سنن النسائي حدیث نمبر: 1139
Sunan an-Nasa'i 1139
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
79: بَابُ : فَضْلِ السُّجُودِ
باب: سجدہ کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ هِقْلِ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيُّ، قال: كُنْتُ آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ وَبِحَاجَتِهِ فَقَالَ: سَلْنِي، قُلْتُ: مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ قَالَ: " فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ".
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے وضو اور آپ کی حاجت کا پانی لے کر آتا تھا ، تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مانگنا ہو مجھ سے مانگو “ ، میں نے کہا : میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے علاوہ اور بھی کچھ ؟ “ میں نے عرض کیا : بس یہی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اپنے اوپر کثرت سجدہ کو لازم کر کے میری مدد کرو “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1139]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کثرت سے سجدے کیا کرو اس لیے کہ نماز کی عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، شاید تمہاری کثرت سجود سے مجھے تمہارے لیے اپنی رفاقت کی سفارش کا موقع مل جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 43 (489)، سنن ابی داود/فیہ 312 (1320)، سنن الترمذی/الدعوات 27 (3416)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3879)، (تحفة الأشراف: 3603)، مسند احمد 4/57، 58، 59 (صحیح)