كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
|
1: باب مَا جَاءَ عَلَى مَا كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " مَا أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ "، قَالَ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ؟، قَالَ: عَلَى هَذِهِ السُّفَرِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيُونُسُ: هَذَا هُوَ يُونُسُ الْإِسْكَافُ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خوان ( میز وغیرہ ) پر نہیں کھایا ، نہ چھوٹی طشتریوں اور پیالیوں میں کھایا ، اور نہ آپ کے لیے کبھی پتلی روٹی پکائی گئی ۔ یونس کہتے ہیں : میں نے قتادہ سے پوچھا : پھر کس چیز پر کھاتے تھے ؟ کہا : انہی دسترخوانوں پر ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- محمد بن بشار کہتے ہیں : یہ یونس ، یونس اسکاف ہیں ، ¤ ۳- عبدالوارث بن سعید نے بسند «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1788]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3292)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 8 (5386)، 23 (5415)، والرقاق 16 (6450)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 20 (3292)، والمؤلف في الزہد 38 (2363)، والشمائل 25 (تحفة الأشراف: 1444)، و مسند احمد (3/130) (صحیح)
|
|
|
2: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الأَرْنَبِ
باب: خرگوش کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: " أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهَا فَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا بِمَرْوَةٍ فَبَعَثَ مَعِي بِفَخِذِهَا أَوْ بِوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهُ "، قَالَ: قُلْتُ: أَكَلَهُ، قَالَ: قَبِلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى، وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمَّارٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ صَيْفِيٍّ: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الْأَرْنَبِ بَأْسًا وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الْأَرْنَبِ، وَقَالُوا: إِنَّهَا تَدْمَى.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے مقام مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا ، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے ، میں نے اسے پا لیا اور پکڑ لیا ، پھر اسے ابوطلحہ کے پاس لایا ، انہوں نے اس کو پتھر سے ذبح کیا اور مجھے اس کی ران دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، چنانچہ آپ نے اسے کھایا ۔ راوی ہشام بن زید کہتے ہیں : میں نے ( راوی حدیث اپنے دادا انس بن مالک رضی الله عنہ سے ) پوچھا : کیا آپ نے اسے کھایا ؟ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں جابر ، عمار ، محمد بن صفوان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ خرگوش کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں ، ¤ ۴- جب کہ بعض اہل علم خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں ، یہ لوگ کہتے ہیں : اسے ( یعنی مادہ خرگوش کو ) حیض کا خون آتا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1789]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خرگوش حلال ہے، اگر حلال نہ ہوتا تو آپ اسے قبول نہ فرماتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3243)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الہبة 5 (2572)، والصید 10 (5489)، و 32 (5535)، صحیح مسلم/الصید 9 (1953)، سنن ابی داود/ الأطعمة 27 (3791)، سنن النسائی/الصید 25 (4317)، سنن ابن ماجہ/الصید 17 (3243)، (تحفة الأشراف: 1629)، و مسند احمد (3/118، 171)، سنن الدارمی/الصید 7 (2056) (صحیح)
|
|
|
3: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبِّ
باب: ضب (گوہ) کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَكْلِ الضَّبِّ فَقَالَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَثَابِتِ بْنِ وَدِيعَةَ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي أَكْلِ الضَّبِّ فَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وَيُرْوَى عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " أُكِلَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقَذُّرًا ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضب ( گوہ ) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ” میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، ابو سعید خدری ، ابن عباس ، ثابت بن ودیعہ ، جابر اور عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- ضب کھانے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض اہل علم صحابہ نے رخصت دی ہے ، ¤ ۴- اور بعض نے اسے مکروہ سمجھا ہے ، ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر ضب کھایا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی کراہیت کی بنا پر اسے چھوڑ دیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1790]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ ضب کھانا حلال ہے، بعض روایات میں ہے کہ آپ نے اسے کھانے سے منع فرمایا ہے، لیکن یہ ممانعت حرمت کی نہیں بلکہ کراہت کی ہے، کیونکہ صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اسے کھاؤ یہ حلال ہے، لیکن یہ میرا کھانا نہیں ہے“، ضب کا ترجمہ گوہ سانڈا اور سوسمار سے کیا جاتا ہے، واضح رہے کہ اگر ان میں سے کوئی قسم گرگٹ کی نسل سے ہے تو وہ حرام ہے، زہریلا جانور کیچلی دانت والا پنجہ سے شکار کرنے اور اسے پکڑ کر کھانے والے سبھی جانور حرام ہیں۔ ایسے ہی وہ جانور جن کی نجاست و خباثت معروف ہے، لفظ ضب پر تفصیلی بحث کے لیے سنن ابن ماجہ میں انہی ابواب کا مطالعہ کریں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 7240) (صحیح)
|
|
|
4: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ
باب: لکڑبگھا کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: " الضَّبُعُ صَيْدٌ هِيَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ، قُلْتُ: آكُلُهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الضَّبُعِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الضَّبُعِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الضَّبُعِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ، وَابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ الْمَكِّيُّ.
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی الله عنہ سے پوچھا : کیا لکڑبگھا بھی شکار ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں نے پوچھا : اسے کھا سکتا ہوں ؟ کہا : ہاں ، میں نے پوچھا : کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یحییٰ قطان کہتے ہیں : جریر بن حازم نے یہ حدیث اس سند سے روایت کی ہے : عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابن ابی عمار سے ، ابن ابی عمار نے جابر سے ، جابر نے عمر رضی الله عنہ کے قول سے روایت کی ہے ، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے ، وہ لوگ لکڑبگھا کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں ۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ¤ ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کی کراہت کے سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے ، لیکن اس کی سند قوی نہیں ہے ، ¤ ۵- بعض اہل علم نے بجو کھانے کو مکروہ سمجھا ہے ، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1791]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3236)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 32 (3801)، سنن النسائی/الحج 89 (2839)، والصید 27 (4328)، سنن ابن ماجہ/المناسک 90 (3085)، والصید 15 (3236)، (تحفة الأشراف: 2381)، و مسند احمد (3/297، 318، 322)، سنن الدارمی/المناسک 90 (1984) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الضَّبُعِ فَقَالَ: " أَوَ يَأْكُلُ الضَّبُعَ أَحَدٌ؟ "، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الذِّئْبِ فَقَالَ: " أَوَ يَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي إِسْمَاعِيل وَعَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ وَهُوَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ قَيْسِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ ثِقَةٌ.
