جامع الترمذي حدیث نمبر: 1809
Jami at-Tirmidhi 1809
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
14: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الثُّومِ مَطْبُوخًا
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: " لَا يَصْلُحُ أَكْلُ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ قَوْلُهُ، وَرُوِي عَنْ شَرِيكِ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ مُحَمَّدٌ الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ صَدُوقٌ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ الضَّحَّاكِ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے ، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے ، یہ علی رضی الله عنہ کا قول ہے ، ¤ ۲- شریک بن حنبل کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1809]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (2512)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1809) إسناده ضعيف موقوف ¤ أبو إسحاق عنعن (تقدم: 107) واختلط ولا يعرف سماع الجراح منه: أقبل اختلاطه أم بعد؟
تخریج دارالدعوہ:
(تحفة الأشراف: 10127) (ضعیف) (سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں)