سنن النسائي حدیث نمبر: 833
Sunan an-Nasa'i 833
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
40: بَابُ : الاِئْتِمَامِ بِالإِمَامِ يُصَلِّي قَاعِدًا
باب: امام بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو آپ اس سے گر گئے اور آپ کے داہنے پہلو میں خراش آ گئی ، تو آپ نے کچھ نمازیں بیٹھ کر پڑھیں ، ہم نے بھی آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، جب آپ سلام پھیر کر پلٹے تو فرمایا : ” امام بنایا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، تو جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو ، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 833]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 51 (689)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (411)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (601)، (تحفة الأشراف: 1529)، موطا امام مالک/الجماعة 5 (16)، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1291) (صحیح)