خزیمہ بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کے بارے میں پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” بھلا کوئی لکڑبگھا کھاتا ہے ؟ میں نے آپ سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” بھلا کوئی نیک آدمی بھیڑیا کھاتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ہم اسے عبدالکریم ابی امیہ کے واسطہ سے صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- بعض محدثین نے اسماعیل اور عبدالکریم ابی امیہ کے بارے میں کلام کیا ہے ، ( حدیث کی سند میں مذکور ) یہ عبدالکریم ، عبدالکریم بن قیس بن ابی المخارق ہیں ، ¤ ۳- اور عبدالکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1792]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3237) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (696) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1792) إسناده ضعيف /جه 3237،3235 ¤ عبدالكريم بن أبى المخارق: ضعيف (تقدم:12)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصید 14 (3235)، و 15 (3237) (ضعیف) (سند میں اسماعیل بن مسلم مکی اور عبد الکریم بن ابی المخارق دونوں ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
5: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا ، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے ، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں ، ¤ ۵- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1793]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے، سلف و خلف میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر علما کی اکثریت اس کی حلت کی قائل ہے، جو اسے حرام سمجھتے ہیں، یہ حدیث اور اسی موضوع کی دوسری احادیث ان کے خلاف ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے، اس کی حرمت کی وجہ جیسا کہ بخاری میں ہے یہ ہے کہ یہ ناپاک اور پلید حیوان ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (8 / 138)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 38 (3219)، والصید 27 (5520)، و28 (5524)، صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، سنن ابی داود/ الأطعمة 26 (3788)، سنن النسائی/الصید 29 (4332)، وانظر: سنن ابن ماجہ/النکاح 44 (1961)، والذبائح 12 (3191)، (تحفة الأشراف: 2539)، و مسند احمد (3/322، 3256، 361، 362، 385)، سنن الدارمی/الأضاحي 22 (2036) (صحیح)
|
|
|
6: باب مَا جَاءَ فِي لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
باب: پالتو گدھے کے گوشت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ زَمَنَ خَيْبَرَ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ "، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , وَالْحَسَنِ هما ابنا محمد ابن الحنفية، وعبد الله بن محمد يكنى أبا هاشم، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وقَالَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَكَانَ أَرْضَاهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ۱؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی نے بسند «سفيان عن الزهري عن عبد الله والحسن» نے اسی جیسی حدیث بیان کی ، عبداللہ و حسن دونوں محمد بن حنیفہ کے بیٹے ہیں ، اور عبداللہ بن محمد الحنفیہ کی کنیت ابوہاشم ہے ، زہری کہتے ہیں : ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ حسن بن محمد بن حنفیہ ہیں ، پھر انہوں ۔ ابن عیینہ سے روایت کرنے والے سعید بن عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسرے لوگوں نے کہا ہے : ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1794]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک خاص وقت تک کے لیے کسی عورت سے نکاح کرنا، پھر مدت پوری ہو جانے پر دونوں کا جدا ہو جانا اسے متعہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1961)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 2639) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَالْمُجَثَّمَةَ وَالْحِمَارَ الْإِنْسِيَّ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَجَابِرٍ، وَالْبَرَاءِ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَنَسٍ، وَالْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، وَأَبِي ثَعْلَبَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو هَذَا الْحَدِيثَ وَإِنَّمَا ذَكَرُوا حَرْفًا وَاحِدًا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن ہر کچلی دانت والے درندہ جانور ، «مجثمة» ۱؎ اور پالتو گدھے کو حرام قرار دیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- عبدالعزیز بن محمد اور دوسرے لوگوں نے بھی اسے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے صرف ایک جملہ بیان کیا ہے «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع» ” یعنی صرف کچلی والے درندوں کا ذکر کیا ، مجثمہ اور پالتو گدھے کا ذکر نہیں کیا “ ، ¤ ۳ - اس باب میں علی ، جابر ، براء ، ابن ابی اوفی ، انس ، عرباض بن ساریہ ، ابوثعلبہ ، ابن عمر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1795]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ پرندہ یا خرگوش جس کو باندھ کر نشانہ لگایا جائے، یہاں تک کہ مر جائے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، الصحيحة (358 و 2391)، الإرواء (2488)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 15026) (حسن صحیح)
|
|
|
7: باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ فِي آنِيَةِ الْكُفَّارِ
باب: کفار و مشرکین کے برتنوں میں کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قُدُورِ الْمَجُوسِ فَقَالَ: " أَنْقُوهَا غَسْلًا وَاطْبُخُوا فِيهَا وَنَهَى عَنْ كُلِّ سَبْعٍ ذِي نَابٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي ثَعْلَبَةَ وَرُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو ثَعْلَبَةَ اسْمُهُ جُرْثُومٌ، وَيُقَالُ جُرْهُمٌ وَيُقَالُ: نَاشِبٌ وَقَدْ ذُكِرَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ.
ابوثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوس کی ہانڈیوں ( برتنوں ) کے بارے میں پوچھا گیا ، تو آپ نے فرمایا : ” انہیں دھو کر صاف کرو اور ان میں کھانا پکاؤ ، اور آپ نے ہر کچلی دانت والے درندے جانور سے منع فرمایا ” ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث ابوثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے ، ان سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے ، ¤ ۲- ابوثعلبہ کا نام جرثوم ہے ، انہیں جرہم اور ناشب بھی کہا گیا ہے ، ¤ ۳- یہ حدیث «عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن أبي ثعلبة» کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1796]
قال الشيخ الألباني:
صحيح ومضى برقم (1620)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1464 و 1560 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَنَطْبُخُ فِي قُدُورِهِمْ وَنَشْرَبُ فِي آنِيَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ "، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَكَيْفَ نَصْنَعُ قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُكَلَّبٍ فَذُكِّيَ فَكُلْ وَإِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَقَتَلَ فَكُلْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں ، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو “ ، پھر انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کر دیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہو جائے تو اسے کھاؤ “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1797]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3207)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1464و 1560 (صحیح)
|
|
|
8: باب مَا جَاءَ فِي الْفَأْرَةِ تَمُوتُ فِي السَّمْنِ
باب: گھی میں مری ہوئی چوہیا کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَسُئِلَ عَنْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ، عَنْ مَيْمُونَةَ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ أَصَحُّ وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَهُوَ حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ: وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ فِيهِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْهُ فَقَالَ: " إِذَا كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ " هَذَا خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مَعْمَرٌ، قَالَ: وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ.
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اسے اور جو کچھ چکنائی اس کے اردگرد ہے اسے پھینک دو ۱؎ اور ( بچا ہوا ) گھی کھا لو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اس سند سے بھی آئی ہے «الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم» ، راویوں نے اس میں «عن میمونة» کا واسطہ نہیں بیان کیا ہے ، ¤ ۳- میمونہ کے واسطہ سے ابن عباس کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۴- معمر نے بطریق : «الزهري ، عن ابن أبي هريرة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم» جیسی حدیث روایت کی ہے ، یہ حدیث ( سند ) غیر محفوظ ہے ، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ معمر کی حدیث جسے وہ «عن الزهري عن سعيد ابن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” جب گھی جما ہوا ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا گھی پھینک دو اور اگر پگھلا ہوا ہو تو اس کے قریب نہ جاؤ “ یہ خطا ہے ، اس میں معمر سے خطا ہوئی ہے ، صحیح زہری ہی کی حدیث ہے جو «عن عبيد الله عن ابن عباس عن ميمونة» کی سند سے آئی ہے ۲؎ ، ¤ ۵ - اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1798]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جمی ہوئی چیز ہو، اور اگر سیال ہے تو پھر پورے کو پھینک دیا جائے گا۔
۲؎: معمر کی مذکورہ روایت مصنف عبدالرزاق کی ہے، معمر ہی کی ایک روایت نسائی میں (رقم: ۴۲۶۵) میمونہ سے بھی ہے جس میں ”سیال اور غیر سیال“ کا فرق ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی کی روایت کی طرح ہے، سند اور علم حدیث کے قواعد کے لحاظ سے اگرچہ یہ دونوں روایات متکلم فیہ ہیں، لیکن ایک مجمل روایت ہی میں نسائی کا لفظ ہے «سمن جامد» ”جما ہوا گھی“ اور یہ سند صحیح ہے، بہرحال اگر صحیحین کی مجمل روایت ہی کو لیا جائے تو بھی ”ارد گرد“ اسی گھی کا ہو سکتا ہے جو جامد ہو، سیال میں ”ارد گرد“ ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ چوہیا اس میں گھومتی رہے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 67 (235)، والذبائح 34 (5538)، سنن ابی داود/ الأطعمة 48 (3841)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 10 (4263)، (تحفة الأشراف: 18065)، وط/الاستئذان 7 (20)، و مسند احمد (6/329، 330، 335) وسنن الدارمی/الطہارة 59 (765)، والأطعمة 41 (2128، 2129، 2130، 2131) (صحیح)
|
|
|
9: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، بِالشِّمَالِ
باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَحَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَعُقَيْلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ مَالِكٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے ، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح مالک اور ابن عیینہ نے بسند «الزهري عن أبي بكر بن عبيد الله عن ابن عمر» روایت کی ہے ، معمر اور عقیل نے اسے زہری سے ، بسند «سالم بن عبداللہ عن ابن عمر» روایت کی ہے ، مالک اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- اس باب میں جابر ، عمر بن ابی سلمہ ، سلمہ بن الاکوع ، انس بن مالک اور حفصہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1799]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ضروری ہے، اور بائیں ہاتھ سے مکروہ ہے، البتہ کسی عذر کی صورت میں بائیں کا استعمال کھانے پینے کے لیے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1236)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 13 (2020) سنن ابی داود/ الأطعمة 20 (3776)، (تحفة الأشراف: 8579)، وط/صفة النبی ﷺ 4 (6)، و مسند احمد (2/106)، سنن الدارمی/الأطعمة 9 (2073) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے ، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1800]
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (لم یذکرہ المزي) (صحیح)
|
|
|
10: باب مَا جَاءَ فِي لَعْقِ الأَصَابِعِ بَعْدَ الأَكْلِ
باب: کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدِيثُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنَ الْمُخْتَلِفِ لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس انگلی میں برکت ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : عبدالعزیز کی یہ حدیث ، مختلف کے قبیل سے ہے ، اور صرف ان کی روایت سے ہی جانی جاتی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں جابر ، کعب بن مالک اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ہم اسے اس سند سے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1801]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ برکت اس میں تھی جسے وہ کھا چکا یا اس میں ہے جو اس کی انگلیوں میں لگا ہوا ہے، یا اس میں ہے جو کھانے کے برتن میں باقی رہ گیا ہے، اس لیے کھاتے وقت کھانے والے کو ان سب کا خیال رکھنا ہے، تاکہ اس برکت سے جو کھانے میں اللہ نے رکھی ہے محروم نہ رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (19)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 18 (2034)، (تحفة الأشراف: 12727)، و مسند احمد (2/340، 415) (صحیح)
|
|
|
11: باب مَا جَاءَ فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ
باب: گرے ہوئے لقمہ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَسَقَطَتْ لُقْمَةٌ فَلْيُمِطْ مَا رَابَهُ مِنْهَا ثُمَّ لِيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور نوالہ گر جائے تو اس میں سے جو ناپسند سمجھے اسے ہٹا دے ۱؎ ، اسے پھر کھا لے ، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1802]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی گرے ہوئے نوالہ پر جو گردوغبار جم گیا ہے، اسے ہٹا کر اللہ کی اس نعمت کی قدر کرے، اسے کھا لے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے کیونکہ چھوڑنے سے اس نعمت کی ناقدری ہو گی، لیکن اس کا بھی لحاظ رہے کہ وہ نوالہ ایسی جگہ نہ گرا ہو جو ناپاک اور گندی ہو، اگر ایسی بات ہے تو بہتر ہو گا کہ اسے صاف کر کے کسی جانور کو کھلا دے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3279)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 18 (2033)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 13 (3279)، (تحفة الأشراف: 278)، و مسند احمد (3/301، 231، 331)، 337، 366، 394) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ "، وَقَالَ: " إِذَا مَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ "، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلِتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: &qquot; إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ فِي أَيِّ طَعَامِكُمُ الْبَرَكَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے تھے ۱؎ ، آپ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کا نوالہ گر جائے تو اس سے گرد و غبار دور کرے اور اسے کھا لے ، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے “ ، آپ نے ہمیں پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا : ” تم لوگ نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت رکھی ہوئی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1803]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے لیے جن تین انگلیوں کا استعمال کیا وہ یہ ہیں: انگوٹھا، شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (120)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 18 (2034)، سنن ابی داود/ الأطعمة 50 (3845)، (تحفة الأشراف: 1803)، و مسند احمد (3/117، 290)، سنن الدارمی/1 الأطعمة 8 (2071) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ وَكَانَتْ أُمَّ وَلَدٍ لِسِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحِسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْمُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ.
