سنن النسائي حدیث نمبر: 837
Sunan an-Nasa'i 837
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
41: بَابُ : اخْتِلاَفِ نِيَّةِ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ
باب: امام اور مقتدی کی نیت کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَبِالَّذِينَ جَاءُوا رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی نماز پڑھائی ، تو اپنے پیچھے والوں کو دو رکعت پڑھائی ، ( پھر وہ چلے گئے ) اور جو ان کی جگہ آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی ، تو اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہوئیں ، اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 837]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتوں میں سے پچھلی دو رکعتیں نفل ہوئیں، جب کہ ان دو رکعتوں میں آپ کے جو مقتدی تھے انہوں نے اپنی فرض پڑھی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح — شاهد: صحيح مسلم (843/ 312)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 288 (1248) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11663)، مسند احمد 5/39، 49، ویأتی عند المؤلف برقم: 1552 (صحیح)