر دی ، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی ، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی ، تو سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی ، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے ( تنہا ) نماز پڑھ لی ، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں ، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : ” معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم ( نماز میں ) فلاں ، فلاں سورت پڑھا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 836]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (600)، 127 (790)، (تحفة الأشراف: 2533) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #836
834 835 836 837 838

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#837 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي...
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی ، تو اپنے پیچھے و...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