سنن النسائي حدیث نمبر: 1046
Sunan an-Nasa'i 1046
کتاب #16: کتاب: تطبیق کے احکام و مسائل
8: بَابُ : تَعْظِيمِ الرَّبِّ فِي الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: كَشَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ قَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا ، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے “ ، پھر فرمایا : ” سنو ! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے ، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو ، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1046]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 41 (479)، سنن ابی داود/فیہ 152 (876)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 1 (3899)، (تحفة الأشراف: 5812)، مسند احمد 1/219، سنن الدارمی/الصلاة 77 (1364، 1365)، ویأتی عند المؤلف في باب62 (برقم: 1121) (صحیح)