سنن النسائي حدیث نمبر: 1011
Sunan an-Nasa'i 1011
کتاب #15: ابواب: قرآن میں سجدوں کا بیان
79: بَابُ : تَرْدِيدِ الآيَةِ
باب: کسی خاص آیت کو باربار دہرانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ قالت: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہی آیت میں صبح کر دی ، وہ آیت یہ تھی : «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ” یعنی اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو تو ( غالب و زبردست ) ہے ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے “ ( المائدہ : ۱۱۸ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1011]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1350)، (تحفة الأشراف: 12012)، مسند احمد 5/156، 170، 177 (حسن)