ام عاصم کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نبیشہ الخیر آئے ، ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے ، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹے تو پیالہ اس کے لیے استغفار کرتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف معلی بن راشد کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- یزید بن ہارون اور کئی ائمہ حدیث نے بھی یہ حدیث معلی بن راشد سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1804]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3271) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (703)، المشكاة (4218)، ضعيف الجامع الصغير (5478) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1804) إسناده ضعيف / جه 3271 ¤ أم عاصم لم أجدلھا توثيقًا وقال الحافظ:مقبولة (تق:8742) أى مجھولة الحال
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 10 (3271)، (تحفة الأشراف: 11588)، (تحفة الأشراف: 11588) (ضعیف) (سند میں معلی بن راشد اورام عاصم دونوں لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
12: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَكْلِ مِنْ وَسَطِ الطَّعَامِ
باب: بیچ سے کھانے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَرَكَةُ تَنْزِلُ وَسَطَ الطَّعَامِ فَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ إِنَّمَا يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے ، اس لیے تم لوگ اس کے کناروں سے کھاؤ ، بیچ سے مت کھاؤ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور صرف عطاء بن سائب کی روایت سے معروف ہے ، اسے شعبہ اور ثوری نے بھی عطاء بن سائب سے روایت کیا ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عمر سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1805]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں کھانے کا ادب و طریقہ بتایا گیا ہے کہ درمیان سے مت کھاؤ بلکہ اپنے سامنے اور کنارے سے کھاؤ، کیونکہ برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اور اس برکت سے تاکہ سبھی فائدہ اٹھائیں، دوسری بات یہ ہے کہ ایسا کرنے سے جو حصہ کھانے کا بچ جائے گا وہ صاف ستھرا رہے گا، اور دوسروں کے کام آ جائے گا، اس لیے اس کا خیال رکھا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3277)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 18 (3772)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 12 (3277)، (تحفة الأشراف: 5566)، سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح)
|
|
|
13: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ
باب: لہسن اور پیاز کھانے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ الثُّومِ ثُمَّ قَالَ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ان میں سے لہسن کھائے ، یا لہسن ، پیاز اور گندنا ۱؎ - کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، ابوایوب ، ابوہریرہ ، ابو سعید خدری ، جابر بن سمرہ ، قرہ بن ایاس مزنی اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1806]
💡 وضاحت:
۱؎: بدبودار سبزیاں یا ایسی چیزیں جن میں بدبو ہوتی ہے۔
۲؎: بعض احادیث میں «فلا یقربن المساجد» ہے، اس حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ لہسن، پیاز اور اسی طرح کی بدبودار چیزیں کھا کر مسجدوں میں نہ آیا جائے، کیونکہ فرشتے اس سے اذیت محسوس کرتے ہیں۔ دیگر بدبودار کھانے اور بیڑی سگریٹ وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (547)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 16 (854)، والأطعمة 49 (5452)، والاعتصام 24 (7359)، صحیح مسلم/المساجد 17 (564)، سنن ابی داود/ الأطعمة 41 (3822)، سنن النسائی/المساجد 16 (708)، (تحفة الأشراف: 2447)، و مسند احمد (3/374، 387) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَيُّوبَ وَكَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ يَوْمًا بِطَعَامٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى أَبُو أَيُّوبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِيهِ ثُومٌ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے گھر ٹھہرے ، آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اس کا کچھ حصہ ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے پاس بھیجتے ، آپ نے ایک دن ( پورا ) کھانا ( واپس ) بھیجا ، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کھایا ، جب ابوایوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” اس میں لہسن ہے ؟ “ ، انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا وہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1807]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2511)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1807) (صحیح)
|
|
|
14: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الثُّومِ مَطْبُوخًا
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَدُّوَيْهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ وَالِدُ وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1808]
💡 وضاحت:
۱؎: پکنے سے اس میں پائی جانے والی بو ختم ہو جاتی ہے، اس لیے اسے کھا کر مسجد جانے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2512)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1808) إسناده ضعيف / د 3828
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 41 (3828)، (تحفة الأشراف: 10127) (صحیح) (سند میں ابواسحاق سبیعی مختلط اور مدلس راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، الإرواء: 2512)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " لَا يَصْلُحُ أَكْلُ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ قَوْلُهُ، وَرُوِي عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ مُحَمَّدٌ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ صَدُوقٌ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ الضَّحَّاكِ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے ، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، یہ علی رضی الله عنہ کا قول ہے ، ¤ ۲- شریک بن حنبل کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1809]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (2512)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1809) إسناده ضعيف موقوف ¤ أبو إسحاق عنعن (تقدم: 107) واختلط ولا يعرف سماع الجراح منه: أقبل اختلاطه أم بعد؟
تخریج دارالدعوہ:
(تحفة الأشراف: 10127) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ عَلَيْهِمْ فَتَكَلَّفُوا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَ أَكْلَهُ "، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأُمُّ أَيُّوبَ هِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ.
ام ایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ان کے گھر ٹھہرے ، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں ( گندنا وغیرہ ) میں سے تھی ، چنانچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا : ” تم لوگ اسے کھاؤ ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق ( جبرائیل ) کو تکلیف پہچاؤں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1810]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (3364)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3364)، (تحفة الأشراف: 18304) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: " الثُّومُ مِنْ طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ "، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَسَمِعَ مِنْهُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ هُوَ الرِّيَاحِيُّ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ أَبُو خَلْدَةَ خِيَارًا مُسْلِمًا.
