سنن النسائي حدیث نمبر: 783
Sunan an-Nasa'i 783
کتاب #13: کتاب: امامت کے احکام و مسائل
5: بَابُ : اجْتِمَاعِ الْقَوْمِ فِي مَوْضِعٍ هُمْ فِيهِ سَوَاءٌ
باب: لوگ کسی جگہ اکٹھا ہوں اور سب برابر ہوں تو کون امامت کرے؟
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین شخص ہوں تو ان میں سے ایک کو امامت کرنی چاہیئے ، اور ان میں امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 783]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 53 (672)، (تحفة الأشراف: 4372)، مسند احمد 3/24، 34، 36، 51، 84، سنن الدارمی/الصلاة 42 (1289)، ویأتی عند المؤلف برقم: 841 (صحیح)