سنن النسائي حدیث نمبر: 807
Sunan an-Nasa'i 807
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
22: بَابُ : مَوْقِفِ الإِمَامِ وَالْمَأْمُومُ صَبِيٌّ
باب: مقتدی بچہ ہو تو امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ بِي هَكَذَا فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ اس طرح کیا یعنی آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنی داہنی جانب کھڑا کر لیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 807]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 59 (699)، تحفة الأشراف: 5529)، مسند احمد 1/360، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 41 (117)، الوضوء 5 (138)، الأذان 57 (697)، 79 (728)، الوتر 1 (992)، اللباس 71 (5919)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 70 (610)، مسند احمد 1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 365، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)