سنن النسائي حدیث نمبر: 985
Sunan an-Nasa'i 985
کتاب #15: ابواب: قرآن میں سجدوں کا بیان
63: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْمَغْرِبِ بِـ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى }
باب: مغرب میں «سبح اسم ربک الاعلی» پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِنَاضِحَيْنِ عَلَى مُعَاذٍ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ فَصَلَّى الرَّجُلُ، ثُمَّ ذَهَبَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ، أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَلَّا قَرَأْتَ" سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا ، اور وہ مغرب ۱؎ پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے سورۃ البقرہ شروع کر دی ، تو اس شخص نے ( الگ جا کر ) نماز پڑھی ، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو ؟ “ «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 985]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح بات یہ ہے کہ یہ واقعہ عشاء میں ہوا، جیسا کہ صحیح بخاری میں اس کی صراحت ہے، نیز دیکھئیے حدیث رقم: ۹۹۸۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 832 (صحیح)