سنن النسائي حدیث نمبر: 926
Sunan an-Nasa'i 926
کتاب #14: کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام
33: بَابُ : جَهْرِ الإِمَامِ بِآمِينَ
باب: امام کے زور سے آمین کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قال: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب قاری ( امام ) آمین کہے ، تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ، جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو جائے ۱؎ گا تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ گناہ بخش دے گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 926]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مؤلف نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے، کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا، اور جب انہیں اس کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15266)، مسند احمد 2/238، 449، 459، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1281، 1282) (صحیح)