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ لہسن حلال رزق ہے ۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے ، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے ، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں ، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1811]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1811) إسناده ضعيف ¤ محمد بن حميد ضعيف (تقدم:85)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 18646) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
15: باب مَا جَاءَ فِي تَخْمِيرِ الإِنَاءِ وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ الْمَنَامِ
باب: سوتے وقت برتن ڈھانپنے اور چراغ اور آگ کے بجھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَوْكِئُوا السِّقَاءَ وَأَكْفِئُوا الْإِنَاءَ أَوْ خَمِّرُوا الْإِنَاءَ وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحِلُّ وِكَاءً وَلَا يَكْشِفُ آنِيَةً وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( سوتے وقت ) دروازہ بند کر لو ، مشکیزہ کا منہ باندھ دو ، برتنوں کو اوندھا کر دو یا انہیں ڈھانپ دو اور چراغ بجھا دو ، اس لیے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا ہے اور نہ کسی بندھن اور برتن کو کھولتا ہے ، ( اور چراغ اس لیے بجھا دو کہ ) چوہا لوگوں کا گھر جلا دیتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- جابر سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عمر ، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1812]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے بہت سے فائدے حاصل ہوئے: (۱) بسم اللہ پڑھ کر دروازہ بند کرنے سے بندہ جن اور شیاطین سے محفوظ ہوتا ہے، (۲) اور چوروں سے بھی گھر محفوظ ہو جاتا ہے، (۳) برتن کا منہ باندھنے اور ڈھانپ دینے سے اس میں موجود چیز کی زہریلے جانوروں کے اثرات نیز وبائی بیماریوں اور گندگی وغیرہ سے حفاظت ہو جاتی ہے، (۴) چراغ اور آگ کے بجھانے سے گھر آگ کے خطرات سے محفوظ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (341)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (22316)، والأشربة 22 (5623، 5624)، والاستئذان 49 (6295)، صحیح مسلم/الأشربة 12 (2012)، سنن ابی داود/ الأشربة 22 (3731-3734)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 16 (3410)، والأدب 46 (3771)، (تحفة الأشراف: 2934)، و مسند احمد (3/355)، ویأتي برقم 2857 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوتے وقت اپنے گھروں میں ( جلتی ہوئی ) آگ نہ چھوڑو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1813]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاستئذان 49 (6243)، صحیح مسلم/الأشربة 12 (2015)، سنن ابی داود/ الأدب 173 (5246)، سنن ابن ماجہ/الأدب 46 (3769)، (تحفة الأشراف: 6814) (صحیح)
|
|
|
16: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْقِرَانِ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ
باب: دو دو کھجور ایک لقمے میں کھانے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ صَاحِبَهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کر لے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعد مولی ابوبکر سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1814]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بے انتہا حریص اور لالچی ہو، اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو، اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے، خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو، یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3331)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرکة 4 (2490)، صحیح مسلم/الأشربة 25 (2045)، سنن ابی داود/ الأطعمة 44 (3834)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 41 (3331)، (تحفة الأشراف: 6667)، و مسند احمد (2/60)، سنن الدارمی/الأطعمة 25 (2103) (صحیح)
|
|
|
17: باب مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ التَّمْرِ
باب: کھجور کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَى امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ قَالَ: وَسَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے ہشام بن عروہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یحییٰ بن حسان کے علاوہ میں نہیں جانتا ہوں کسی نے اسے روایت کیا ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابورافع کی بیوی سلمی رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1815]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب لوگوں کی اصل غذا صرف کھجور تھی، یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے کھجور کی اہمیت بتانا مقصود ہو، آج بھی جس علاقہ اور جگہ کی کوئی خاص چیز ہوتی ہے جو وہاں کے لوگوں کی اصل غذا ہو تو اس کی طرف نسبت کر کے اس کی اہمیت واضح کی جاتی ہے۔ حدیث کے ظاہری معانی کے پیش نظر کھجور کے فوائد کی بنا پر گھر میں ہر وقت کھجور کی ایک مقدار ضرور رہنی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3327)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 26 (2046)، سنن ابی داود/ الأطعمة 42 (3830)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 28 (3327)، (تحفة الأشراف: 16942)، سنن الدارمی/الأطعمة 26 (2105) (صحیح)
|
|
|
18: باب مَا جَاءَ فِي الْحَمْدِ عَلَى الطَّعَامِ إِذَا فُرِغَ مِنْهُ
باب: کھانے کے بعد اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ نَحْوَهُ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھاتا ہے یا ایک گھونٹ پیتا ہے ، تو اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- زکریا بن ابی زائدہ سے اسے کئی لوگوں نے اسی طرح روایت کیا ہے ، ہم اسے صرف زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں عقبہ بن عامر ، ابوسعید ، عائشہ ، ابوایوب اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1816]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1651)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الذکر والدعاء 24 (2734)، (تحفة الأشراف: 857)، و مسند احمد (3/100، 117) (صحیح)
|
|
|
19: باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ الْمَجْذُومِ
باب: کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشْقَرُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ "، ثُمَّ قَالَ: " كُلْ بِسْمِ اللَّهِ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ شَيْخٌ آخَرُ بَصْرِيٌّ أَوْثَقُ مِنْ هَذَا وَأَشْهَرُ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ وَحَدِيثُ شُعْبَةَ أَثْبَتُ عِنْدِي وَأَصَحُّ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا ، پھر فرمایا : ” اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف یونس بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں ، جسے وہ مفضل بن فضالہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- یہ مفضل بن فضالہ ایک بصریٰ شیخ ہیں ، مفضل بن فضالہ ایک دوسرے شیخ بصریٰ ہیں وہ ان سے زیادہ ثقہ اور شہرت کے مالک راوی ہیں ، ¤ ۳- شعبہ نے اس حدیث کو بطریق : «حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة أن ابن عمر» روایت کیا ہے کہ انہوں ( ابن عمر ) نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا ، میرے نزدیک شعبہ کی حدیث زیادہ صحیح اور ثابت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1817]
💡 وضاحت:
۱؎: علماء کا کہنا ہے کہ ایسا آپ نے ان لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جو اپنے ایمان و توکل میں قوی ہیں، اور ناپسندیدہ امر پر صبر سے کام لیتے ہیں اور اسے قضاء و قدر کے حوالہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو ناپسنددیدہ امر پر صبر نہیں کر پاتے اور اپنے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آپ نے یہ فرمایا: «فر من المجذوم كما تفر من الأسد» چنانچہ ایسے لوگوں سے بچنا اور اجتناب کرنا مستحب ہے، لیکن واجب نہیں ہے، اور ان کے ساتھ کھانا پینا بیان جواز کے لیے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3542) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (776)، المشكاة (4585)، ضعيف الجامع الصغير (4195)، ضعيف أبي داود (847 / 3925) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1817) إسناده ضعيف / د 3925، جه 3542
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطب 34 (3925)، سنن ابن ماجہ/الطب 44 (3542)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف) (سند میں مفضل بصری ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
20: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
باب: مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنت میں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، وَأَبِي مُوسَى، وَجَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ، وَمَيْمُونَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کافر سات آنت میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابوسعید ، ابو بصرہ غفاری ، ابوموسیٰ ، جہجاہ غفاری ، میمونہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1818]
💡 وضاحت:
۱؎: علماء نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں: (۱) مومن اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرتا ہے، اسی لیے کھانے کی مقدار اگر کم ہے تب بھی اسے آسودگی ہو جاتی ہے، اور کافر چونکہ اللہ کا نام لیے بغیر کھاتا ہے اس لیے اسے آسودگی نہیں ہوتی، خواہ کھانے کی مقدار زیادہ ہو یا کم۔ (۲) مومن دنیاوی حرص طمع سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے، اسی لیے کم کھاتا ہے، جب کہ کافر حصول دنیا کا حریص ہوتا ہے اسی لیے زیادہ کھاتا ہے، (۳) مومن آخرت کے خوف سے سرشار رہتا ہے اسی لیے وہ کم کھا کر بھی آسودہ ہو جاتا ہے، جب کہ کافر آخرت سے بے نیاز ہو کر زندگی گزارتا ہے، اسی لیے وہ بے نیاز ہو کر کھاتا ہے، پھر بھی آسودہ نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3257)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 12 (5393-5395)، صحیح مسلم/الأشربة 34 (2060)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 3 (3257)، (تحفة الأشراف: 8156)، و مسند احمد (2/21، 43، 74، 145) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ضَافَهُ ضَيْفٌ كَافِرٌ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ أَصْبَحَ مِنَ الْغَدِ فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مَعْيٍ وَاحِدٍ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کافر مہمان آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، بکری دو ہی گئی ، وہ دودھ پی گیا ، پھر دوسری دو ہی گئی ، اس کو بھی پی گیا ، اس طرح وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا ، پھر کل صبح ہو کر وہ اسلام لے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری ( دوہنے کا ) حکم دیا ، وہ دو ہی گئی ، وہ اس کا دودھ پی گیا ، پھر آپ نے دوسری کا حکم دیا تو وہ اس کا پورا دودھ نہ پی سکا ، ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث سہیل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1819]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3256)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 12 (5396-5397)، صحیح مسلم/الأشربة 34 (2063)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 3 (3256)، (تحفة الأشراف: 12739)، وط/صفة النبيﷺ 6 (9، 10)، مسند احمد (2/375، 257، 415، 435، 437، 455)، سنن الدارمی/الأطعمة 13 (2084) (صحیح)
|
|
|
21: باب مَا جَاءَ فِي طَعَامِ الْوَاحِدِ يَكْفِي الاِثْنَيْنِ
باب: ایک آدمی کا کھانا تین آدمی کے لیے کافی ہوتا ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو کفایت کر جائے گا ، دو آدمی کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کر جائے گا اور چار آدمی کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کفایت کر جائے گا “ ، ¤ ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1820]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1686)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 33 (2059)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 2 (3254)، (تحفة الأشراف: 2301)، و مسند احمد (3/301، 382)، سنن الدارمی/الأطعمة 13 (2086) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
اس سند سے جابر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1820M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1686)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 33 (2059)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 2 (3254)، (تحفة الأشراف: 2301)، و مسند احمد (3/301، 382)، سنن الدارمی/الأطعمة 13 (2086) (صحیح)
|
|
|
22: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْجَرَادِ
باب: ٹڈی کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجَرَادِ فَقَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ سِتَّ غَزَوَاتٍ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، فَقَالَ: سَبْعَ غَزَوَاتٍ.
