سنن النسائي حدیث نمبر: 1026
Sunan an-Nasa'i 1026
کتاب #15: ابواب: قرآن میں سجدوں کا بیان
86: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ لِلرُّكُوعِ حِذَاءَ الْمَنْكِبَيْنِ
باب: رکوع کے لیے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ، یہاں تک کہ آپ انہیں اپنے مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے ۱؎ ، اور جب رکوع کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1026]
💡 وضاحت:
۱؎: ان دونوں روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں توسّع ہے کہ کبھی آپ دونوں ہاتھ کانوں کے اطراف تک اٹھاتے اور کبھی مونڈھوں کے بالمقابل لے جاتے، اور بعض نے دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی ہے کہ ہاتھوں کی ہتھیلیاں تو مونڈھوں کے بالمقابل رکھتے، اور انگلیوں کے سرے کانوں کے بالمقابل رکھتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 9 (390)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (721)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (255)، سنن ابن ماجہ/إقامة 15 (858)، (تحفة الأشراف: 6816)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (16)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1145 (صحیح)