سنن النسائي حدیث نمبر: 973
Sunan an-Nasa'i 973
کتاب #15: ابواب: قرآن میں سجدوں کا بیان
55: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ
باب: ظہر میں قرأت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْمَرُّوذِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ النَّضْرِ، قال: كُنَّا بِالطَّفِّ عِنْدَ أَنَسٍ فَصَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ فَلَمَّا فَرَغَ قال: " إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ لَنَا بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن نضر کو کہتے سنا کہ ہم طف میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے لوگوں کو ظہر پڑھائی ، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھی ، تو آپ نے ( ظہر کی ) دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں یعنی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 973]
💡 وضاحت:
۱؎: ”طف“ کوفہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، أبو بكر بن النضر بن أنس بن مالك: مستور،لم أجد من وثقه. ولبعض الحديث شاهد عند ابن خزيمة (بتحقيقي: 512 وسنده صحيح) وابن حبان (469). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1714) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ’’ابو بکر بن نضر‘‘ مجہول الحال ہیں)