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا ، تو انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ غزوے کیے اور ٹڈی کھاتے رہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کو سفیان بن عیینہ نے ابویعفور سے اسی طرح روایت کیا ہے اور کہا ہے : ” چھ غزوے کیے “ ، ¤ ۲- اور سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے ابویعفور سے یہ حدیث روایت کی ہے اور کہا ہے : ” سات غزوے کیے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1821]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصید 13 (5495)، صحیح مسلم/الصید 8 (1922)، سنن ابی داود/ الأطعمة 35 (3812)، سنن النسائی/الصید 37 (4361)، (تحفة الأشراف: 5182)، و مسند احمد (4/353، 357، 380)، وسنن الدارمی/الصید 5 (2053) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا، قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو يَعْفُورٍ اسْمُهُ وَاقِدٌ وَيُقَالُ: وَقْدَانُ أَيْضًا وَأَبُو يَعْفُورٍ الْآخَرُ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسَ.
ابن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- شعبہ نے بھی اسے ابویعفور کے واسطہ سے ابن ابی اوفی سے روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1822]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ جانور جو حلال ہیں انہیں میں سے ٹڈی بھی ہے، اس کی حلت پر تقریباً سب کا اتفاق ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا، قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو يَعْفُورٍ اسْمُهُ وَاقِدٌ وَيُقَالُ: وَقْدَانُ أَيْضًا وَأَبُو يَعْفُورٍ الْآخَرُ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسَ.
اس سند سے بھی ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابویعفور کا نام واقد ہے ، انہیں وقدان بھی کہا جاتا ہے ، ابویعفور دوسرے بھی ہیں ، ان کا نام عبدالرحمٰن بن عبید بن نسطاس ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1822M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
23: باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عَلَى الْجَرَادِ
باب: ٹڈی پر بددعا کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَهْلِكِ الْجَرَادَ اقْتُلْ كِبَارَهُ وَأَهْلِكْ صِغَارَهُ وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ وَاقْطَعْ دَابِرَهُ وَخُذْ بِأَفْوَاهِهِمْ عَنْ مَعَاشِنَا وَأَرْزَاقِنَا إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ "، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ بِقَطْعِ دَابِرِهِ؟، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا نَثْرَةُ حُوتٍ فِي الْبَحْرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ قَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَرَائِبِ وَالْمَنَاكِيرِ، وَأَبُوهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثِقَةٌ وَهُوَ مَدَنِيٌّ.
جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈیوں پر بد دعا کرتے تو کہتے «اللهم أهلك الجراد اقتل كباره وأهلك صغاره وأفسد بيضه واقطع دابره وخذ بأفواههم عن معاشنا وأرزاقنا إنك سميع الدعاء» ” اللہ ! ٹڈیوں کو ہلاک کر دے ، بڑوں کو مار دے ، چھوٹوں کو تباہ کر دے ، ان کے انڈوں کو خراب کر دے ، ان کا جڑ سے خاتمہ کر دے ، اور ہمارے معاش اور رزق تباہ کرنے سے ان کے منہ روک لے ، بیشک تو دعا کو سننے والا ہے “ ، ایک آدمی نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر کو جڑ سے ختم کرنے کی بد دعا کیسے کر رہے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ سمندر میں مچھلی کی چھینک ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے ، ان سے غریب اور منکر روایتیں کثرت سے ہیں ، ان کے باپ محمد بن ابراہیم ثقہ ہیں اور مدینہ کے رہنے والے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1823]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1823) إسناده ضعيف جدًا /جه 3221 ¤ موسي بن محمد: منكر الحديث (تق:7006)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصید 9 (3221)، (تحفة الأشراف: 1451، 2585) (موضوع) (سند میں موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی ضعیف اور منکرالحدیث راوی ہے، ابن الجوزی نے موضوعات میں اسی کو متہم کیا ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفة: 112، لیکن ضعیف سنن الترمذی اور مشہور حسن کے سنن کے نسخے میں اس حدیث پر کوئی حکم نہیں لگا ہے)
|
|
|
24: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْجَلاَّلَةِ وَأَلْبَانِهَا
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت اور دودھ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَى الثَّوْرِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کھانے اور ان کے دودھ پینے سے منع فرمایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ثوری نے اسے «عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں عبداللہ بن عباس سے بھی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1824]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3189)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1824) إسناده ضعيف / د 3785، جه 3189
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 25 (3785)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 11 (3185)، (تحفة الأشراف: 7387) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْمُجَثَّمَةِ وَلَبَنِ الْجَلَّالَةِ وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ "، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمة» اور گندگی کھانے والے جانور کے دودھ اور مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- محمد بن بشار کہتے ہیں : ہم سے ابن عدی نے «عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1825]
💡 وضاحت:
۱؎: «مجثمہ» : وہ جانور ہے جس پر نشانہ بازی کی جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2503)، الصحيحة (2391)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأشربة 24 (5629)، سنن ابی داود/ الأشربة 14 (3719)، سنن النسائی/الضحایا 44 (4453)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 20 (3421)، (تحفة الأشراف: 6190)، و مسند احمد (1/226، 241، 339) سنن الدارمی/الأضاحي 13 (2018) (صحیح)
|
|
|
25: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدَّجَاجِ
باب: مرغی کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ دَجَاجَةً، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ زَهْدَمٍ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَهْدَمٍ، وَأَبُو الْعَوَّامِ هُوَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ.
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ کے پاس گیا ، وہ مرغی کھا رہے تھے ، کہا : قریب ہو جاؤ اور کھاؤ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ، زہدم سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ہم اسے صرف زہدم ہی کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1826]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوست کے گھر اس کے کھانے کے وقت میں جانا صحیح ہے، نیز کھانے والے کو چاہیئے کہ آنے والے مہمان کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک کرے، اگرچہ کھانے کی مقدار کم ہو، اس لیے کہ اجتماعی شکل میں کھانا نزول برکت کا سبب ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ مرغ کا گوشت حلال ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2499)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 74 (4385)، والصید 26 (5517، 5518)، و کفارات الأیمان 10 (6721)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1649/9)، سنن النسائی/الصید 33 (4351)، (تحفة الأشراف: 8990) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ "، قَالَ: وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس حدیث میں کچھ اور باتیں بھی ہیں ، ¤ ۳- ایوب سختیانی نے بھی اس حدیث کو «عن القاسم التميمي عن أبي قلابة عن زهدم» کی سند سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1827]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (1826)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 29 (3797)، (تحفة الأشراف: 4482) (ضعیف) (سند میں ابراہیم بن عمر بن سفینہ ”بُریہ“ مجہول الحال راوی ہیں)
|
|
|
26: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْحُبَارَى
باب: سرخاب کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، وَيُقَالُ: بُرَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ.
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- ابراہیم بن عمر بن سفینہ سے ابن ابی فدیک نے بھی روایت کی ہے ، انہیں برید بن عمر بن سفینہ بھی کہا گیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1828]
💡 وضاحت:
۱؎: «حباری» (یعنی سرخاب) بطخ کی شکل کا ایک پرندہ ہے جس کی گردن لمبی اور رنگ خاکستری ہوتا ہے، اس کی چونچ بھی قدرے لمبی ہوتی ہے۔ اور یہ جنگلوں میں پایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (2500) //، ضعيف أبي داود (812 / 3797) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1828) إسناده ضعيف / د 3797
تخریج دارالدعوہ:
(ضعیف) (سند میں ابراہیم بن عمر بن سفینہ جن کا لقب بریہ ہے، مستور ہیں، اور ابراہیم بن عبدالرحمن بن مہدی بصری صدوق راوی ہیں، لیکن ان سے منکر روایات آئی ہیں)
|
|
|
27: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الشِّوَاءِ
باب: بھنا ہوا گوشت کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، " أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَالْمُغِيرَةِ، وَأَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی دست پیش کی ، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔ © امام ترمذی کہتے : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن حارث ، مغیرہ اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1829]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (138)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 18200) (صحیح)
|
|
|
28: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الأَكْلِ مُتَّكِئًا
باب: ٹیک لگا کر کھانے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَلَا آكُلُ مُتَّكِئًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ.
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں ، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے ، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں علی ، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1830]
💡 وضاحت:
۱؎: ٹیک لگانے کا کیا مطلب ہے؟ اس سلسلہ میں کئی باتیں کہی جاتی ہیں: (۱) کسی ایک جانب جھک کر کھانا جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ یا کمنی پر ٹیک لگانا، (۲) زمین پر بچھے ہوئے گدے پر اطمینان و سہولت کی خاطر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا تاکہ کھانا زیادہ کھایا جائے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بیٹھنے کو ٹیک لگا کر بیٹھنا قرار دینا صحیح نہیں ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحب انداز بیٹھنے کا یہ ہے کہ پیروں کے تلوؤں پر گھٹنوں کے بل بیٹھے، یا دایاں پاؤں کھڑا رکھے اور بائیں پر بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3262)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 13 (5398)، سنن ابی داود/ الأطعمة 17 (3769)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 6 (3262)، (تحفة الأشراف: 11801)، و مسند احمد (4/308)، سنن الدارمی/الأطعمة 31 (2115) (صحیح)
|
|
|
29: باب مَا جَاءَ فِي حُبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ
باب: میٹھی چیز اور شہد سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی رغبت اور پسند کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَفِي الْحَدِيثِ كلام أكثر من هذا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند کرتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اسے علی بن مسہر نے بھی ہشام بن عروہ کے واسطہ سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- حدیث میں اس سے زیادہ باتیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1831]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3323)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 32 (5431)، والأشربة 10 (5599)، و 15 (5614)، والطب 4 (5682)، والحیل 12 (6972)، صحیح مسلم/الطلاق 3 (1474)، سنن ابی داود/ الأشربة 11 (3715)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 36 (3323)، (تحفة الأشراف: 16796)، و مسند احمد (6/59) (صحیح)
|
|
|
30: باب مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ الْمَرَقَةِ
باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ "، وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ.
عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں ( پکاتے وقت ) شوربا ( سالن ) زیادہ کر لے ، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے ، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں ، محمد بن فضاء «معبر» ( یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے ) ہیں ، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے ، ¤ ۳- یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1832]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (2341) // ضعيف الجامع الصغير (371) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1832) إسناده ضعيف ¤ محمد بن فضاء: ضعيف وأبوه: مجھول (د 3449)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8974) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف، اور ان کے والد فضاء بن خالد بصری مجہول راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ، وَإِنِ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے ، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎ ، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا ( سالن ) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1833]
💡 وضاحت:
۱؎: اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا اسے دلی سکون پہنچانا ہے، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1368)، التعليق الرغيب (3 / 264)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البر و الصلة 42 (2625/142)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 58 (3362)، (تحفة الأشراف: 11951)، و مسند احمد (5/149، 156، 161، 171) (صحیح)
|
|
|
31: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الثَّرِيدِ
باب: ثرید کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردوں میں سے بہت سارے مرد درجہ کمال کو پہنچے ۱؎ اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ درجہ کمال کو پہنچیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کو “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1834]
💡 وضاحت:
۱؎: چنانچہ مردوں میں سے انبیاء، رسل، علما، خلفاء، اور اولیاء ہوئے۔
۲؎: ثرید: اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں گوشت کے ساتھ شوربے میں روٹی ملی ہوئی ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3280)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 32 (3411)، و 46 (3433)، وفضائل الصحابة 30 (3769)، والأطعمة 25 (5418)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 12 (2431) (صحیح)
|
|
|
32: باب مَا جَاءَ أَنَّهُ قَالَ انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا
باب: دانت سے نوچ کر گوشت کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: زَوَّجَنِي أَبِي فَدَعَا أُنَاسًا فِيهِمْ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي عَبْدِ الْكَرِيمِ الْمُعَلِّمِ مِنْهُمْ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میرے باپ نے میری شادی کی اور لوگوں کو مدعو کیا ، ان میں صفوان بن امیہ رضی الله عنہ بھی تھے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گوشت کو دانت سے نوچ کر کھاؤ اس لیے کہ وہ زیادہ جلد ہضم ہوتا ہے ، اور لذیذ ہوتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کو ہم صرف عبدالکریم کی روایت سے جانتے ہیں اور عبدالکریم المعلم کے حافظہ کے بارے میں اہل علم نے کلام کیا ہے ، کلام کرنے والوں میں ایوب سختیانی بھی ہیں ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1835]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (2193) // ضعيف الجامع الصغير (2101) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1835) إسناده ضعيف ¤ عبدالكريم ضعيف (تقدم:12) وللحديث شواھد ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 4947) (ضعیف) (سند میں ابو امیہ عبد الکریم بن ابی المخارق المعلم ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
33: باب مَا جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي قَطْعِ اللَّحْمِ بِالسِّكِّينِ
باب: چھری سے گوشت کاٹنے کی رخصت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَزَّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب: عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ.
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے بکری کی دست کا گوشت چھری سے کاٹا ، اور اس میں سے کھایا ، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں مغیرہ بن شعبہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1836]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ چھری سے کاٹ کر گوشت کھایا جا سکتا ہے، طبرانی اور ابوداؤد میں ہے کہ چھری سے گوشت کاٹ کر مت کھاؤ کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، لیکن یہ روایتیں ضعیف ہیں، ان سے استدلال درست نہیں، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آگ سے پکی چیز کھانے سے وضوء نہیں ٹوٹتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت کھا کر وضو نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (490)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 5 (208)، والأذان 43 (675)، والجہاد 92 (2923)، والأطعمة 20 (5408)، و 26 (5422)، و 58 (5462)، صحیح مسلم/الحیض 24 (355)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (490)، (تحفة الأشراف: 1070)، و مسند احمد (4/139، 179) و (5/288) (صحیح)
|
|
|
34: باب مَا جَاءَ فِي أَىِّ اللَّحْمِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَيَّانَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ، وَأَبُو زَرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ اسْمُهُ هَرِمٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو دست پیش کی گئی ، آپ کو دست بہت پسند تھی ، چنانچہ آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود ، عائشہ ، عبداللہ بن جعفر اور ابوعبیدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- ابوحیان کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان ہے اور ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1837]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3307)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 3 (3340)، وتفسیر الإسراء 5 (4712)، صحیح مسلم/الإیمان 84 (194)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 28 (3307)، ویأتي عند المؤلف في صفة القیامة 10 (2434)، (تحفة الأشراف: 14927) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ أَبُو عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ يَحْيَى مِنْ وَلَدِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " مَا كَانَ الذِّرَاعُ أَحَبَّ اللَّحْمِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ كَانَ لَا يَجِدُ اللَّحْمَ إِلَّا غِبًّا فَكَانَ يَعْجَلُ إِلَيْهِ لِأَنَّهُ أَعْجَلُهَا نُضْجًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت زیادہ پسند نہیں تھا ، لیکن آپ کو یہ کبھی کبھی ملتا تھا ، اس لیے آپ اسے کھانے میں جلدی کرتے تھے کیونکہ وہ دوسرے گوشت کے مقابلہ میں جلدی گلتا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1838]
قال الشيخ الألباني:
منكر مختصر الشمائل (144)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1838) إسناده ضعيف ¤ عبدالوھاب بن يحيي: في سماعه من جده نظر، انظر تھذيب التھزيب (402/6 طبع دار الفكر)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16194) (منکر) (سند میں عبدالوہاب بن یحییٰ لین الحدیث راوی ہیں، اور متن صحیح روایات کے خلاف ہے)
|
|
|
35: باب مَا جَاءَ فِي الْخَلِّ
باب: سرکہ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ هَانِئٍ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں عائشہ اور ام ہانی سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1839]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے سرکہ کے سالن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ یہ سب کے لیے کم خرچ میں آسانی سے دستیاب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3316 و 3317)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 30 (2052)، سنن ابی داود/ الأطعمة 40 (3820)، سنن النسائی/الأیمان 21 (3827)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 33 (3317)، (تحفة الأشراف: 2758)، و مسند احمد 3/304، 371، 389، 390)، سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2092) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ: نِعْمَ الإِدَامُ (أَوْ الأُدْمُ) الْخَلُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1840]
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ: نِعْمَ الإِدَامُ (أَوْ الأُدْمُ) الْخَلُّ.
اس سند سے بھی عائشہ رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر اس میں ہے «نعم الإدام أو الأدم الخل» ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے ہشام بن عروہ کی سند سے صرف سلیمان بن بلال کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1840M]
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ "، فَقُلْتُ: لَا إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرِّبِيهِ فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُمِّ هَانِئٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ اسْمُهُ ثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ، وَأُمُّ هَانِئٍ مَاتَتْ بَعْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِزَمَانٍ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: لَا أَعْرِفُ لِلشَّعْبِيِّ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ: أَبُو حَمْزَةَ كَيْفَ هُوَ عِنْدَكَ فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: تَكَلَّمَ فِيهِ وَهُوَ عِنْدِي مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.
ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : ” کیا تمہارے پاس ( کھانے کے لیے ) کچھ ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لاؤ ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی ، ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں ، ¤ ۴- میں نے پھر پوچھا : آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا : احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1841]
قال الشيخ الألباني:
حسن، الصحيحة (2220)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1841) إسناده ضعيف ¤ أبوحمزة الثمالي ثابت بن أبى صفية ضعيف رافضي (تقدم: 46۔45) وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (54/4 ح 6875) فيه سعدان بن الوليد مجھول الحال: لم أجد من وثقه، و روى أحمد(353/3 ح 14807) عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ((نعم الإدام الخل، ما أقفر بيت فى خل .)) وسنده حسن وانظر صحيح مسلم (2052)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18002) (حسن) (سند میں ابو حمزہ، ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مسند احمد (3/353) میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، الصحیحة: 2220)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُبَارَكِ بْنِ سَعِيدٍ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث مبارک بن سعید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1842]
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1839 (تحفة الأشراف: 2579) (صحیح)
|
|
|
36: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْبِطِّيخِ بِالرُّطَبِ
باب: تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ وَقَدْ رَوَى يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھاتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- بعض لوگوں نے اسے «عن هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے ، اس میں عائشہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، یزید بن رومان نے اس حدیث کو عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1843]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (57)، مختصر الشمائل (170)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 45 (3836)، (وأخرجہ النسائي في الکبریٰ)، (تحفة الأشراف: 16908) (صحیح)
|
|
|
37: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ
باب: کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِدٍ.
عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف ابراہیم بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1844]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3325)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 39 (5440)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 23 (2043)، سنن ابی داود/ الأطعمة 45 (3835)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 37 (3325)، (تحفة الأشراف: 5219)، سنن الدارمی/الأطعمة 24 (2102) (صحیح)
|
|
|
38: باب مَا جَاءَ فِي شُرْبِ أَبْوَالِ الإِبِلِ
باب: اونٹ کا پیشاب پینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، وَثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ فَاجْتَوَوْهَا فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: " اشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ أَنَسٍ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے ، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی ، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا : ” اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی انس سے آئی ہے ، ابوقلابہ نے اسے انس سے روایت کی ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسے قتادہ کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1845]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2578)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 72 (صحیح)
|
|
|
39: باب مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَبَعْدَهُ
باب: کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ: ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجُرْجَانِيُّ، قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ الْمَعْنَى واحد، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ يَعْنِي الرُّمَّانِيَّ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: " قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ "، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَأَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ دِينَارٍ.
سلمان فارسی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ” کھانے کی برکت کھانے کے بعد وضو کرنے میں ہے “ ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا اور جو کچھ تورات میں پڑھا تھا اسے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور اس کے بعد وضو کرنے میں ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کو ہم صرف قیس بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اور قیس بن ربیع حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1846]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (168)، مختصر الشمائل (159) //، ضعيف أبي داود (804 / 3761)، ضعيف الجامع الصغير (2331) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1846) إسناده ضعيف / د 3761
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 12 (3761)، (تحفة الأشراف: 4489) (ضعیف) (سند میں قیس بن ربیع ضعیف راوی ہںأ)
|
|
|
40: باب فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ قَبْلَ الطَّعَامِ
باب: کھانے سے پہلے وضو نہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ، قَالَ: " إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَكْرَهُ غَسْلَ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوضَعَ الرَّغِيفُ تَحْتَ الْقَصْعَةِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے تشریف لائے ، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا ، صحابہ نے عرض کیا : کیا آپ کے لیے وضو کا پانی لائیں ؟ آپ نے فرمایا : ” مجھے نماز کے لیے جاتے وقت وضو کا حکم دیا گیا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- علی بن مدینی کہتے ہیں : یحییٰ بن سعید نے کہا : سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا مکروہ سمجھتے تھے ، وہ پیالہ کے نیچے چپاتی رکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1847]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (158)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 11 (3760)، سنن النسائی/الطہارة 100 (130)، وراجع صحیح مسلم/الحیض 31 (374)، (تحفة الأشراف: 5793)، و مسند احمد (1/359) (صحیح)
|
|
|
41: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ فِي الطَّعَامِ
باب: کھانا پر ”بسم اللہ“ پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ أَبُو الْهُذَيْلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: بَعَثَنِي بَنُو مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِصَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ: " هَلْ مِنْ طَعَامٍ؟ 0 " فَأُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ وَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ بِيَدِي مِنْ نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِي الْيُمْنَى، ثُمَّ قَالَ: " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ "، ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ الرُّطَبِ أَوْ مِنْ أَلْوَانِ الرُّطَبِ عُبَيْدُ اللَّهِ شَكَّ قَالَ: فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّبَقِ، وَقَالَ: " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ "، ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِبَلَلِ كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ، وَقَالَ: " يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ الْفَضْلِ وَقَدْ تَفَرَّدَ الْعَلَاءُ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَا نَعْرِفُ لِعِكْرَاشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ.
عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا ، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر لے گئے اور پوچھا : ” کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ “ چنانچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید ( شوربا میں ترکی ہوئی روٹی ) اور بوٹیاں تھیں ، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے ، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے کھانے لگے ، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر فرمایا : ” عکراش ! ایک جگہ سے کھاؤ اس لیے کہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے “ ، پھر ہمارے پاس ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں ، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں گھومنے لگا ، آپ نے فرمایا : ” عکراش ! جہاں سے چاہو کھاؤ ، اس لیے کہ یہ ایک قسم کا نہیں ہے “ ، پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ہتھیلیوں کی تری سے چہرے ، بازو اور سر پر مسح کیا اور فرمایا : ” عکراش ! یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کا وضو ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف علاء بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں ، علاء اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں ، ¤ ۳- ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عکراش کی صرف اسی حدیث کو جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1848]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (3274) // ضعيف سنن ابن ماجة (706) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1848) إسناده ضعيف / جه 3274 ¤ العلاء بن الفضل: ضعيف (تق:5252) وابن عكراش، قال البخاري:لا يثبت حديثه (تق:4321)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 11 (3240)، (تحفة الأشراف: 1006) (ضعیف) (سند میں العلاء بن فضل ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
42: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ
باب: کدو کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَأْكُلُ الْقَرْعَ وَهُوَ يَقُولُ يَا لَكِ شَجَرَةً مَا أَحَبَّكِ إِلَيَّ لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک کے پاس گیا ، وہ کدو کھا رہے تھے ، اور کہہ رہے تھے : اے بیل ! کس قدر تو مجھے پسند ہے ! کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے پسند کرتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں حکیم بن جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1849]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1849) إسناده ضعيف ¤ أبو طالوت: مجھول (تق:8183) والحديث الآتي (سنن الترمذي /الأصل ؛ 1850) شاھد لبعضه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 1719) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو طالوت شامی مجہول راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ فِي الصَّحْفَةِ يَعْنِي الدُّبَّاءَ فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَرُوِيَ أَنَّهُ رَأَى الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: " هَذَا الدُّبَّاءُ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈ رہے تھے یعنی کدو ، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتا ہوں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو دیکھا تو آپ سے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کدو ہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1850]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 30 (2092)، والأطعمة 4 (5379)، و 25 (5420)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 21 (2041)، سنن ابی داود/ الأطعمة 22 (3782)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 26 (3304)، (تحفة الأشراف: 198)، وط/النکاح 21 (51)، سنن الدارمی/الأطعمة 19 (2094) (صحیح)
|
|
|
43: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الزَّيْتِ
باب: زیتون کا تیل کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعَمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عُمَرَ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے ( جسم پر ) لگاؤ ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس حدیث کو ہم صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ معمر سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- عبدالرزاق اس حدیث کی روایت کرنے میں مضطرب ہیں ، کبھی وہ اسے مرفوع روایت کرتے ہیں اور کبھی شک کے ساتھ روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اسے عمر رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ، اور کبھی کہتے ہیں : زید بن اسلم سے روایت ہے ، وہ اپنے باپ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1851]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ درخت شام کی سر زمین میں کثرت سے پایا جاتا ہے، اور شام وہ علاقہ ہے جس کے متعلق رب العالمین کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس سر زمین کو ساری دنیا کے لیے بابرکت بنایا ہے، کہا جاتا ہے کہ اس سر زمین میں ستر سے زیادہ نبی اور رسول پیدا ہوئے انہیں میں ابراہیم علیہ السلام بھی ہیں، چوں کہ یہ درخت ایک بابرکت سر زمین میں اگتا ہے، اس لیے بابرکت ہے، اس لحاظ سے اس کا پھل اور تیل بھی برکت سے خالی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1319)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18436) (صحیح مرسل)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعَمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عُمَرَ.
اس سند سے معمر نے بسند «زيد بن أسلم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، اس میں انہوں نے عمر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1851M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1319)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18436) (صحیح مرسل)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: عَطَاءٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى.
ابواسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے ( جسم پر ) لگاؤ اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے عبداللہ بن عیسیٰ کے واسطہ سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1852]
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (1851)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ)، (تحفة الأشراف: 11860)، و مسند احمد (3/497)، (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی عطا من اہل الشام لین الحدیث ہیں)
|
|
|
44: باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ الْمَمْلُوكِ وَالْعِيَالِ
باب: بال بچوں، خادم اور غلام کے ساتھ کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يُخْبِرُهُمْ ذَاكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَفَى أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيَأْخُذْ بِيَدِهِ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى، فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً فَلْيُطْعِمْهَا إِيَّاهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو خَالِدٍ وَالِدُ إِسْمَاعِيل اسْمُهُ سَعْدٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کا خادم تمہارے کھانے کی گرمی اور دھواں برداشت کرے ، تو ( مالک کو چاہیئے کہ کھاتے وقت ) اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھا لے ، اگر وہ انکار کرے تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے کھلا دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1853]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3289 و 3290)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة (289و 3290)، (تحفة الأشراف: 12935)، و مسند احمد (2/473)، (وراجع: صحیح البخاری/العتق 18 (2557)، والأطعمة 55 (5460)، و مسند احمد (2/283، 409، 430) (صحیح)
|
|
|
45: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ إِطْعَامِ الطَّعَامِ
باب: کھانا کھلانے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَاضْرِبُوا الْهَامَ تُورَثُوا الْجِنَانَ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشَ، وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کا سر مارو ( یعنی ان سے جہاد کرو ) جنت کے وارث بن جاؤ گے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے ابن زیاد کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ، ابن عمر ، انس ، عبداللہ بن سلام ، عبدالرحمٰن بن عائش اور شریح بن ہانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، شریح بن ہانی نے اپنے والد سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1854]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں مذکور یہ سارے کے سارے کام ایسے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے والا اس جنت کا وارث ہو جائے گا جس کا وعدہ رب العالمین نے اپنے متقی بندوں سے کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (3 / 238) // 777 //، الضعيفة (1324) // ضعيف الجامع الصغير (995) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1854) إسناده ضعيف ¤ عثمان الجمحي ليس بالقوي (تق: 4495) ولبعض الحديث شواھد كثيرة جدًا
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14402) (ضعیف) (سند میں عثمان بن عبد الرحمن جمعی ضعیف راوی ہیں، لیکن ”افشوا السلام وأطعموا الطعام“ کا ٹکڑا دیگر صحابہ سے صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَأَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ " قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رحمن کی عبادت کرو ، کھانا کھلاؤ اور سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ ، جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1855]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب تم یہ سب کام اخلاص کے ساتھ انجام دیتے رہو گے یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت ہو تو تم جنت میں امن و امان کے ساتھ جاؤ گے، تمہیں کوئی خوف اور غم نہیں لاحق ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3694)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأدب 11 (3694)، (تحفة الأشراف: 8641) (صحیح)
|
|
|
46: باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعَشَاءِ
باب: رات کے کھانے کی فضیلت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَلَّاقٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَشَّوْا وَلَوْ بِكَفٍّ مِنْ حَشَفٍ فَإِنَّ تَرْكَ الْعَشَاءِ مَهْرَمَةٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَعَنْبَسَةُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عَلَّاقٍ مَجْهُولٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کا کھانا کھاؤ گر چہ ایک مٹھی ردی کھجور ہی کیوں نہ ہو ، اس لیے کہ رات کا کھانا چھوڑنا بڑھاپے کا سبب ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث منکر ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، عنبسہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور عبدالملک بن علاق مجہول ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1856]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (116) // ضعيف الجامع الصغير (2447) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1856) إسناده ضعيف جدًا ¤ محمد بن يعلي: ضعيف، و شيخه عنبسة بن عبدالرحمن: متروك، رماه أبو حاتم بالوضع (تق:6412،5206) وانظر ضعيف سنن ابن ماجه (3355)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 8641) (ضعیف) (سند میں عنبسہ متروک الحدیث راوی ہے)
|
|
|
47: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ
باب: کھانے پر ”بسم اللہ“ پڑھنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ طَعَامٌ قَالَ: " ادْنُ يَا بُنَيَّ وَسَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ وَأَبُو وَجْزَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ.
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا ، آپ نے فرمایا : ” بیٹے ! قریب ہو جاؤ ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ سے «عن أبي وجزة السعدي عن رجل من مزينة عن عمر ابن أبي سلمة» کی سند سے مروی ہے ، اس حدیث کی روایت کرنے میں ہشام بن عروہ کے شاگردوں کا اختلاف ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1857]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: (۱) کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا چاہیئے، اس کا اہم فائدہ جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے، یہ ہے کہ ایسے کھانے میں شیطان شریک نہیں ہو سکتا، ساتھ ہی اس ذات کے لیے شکر یہ کا اظہار ہے جس نے کھانا جیسی نعمت ہمیں عطا کی، (۲) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آداب طعام میں سے ہے کہ اپنے سامنے اور قریب سے کھایا جائے، (۳) چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک رکھا جائے، (۴) اس مجلس سے متعلق جو بھی ادب کی باتیں ہوں بچوں کو ان سے واقف کرایا جائے، (۵) کھانا دائیں ہاتھ سے کھایا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3267)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 7 (3267)، (تحفة الأشراف: 10685)، (وراجع: صحیح البخاری/الأطعمة 2 (5376)، وصحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 13 (2022)، و سنن ابی داود/ الأطعمة 20 (3777)، و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ 10 (32)، وسنن الدارمی/الأطعمة 1 (2062) (صحیح) (”ادْنُ“ کا لفظ صحیح نہیں ہے، تراجع الالبانی 350)
|
|
|
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَمَّى لَكَفَاكُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأُمُّ كُلْثُومٍ هِيَ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم لوگوں میں سے کوئی کھانا کھائے تو «بسم اللہ» پڑھ لے ، اگر شروع میں بھول جائے تو یہ کہے «بسم الله في أوله وآخره» ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1858]
قال الشيخ الألباني:
**
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ سَمَّى لَكَفَاكُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأُمُّ كُلْثُومٍ هِيَ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
اسی سند سے عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چھ صحابہ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے ، اچانک ایک اعرابی آیا اور دو لقمہ میں پورا کھانا کھا لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اس نے «بسم اللہ» پڑھ لی ہوتی تو یہ کھانا تم سب کے لیے کافی ہوتا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1858M]
قال الشيخ الألباني:
**
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
48: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْبَيْتُوتَةِ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ
باب: چکنائی کی بو والے ہاتھوں کے ساتھ سونے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ حَسَّاسٌ لَحَّاسٌ فَاحْذَرُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شیطان بہت تاڑنے اور چاٹنے والا ہے ، اس سے خود کو بچاؤ ، جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو ، پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث «سهيل ابن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1859]
قال الشيخ الألباني:
موضوع، الضعيفة (5533)، الروض النضير (2 / 225) // ضعيف الجامع الصغير (1476) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1859) إسناده ضعيف جدًا (موضوع) ¤ يعقوب بن الوليد: كذاب (تقدم: 172) ولبعض الحديث شواھد صحيحة منھا الحديث الآتي (الأصل: 1860)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 13034) (موضوع) (سند میں یعقوب بن ولید مدنی کذاب راوی ہے، لیکن اس آخری ٹکڑا اگلی حدیث سے صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ الصَّاغَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَاتَ وَفِي يَدِهِ رِيحُ غَمَرٍ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص رات گزارے اور اس کے ہاتھ میں چکنائی کی بو ہو پھر اسے کوئی بلا پہنچے تو وہ صرف اپنے آپ کو برا بھلا کہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے اعمش کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1860]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کھانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لو، کیونکہ نہ دھونے سے کھانے کی بو ہاتھوں میں باقی رہے گی، جو جن و شیاطین کو اپنی طرف مائل کرے گی، اور ایسی صورت میں ایسا شخص کسی مصیبت سے دوچار ہو سکتا ہے، اس لیے سوتے وقت اس کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3297)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأطعمة 54 (3852)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 22 (3296)، (تحفة الأشراف: 12464)، و مسند احمد (2/344)، سنن الدارمی/الأطعمة 27 (2107) (صحیح)
|
|